منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 21 جمادى الثانية 1433هـ - 12 مئی 2012م KSA 21:02 - GMT 18:02

عراق جنگ میں شامی کردار القاعدہ کے لیے سہولت کار کا تھا

دمشق دھماکے شامی انٹیلی جنس کی منصوبہ بندی تھی: سابق القاعدہ رہ نما

ہفتہ 21 جمادى الثانية 1433هـ - 12 مئی 2012م
انطاکیا ۔ محمد زید مستو

عراق میں امریکی اور غیر ملکی فوج کے خلاف لڑنے والے القاعدہ کے ایک سابق کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کے روز شامی دارالحکومت دمشق میں ہونے والے بم دھماکوں میں شامی انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عراق جنگ کے دوران شامی حکومت شدت پسند تنظیم القاعدہ کی معاونت کرتی رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق القاعدہ کے سابق کمانڈر ابو عمر نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس کا کسی نہ کسی شکل میں آبائی تعلق شام کے شہر حلب سے ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تحریک انقلاب کے دوران القاعدہ کا کوئی کردار نہیں۔ جہاں کہیں بم دھماکے ہو رہے ہیں ان میں سرکاری خفیہ اداروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ حال ہی میں دمشق میں ہونے والے دو جڑواں بم دھماکے کافی حد تک سنہ 2005ء میں بیروت کے قریب ہونے والے ان دھماکوں سے مماثلت رکھتے ہیں، جن میں سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری مارے گئے تھے۔

ابو عمر نے دمشق میں ہونے والے بم دھماکوں کے بارے میں مزید کہا ہے کہ ان دھماکوں میں جو تکنیک استعمال کی گئی ہے وہ باغیوں کے طریقہ جنگ سے قطعی مختلف ہے۔ ان دھماکوں میں ابتدائی طور پر جن پندرہ مہلوکین کے نام سامنے آئے تھے وہ تمام حکومتی تحویل میں موجود باغیوں کے حامی افراد کے تھے۔ سرکاری فوج کا یہ دعوٰی غلط ہے کہ وہ قیدیوں کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا چاہتے تھے لیکن باغیوں نے ان کی گاڑیوں پر حملہ کیا۔ باغی کم سے کم اپنے ساتھیوں کی اس طرح بہیمانہ طریقے سے ہلاکت کا نہیں سوچ سکتے۔ یہ دھماکے ایک منصوبے کے تحت کیے گئے تھے جن کا ماسٹر مائنڈ خود شام کی خفیہ ایجنسیاں تھیں۔

القاعدہ کمانڈر نے سنہ 2008ء میں شام کے شہر "القزاز"میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند دینی جماعتوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل ہونے والے ان حملوں میں القاعدہ کے ایک کمانڈر ابو عائشہ نے سیکیورٹی فورسز کی بس کو دھماکے سے اڑانے کی جو ذمہ داری قبول کی تھی وہ دُرست تھی کیونکہ یہ ابو عائشہ ہی کی کارروائی تھی۔ تاہم گذشتہ برس جب شام میں عوامی بغاوت کی تحریک نے سر اٹھایا ہے کہ القاعدہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

عراق جنگ کے دوران دمشق سہولت کار

القاعدہ رہ نما ابو عمر نے کہا کہ عراق پر سنہ 2003ء کو امریکی اور غیر ملکی فوجوں کی یلغار کے بعد شامی حکومت نے القاعدہ کے جنگجوؤں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی تھی۔ جنگ کے اس عرصے کے دوران القاعدہ کے عناصر شام کی سر زمین کو عراق میں داخلے کے لیے استعمال کرتے تھے جس پر کوئی پابندی نہ تھی۔

القاعدہ کمانڈر ابو عمر نے بتایا کہ عراق جنگ کے دوران جب امریکیوں نے شام کو دھمکی دی کہ وہ بغداد کے بعد دمشق کو بھی فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو شامی حکومت نے بڑی تعداد میں عرب جنگجوؤں کو اسلحہ اور بارود شام میں منتقل کرنے اور اتنی بڑی تعداد کو یہاں جمع کرنے کا بھی موقع فراہم کیا تھا۔ اس دوران شامی خفیہ ادارے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے رہے ہیں۔

کئی سال تک شام کی جیلوں میں حراست میں رہنے والے سابق القاعدہ کمانڈر نے بتایا کہ عراق جنگ کے دوران ایک دفعہ میں عراق سے شام میں داخل ہوا تو میرے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں تھا۔ میری شام کے ایک انٹیلی جنس افسر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں القاعدہ کا رکن ہوں تو اس نے مجھے خوش آمدید کہا۔ بعد ازاں اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم "بو کمال" شہر میں اپنے عزیز واقارب سے مل کر آئے ہو، تو میں نے اثبات میں جواب دیا تھا۔ سابق شدت پسند کمانڈر کا کہنا تھا کہ شام کے شہر دیر الزور سے انہیں بسوں کے ذریعے عراق میں لے جایا جاتا اور وہاں سے آنے والوں کو بھی انہی بسوں سے شام کے مختلف شہروں میں منتقل کیا جاتا تھا۔

خیال رہے کہ القاعدہ کمانڈر کی جانب سے دمشق میں ہونے والے بم دھماکوں کا الزام شامی انٹیلی جنس اداروں پر ایک ایسے وقت میں عائد کیا ہے جب ایک غیر معروف شدت پسند گروہ النصرہ محاذ نے دمشق دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک نا معلوم شخص نے انٹرنیٹ پر جاری ویڈیو میں جائے وقوعہ کو دکھانے کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکے ان کی تنظیم "النصرہ فرنٹ" نے کرائے ہیں۔ شامی حکومت نے ان حملوں کی ذمہ داری القاعدہ اور باغیوں پر عائد کی ہے جبکہ باغی اسے سرکاری فوج کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔