خلیجی ممالک کی تنظیم خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا ایک اہم مشاورتی سربراہ اجلاس پرسوں پیر سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہو رہا ہے۔ اجلاس میں کئی اہم علاقائی اور عالمی امور پر غور کیا جائے گا۔ تاہم مشاورتی نوعیت کے پیش آئند اجلاس میں سعودی عرب اور بحرین کے درمیان اتحاد کو نئی شکل دینے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
سعودی عرب اور بحرین میں نئے اتحاد کی ضرورت منامہ کو درپیش سیکیورٹی کے مسائل، امن اور امان کے تقاضوں کے تحت بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جی سی سی کے رکن ممالک کے درمیان اتحاد کو یورپی یونین کے درمیان اتحاد کی شکل میں ڈھالنے کے طریقہ کار پر بحث وتمحیص کی جائے گی۔
یورپی یونین کے رکن ممالک کے باہمی اتحاد کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں تمام رکن ممالک داخلی سیاسی نظام میں آزاد اور خودمختار ہیں۔ کوئی رکن ملک کسی دوسرے کے سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔
اجلاس میں ماضی میں ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں خلیجی ممالک کے درمیان ہر سطح پر رابطے بڑھانے، رکن ممالک کے درمیان قربت، علاقائی مسائل کے حل کے لیے ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرنے مختلف پہلوؤں پر کام کیا جائے گا۔
پیر کو شروع ہونے والی جی سی سی سربراہ کانفرنس کے حوالے سے ایک اہم خلیجی شخصیت نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ریاض میں ہونے والے اجلاس مین سعوی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، سلطنت آف عمان، قطر اور بحرین شرکت کریں گے۔
جدہ میں "اسٹریٹیجک اسٹڈی سینٹر" کے چیئرمین انور عشقی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے جی سی سی اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جی سی سی سربراہ اجلاس کا اہم موضوع ایران کی جانب سے کونسل کے بعض ممبر ممالک کو درپیش خطرات کا ازالہ کرنے اور امریکی انخلاء کے بعد عراق میں پائے جانے والے سیاسی خلاء کو پُر کرنے پر بھی غور شامل ہےَ"۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے سعودی عرب کے پڑوسی ملک بحرین میں احتجاجی تحریک چل رہی ہے۔ اس سلسلے میں یہ قیاس آرائیاں عام ہیں کہ اس تحریک کے ڈانڈے ایران سے ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ برس بحرین میں ایک ماہ کی گڑ بڑ کے بعد سعودی عرب نے اپنی افواج بحرین میں داخل کردی تھیں تاکہ کسی بیرونی سازش کے ذریعے خلیجی ممالک میں امن وامان کو تباہ نہ کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ خلیج تعاون کونسل کا قیام سنہ 1981ء میں اس وقت عمل میں لایا گیا تھا جب ایران نے عراق پرحملہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں جی سی سی کو ایک علاقائی بلاک کے اتحاد کی شکل دینے کی کوششیں آج تک جاری ہیں۔ اب اسے یورپی یونین کی شکل میں ایک اتحاد میں ڈھالنے کی مساعی جاری ہیں۔