شام میں حالات کو معمول پرلانے کے لئے عرب لیگ اور یو این کے مشترکہ مندوب کوفی عنان کے پیش کردہ منصوبے کی صریح خلاف ورزی جاری ہے۔ سرکاری فوج کے ایک اہلکار کے موبائل فون میں ریکارڈ شدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مظاہر اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ بشار الاسد کے حامی فوجیوں کا شہریوں کے خلاف ظلم و ستم کوفی عنان کے امن منصوبے کا منہ چڑا رہا ہے۔
درایں اثنا شامی اپوزیشن کے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ انہیں اسی فوجی کے موبائل سے ملنے والے مواد کو انہوں نے انٹرنیٹ پر فراہم کیا ہے جس میں دمشق کے مضافاتی علاقے میں اجرتی قاتلوں کو کھلے عام سڑکوں پر مارچ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
شامی شہردوما میں فوجی کمک مسلسل بھیجی جا رہی ہے۔ اسی علاقے میں سرکاری فوجیوں کے حملے جاری ہیں۔ دمشق کے علاقے برزۃ میں جمعہ کے روز شامی فوجی کی گولیوں کا شکار بننے والے افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
بین الاقوامی برادی شامی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل ظاہر کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب اس عالمی مذمت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شامی فوج مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں نے درعا شہر کی فوجی چوکی سے فائرنگ کی اطلاع دی ہے۔ نیز انہی کمیٹیوں نے حمص شہر کی متعدد کالونیوں پر شامی فوج کی گولا باری کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
ادھر حلب کے مضافاتی علاقے سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے پورا علاقہ شدید گولا باری کی لپیٹ میں ہے۔ السویداء شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شہر کے وسط میں حکومت مخالف عوام کی بڑی تعداد نے مظاہرہ کیا، جس میں صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرے کو بین الاقوامی مبصرین شامی فوج کے لئے کھلے چیلنچ سے تعبیر کر رہے ہیں۔