منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 08 شعبان 1433هـ - 28 جون 2012م KSA 18:32 - GMT 15:32

فوجی طیارہ مارگرائے جانے کے ردعمل میں اقدام

شام کی سرحد کے ساتھ ترک فوج تعینات،طیارہ شکن توپیں نصب

جمعرات 08 شعبان 1433هـ - 28 جون 2012م
انقرہ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی پڑوسی ملک شام کے ساتھ واقع اپنی سرحد پر فوجی تعینات اور طیارہ شکن توپیں نصب کررہا ہے۔یہ فیصلہ شام کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک فوجی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

ترکی کے ایک عہدے دار نے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ''میں صوبہ حاتے کی سرحد کے ساتھ فوجیوں کی تعیناتی کی تصدیق کرسکتا ہوں''۔اس عہدے دار نے یہ بھی بتایا کہ طیارہ شکن توپیں بھی سرحد پر نصب کی جارہی ہیں۔

تاہم اس عہدے دار نے ان میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی کہ فوجیوں کو ترکی کے مشرقی صوبوں غازیان تیپ اور سانلی ارفع میں بھی تعینات کیا جارہا ہے۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان نے دوروز پہلے بین الاقوامی فضائی حدود میں شامی فوج کی جانب سے اپنے ملک کا فوجی طیارہ مار گرانے کے اقدام کو اشتعال انگیز اورتباہ کن قرار دیا تھا اور ترک فوج کو شام کی جانب سے سرحدی علاقے میں کسی بھی دراندازی کا جواب دینے کا حکم دیا تھا۔

طیب ایردوان نے منگل کو انقرہ میں اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کے ارکان پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں شام کی جانب سے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر کوئی انتباہ نہیں کیا گیا تھا۔شامیوں نے کسی انتباہ کے بغیر اقدام کیا تھا اور یہ ایک جارحانہ کارروائی تھی''۔

انھوں نے شامی فوج کی جانب سے طیارے پر فائرنگ کو ایک بڑا حملہ قراردیا اور کہا کہ واقعہ پر ترکی کے عقلی ردعمل کو غلطی سے کم زوری نہ سمجھا جائے۔ترکی کی دوستی کی طرح اس کی دشمنی بھی بہت سخت ہوتی ہے۔ ترکی کی مسلح افواج کے جنگی کارروائیوں کے قواعد وضوابط تبدیل کردیے گئے ہیں اور وہ اب شامی سرحد پر کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دیں گی۔

لیکن شام کے اتحادی ملک روس نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی فوج کی جانب سے ترکی کے طیارے کو مارگرانے کے واقعہ کو اشتعال انگیزی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔روس نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا کہ وہ اس واقعہ کو شام کے خلاف کسی سخت اقدام کے لیے جواز کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں۔

ترکی کے نیٹو اتحادیوں نے اپنے ایک اجلاس میں شام کے اس اقدام کی مذمت کی تھی اور اسے ناقابل قبول قرار دیا تھا لیکن نیٹو نے شام کو کسی فوجی ردعمل کی دھمکی سے گریز کیا تھا۔ترکی نے شامی جارحیت کے ردعمل میں ازخود بھی کسی کارروائی کے بجائے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔