مصر کی سپریم انتظامی عدالت نے گذشتہ روز صدارتی انتخابات سے متعلق رولنگ دیتے ہوئے دستوری عدالت کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کی طرف سے بعض صدارتی امیدواروں کے لیے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کو کالعدم قرار دیا تھا۔
عدالت نے سپریم الیکشن کمیٹی کی طرف سے دائر کردہ اپیلیں بھی سماعت کے لیے منظور کر لی ہیں۔ انتظامی عدالت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو کسی بھی امیدوار کے خلاف فیصلہ صادر کرے۔ الیکشن کمیشن ہی کسی امیدوار کو اہل یا نا اہل قرار دینے کا مجاز ادارہ ہے۔ دستوری عدالت کی طرف سے الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف کوئی بھی نیا حکم کسی دوسری عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
" العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق انتظامی عدالت نے سات مارچ 2012ء کو جاری کردہ ایک دوسرے عدالتی فیصلے پر بھی عمل درآمد روک دیا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن ووٹروں کی دائر کردہ درخواست پر کسی صدارتی امیدوار کے خلاف عدالت میں کارروائی کا مجاز نہیں ہو گا، تاہم انتظامی عدالت نے اس سلسلے میں بھی الیکشن کمیشن کی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ان کےخلاف آنے والی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
مصر کے کثیر الاشاعت اخبار "الیوم السابع " کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز قاہرہ میں انتظامی عدالت کے جج اور ریاستی کونسل کے وائس چئیرمین مجدی العجاتی کی سربراہی میں قائم بنچ نے سماعت کے دوارن دستوری عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا، جس میں ووٹروں کے دعوؤں کی بنیاد پر کسی انتخابی امیدوار کے خلاف کارروائی کا مجاز قرار نہیں دیا گیا۔
انتظامی عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے مطابق کسی صدارتی امیدوار کے خلاف آنے والی کسی بھی درخواست پر الیکشن کمیشن کارروائی کا مجاز ہے۔ چاہے وہ درخواست کسی سیاست دان کی طرف سے دائر کی گئی ہو یا کسی عام شہری کی جانب سے لائی گئی ہو۔
درایں اثناء ایک دوسری پیش رفت میں ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے موجودہ عبوری حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اپنا اعلان واپس لے لیا ہے تاہم ساتھ ہی اپنی مد مقابل سلفی جماعت "النور" کی طرف توپوں کا روخ موڑ دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد اُنہیں ملک میں اسلام کے شرعی قوانین کے نفاذ میں کوئی خوف نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں عدل اور مساوات کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسلام سے بڑھ کر کوئی دوسرا سیاسی نظام عدل اور عدل اجتماعی کا حامی نہیں ہے۔
ڈاکٹر محمد مرسی نے ان خیالات کا اظہار سوئیز شہر میں اپنے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا شرعی نظام اپنے اندر ایک توازن رکھتا ہے، جس میں شہری آزادیاں بھی ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کی بھی ضمانت موجود ہے۔ ایسے میں ہمیں اسلام کے شرعی نظام سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ زمام کار ریاست کے لیے جیسا متوازن نظام اسلام فراہم کرتا ہے دنیا کا کوئی دوسرا نظام فراہم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جو سائنس، علم، امن وسلامتی، اقتصادی ترقی اور فکری آزادیوں کا ضامن ہے۔