مصر کے نو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا ہے کہ عالم عرب کی سلامتی مصر کی قومی سلامتی سے زیادہ اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق کا مسئلہ ہمیشہ مصری قوم کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ میری حکومت میں بھی فلسطین کا مسئلہ اولین ترجیحات میں رہے گا۔
ڈاکٹر محمد مرسی قاہرہ میں اخبارات و جرائد کے مالکان اور ایڈیٹروں کے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ فلسطینی محصور شہر غزہ کی پٹی کے شہریوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مصری صدر نے کہا کہ ‘‘میرے بس میں ہو تو ہم آج ہی محصورین غزہ کے لیے گرما گرما کھانے مہیا کریں’’۔
ڈاکٹر محمد مرسی نے صحافیوں اور ایڈیٹروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘آپ کو اس لیے نہیں بلایا گیا کہ میں آپ کو اس میٹنگ کے ذریعے کوئی نیا پیغام دے رہا ہوں۔ یا آپ کے لیے کوئی نیا ضابطہ اخلاق لے کر آ یا ہوں۔ آپ اپنے کام کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ذرائع ابلاغ ذاتیات پر ہونے والی تنقید کو برداشت کرنے کا چلن عام کرے کیونکہ باہمی احترام اور محبت کے لیے دوسرے کی تنقید کو فراخدلی سے سُننا اور اسے برداشت کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ کے بعد بھی وہ ذرائع ابلاغ کے مالکان اور صحافیوں سے اسی طرح ملتے رہیں گے۔ تاہم جلد ہی ایک بڑی پریس کانفرنس میں وہ اپنی حکومت کے ایجنڈے کا اعلان کریں گے۔
مذہبی پس منظر رکھنے والے مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اخوان المسلمون اور کالعدم قرار دی گئی سابق حکمراں جماعت ‘‘نیشنل ڈیموکریٹک’’ (این ڈی پی) کے ساتھ موازنہ نہ کیا جائے۔
‘‘این ڈی پی’’ ایک غیر جمہوری اور مطلق العنان جماعت تھی۔ جس نے عوام کی کوئی خدمت نہیں کی جبکہ اخوان المسلمون کی بنیاد ہی جمہوری اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے چیف ایڈیٹر صاحبان پر زور دیا کہ وہ ملک کا سیاسی منظر نامہ حقیقی انداز میں پیش کریں تا کہ کھرے اور کھوٹے کی صحیح پہچان کی جا سکے۔
دستوری عدالت کی جانب سے پیپلز اسمبلی کو تحلیل کیے جانے کے فیصلے کو تسلیم کرنے بارے سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا کہ ‘‘میں نے پوری عمر کبھی سپریم دستوری عدالت کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ میں یہ بات زور دے کر کہتا ہوں کہ عدالت قابل احترام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدالت تنہا فیصلے کرے گی یا انتظامیہ کے فیصلے کو بھی شامل کرے گی؟
ملک میں اخوان المسلمون کے فلسفہ و فکر کو رائج کرنے سے متعلق بعض حلقوں کے خدشات اور‘‘اخوانائزیشن’’ کی اصطلاح پر مصری صدر نے کہا کہ اخوان المسلمون کے بارے میں ایسے تاثرات حقائق کو ٹھکرانے کے مترادف ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تنہا اخوان المسلمون قوم کا بیڑا پار نہیں لے جا سکتی۔ پوری قوم کو ہمارا ساتھ دینا ہو گا۔
خواتین سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر مرسی کا کہنا تھا ہماری حکومت عورتوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان جائز مقام و احترام دلائے گی۔ اسلام نے خواتین کو مغرب سے زیادہ حقوق دیے ہیں۔ میں کسی خاتون کو کوئی مخصوص لباس زیب تن کرنے پر مجبور نہیں کروں گا۔ لباس کے معاملے میں تمام عزت ماب خواتین آزاد ہوں گی۔