ایرانی حکام نے مسلکی عدم رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تہران میں منعقدہ عالمی کتاب میلے میں اہل سُنت والجماعت مسلک کے کئی اشاعتی اداروں کو اپنی کتب نمائش کے لیے پیش کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو کتاب میلے کے دوران مختلف اسٹالز سے غیر فارسی اقوام کے بارے میں لکھی گئی کتب اور تاریخ خلیج کے بارے میں لٹریچر ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نجی خبر رساں ایجنسی "موکران" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے گذشتہ جمعرات کو دو ہفتے تک جاری رہنے والے اس عالمی کتاب میلے میں اہل سنت والجماعت مسلک کے تین بڑے اشاعتی اداروں "آراس کردستان"،"حافظ ابرو خراسان رضوی" اور "ایلاف محافظہ فارس" کو عالمی کتاب میلے میں شرکت سے روک دیا تھا۔
ادھر ایک دوسری خبر رساں ایجنسی" سنی نیوز" کی رپورٹ کے مطابق دو دیگراداروں کی کتب کی نمائش پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان میں زاہدان شہر کے"دار الفاروق الاعظم" اور "دارالنشر الصدیقی" شامل ہیں جو اہل سنت والجماعت مسلک کے لوگوں کے مکتبے سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پچیسویں سالانہ کتاب میلے میں اس بار حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کے لیے کڑی شرائط رکھی گئی تھیں۔ لٹریچر اور کتب کی فہرستیں طلب کر کے ان کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کتاب کے اسٹالوں سے ایسی تمام کتب اٹھائی جا رہی ہیں جو غیر فارسی اقوام کے بارے میں لکھی گئی ہیں یا خلیج کی تاریخ پر تحریر شدہ ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام کی طرف سے اہل سنت والجماعت کے نمائندہ اشاعتی اداروں پر پابندی کے نفاذ کے بعد اہل سنت مسلک کے لوگوں کی بڑی تعداد نے میلے میں شرکت کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ جس سے شرکاء کی تعداد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کے اس اقدام کے بعد ملک کے سنی حلقوں میں سخت تشویش اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے چھاپوں کے دوران اب تک کم سے کم 250 مشہور کتب ضبط کر لی ہیں۔ ان میں تاریخ کردستان کے بارے میں لکھی گئی شیعہ مصنف آیت محمدی کی کتاب "کردوں کا سیاسی ماضی"، علامہ ابن الجوزی کی "امثلہ القرآن الکریم"، اور کمال الروحانی کی "حرق الدین المعاصر" نامی کتابیں بھی شامل ہیں۔
حکام نے کئی ترقی پسند مصنفین کو بھی کتاب میلے میں شرکت سے روک دیا ہے۔ ان میں ابراہیم نبوی، محسن کدیور، اکبر کنجی، مسعود بہنود، ماشاء اللہ آجودانی، ہاشم آغا جری اور دیگر مایہ ناز مصنفین شامل ہیں۔ میلے میں ان کی کتب کی نمائش پر بھی پابندی ہے۔