منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 09 شعبان 1433هـ - 29 جون 2012م KSA 08:50 - GMT 05:50

سروے میں برغوثی کو 37، ھنیہ 33 اور محمود عباس کو 25 فیصد ووٹ ملے

ممکنہ صدارتی امیدواروں محمود عباس اور اسماعیل ھنیہ پر برغوثی کو برتری: سروے رپورٹ

جمعہ 09 شعبان 1433هـ - 29 جون 2012م
مروان برغوثی گذشتہ کئی سال سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں
مروان برغوثی گذشتہ کئی سال سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں
العربیہ ڈاٹ نیٹ

فلسطین میں ہونے والے حالیہ عوامی سروے میں فتح کے اسیر رہنما مروان برغوثی کو فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور غزہ میں حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ پر برتری حاصل ہے۔ فلسطین ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کیے گئے اس عوامی سروے میں عوام نے پیش آئند صدارتی انتخابات میں ممکنہ صدارتی امیدواروں محمود عباس، اسماعیل ھنیہ سے زیادہ مروان برغوثی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

سروے رپورٹ کے نتائج اسرائیلی اخبار ‘‘یروشلم پوسٹ’’ نے شائع کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر صدارتی میدان میں اسماعیل ھنیہ اور محمود عباس کے درمیان مقابلہ ہو تو اس صورت میں محمود عباس کو 49 فیصد اور اسماعیل ھنیہ کو 44 فیصد ووٹ ملیں گے۔ اگر صدارتی میدان میں مروان برغوثی کا نام بھی شامل کر لیا جائے تو اس صورت میں مروان برغوثی 37 فیصد کے ساتھ پہلے، اسماعیل ھنیہ 33 فیصد کے ساتھ دوسرے اور محمود عباس 25 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی جیل میں زیر حراست فتح کے لیڈر مروان برغوثی کو سنہ 1987ء میں شروع ہونے والی پہلی تحریک انتفاضہ کے دوران بڑے پیمانے پر عوامی پذیرائی اس وقت ملی تھی جب انہوں نے مقبوضہ غرب اردن میں تحریک کی قیادت سنبھالی تھی۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے انہیں حراست میں لے کر اردن بدر کر دیا، جہاں وہ سات سال جلا وطن رہے۔

سنہ 1994ء میں وہ دوبارہ اس وقت مغربی کنارے میں داخل ہوئے جب سابق صدر مرحوم یاسر عرفات نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ اوسلو پر دستخظ کئے۔ سنہ 1996ء میں فلسطینی مجلس قانون ساز کے پہلے عام انتخابات میں مروان برغوثی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ سنہ 2004ء کو صہیونی فوج نے انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا۔ تادم تحریر وہ اسرائیلی قید ہیں۔

فتح کی مغرب کی جانب جھکاؤ رکھنے والی قیادت کے برعکس مروان برغوثی کی شناخت ایک مزاحمتی لیڈر کے طور پر کی جاتی ہے۔ اُنہیں فلسطین میں مسلح تحریک مزاحمت کی علامت اور تحریک انتفاضہ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں سے انتقام لینے کے لئے مشہور اسرائیلی وزیر اعظم ارئیل شیرون نے مروان برغوثی کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ‘‘برغوثی کی زندہ گرفتاری پر مجھے افسوس ہے۔ بہتر ہوتا کہ اگر برغوثی کی لاش کو کسی گڑھے سے خاک و خون میں لت پت حالت میں نکالا جاتا’’۔