منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعرات 08 شعبان 1433هـ - 28 جون 2012م KSA 23:31 - GMT 20:31

نئی شامی حکومت باہر سے مسلط نہیں کی جانی چاہیے: لاروف

بیرونی طاقتیں نہیں، شامی عوام بشار الاسد کی قسمت کا فیصلہ کریں: روس

جمعرات 08 شعبان 1433هـ - 28 جون 2012م
ماسکو ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ شامی تنازعے کے حل کی غرض سے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی بات چیت میں سیاسی تبدیلی کے لیے ایک فریم ورک وضع کیا جانا چاہیے اور اس میں شامی صدر بشارالاسد کو مجوزہ قومی حکومت سے دور رکھنے کی شرط عاید نہیں کی جانی چاہیے۔

انھوں نے ماسکو میں جمعرات کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ''جنیوا میں ہفتے کے روز عالمی ایلچی کوفی عنان کے شام میں نئی عبوری حکومت کے قیام سے متعلق منصوبے پر بحث کے دوران شام کے تمام فریقوں کے درمیان قومی مباحثے کے آغاز کی شرائط وضع کی جانی چاہیے اور اس کے مندرجات پہلے سے ہی وضع نہیں کیے جانے چاہئیں''۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی روس کے لیے قابل قبول ہوگی؟ تو ان کا کہنا تھا کہ شام کی نئی حکومت کی ہیئت ترکیبی کا فیصلہ شامی عوام کو کرنا چاہیے اور یہ حکومت غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔

سرگئی لاروف نے کہا کہ ''ہم شام میں بیرونی مداخلت کی کسی بھی شکل کی حمایت نہیں کرتے۔اسی طرح شامی صدر بشارالاسد کی قسمت کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کو نہیں بلکہ خود شامیوں کو کرنا چاہیے''۔

درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچی ہیں جہاں وہ جمعہ کو روسی وزیر خارجہ سے شام کے بحران کے حوالے سے بات چیت کریں گی اور اس کے بعد دونوں وزرائے خارجہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ کوفی عنان نے شام میں قومی اتحاد کی عبوری حکومت کے قیام کے لیے ایک نیا فارمولا پیش کیا ہے۔روس اور دوسری طاقتوں نے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔اس کے تحت شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندے نئی عبوری حکومت میں شامل ہوں گے۔تاہم اس میں بشارالاسد کا کردار واضح نہیں کیا گیا کہ وہ بدستور صدر رہیں گے یا انھیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔

سرگئی لاروف نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوفی عنان کا نیا منصوبہ کوئی حتمی دستاویز نہیں ہے۔انھوں نے جنیوا میں ہفتے کے روز شامی بحران سے متعلق مذاکرات سے قبل اس کے میڈیا میں افشاء پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے شام سے متعلق اجلاس میں ایران کو شریک نہ کرنے کے فیصلہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے تیونسی وزیرخارجہ رفیق عبدالسلیم کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ ''بلاشبہ ایران دوسرے ممالک کی طرح اس تمام صورت حال میں ایک بااثر کھلاڑی ہے اور میں اسے جنیوا اجلاس سے باہر کرنے کے اقدام کو ایک غلطی خیال کرتا ہوں اور یہ دُہرے معیار کی بھی عکاسی کرتا ہے''۔

واضح رہے کہ کوفی عنان نے جنیوا میں ہونے والے شام رابطہ گروپ کے اجلاس میں ایران کی شرکت پر اصرار کیا تھا اور روس نے بھی اس کی حمایت کی تھی لیکن بعض سفارت کاروں کے بہ قول امریکا ،سعودی عرب اور دوسرے ممالک نے ایران کی جنیوا اجلاس میں شرکت کی مخالفت کی ہے جس کے بعد کوفی عنان نے اسے مدعو نہیں کیا۔

سرگئی لاروف قبل ازیں متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ روس شام میں اصلاحات کے خواہاں کسی بھی فریق کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے لیکن عالمی برادری کو شام میں کسی ایک فریق کو تشدد کا ذمے دار قرارنہیں دینا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ روس کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر عمل پیرا ہے۔

روس اور چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں خونریزی روکنے سے متعلق قراردادوں کو دو مرتبہ ویٹو کرچکے ہیں جس پر عرب ممالک نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا ۔دونوں ممالک شام میں لیبیا کی طرح کسی بیرونی فوجی مداخلت کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کو کسی پیشگی شرط کے بغیر بات چیت کے ذریعے بحران کے حل کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔