کوفی عنان جنیوا مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں پُرامید

بشارالاسد کے بیرونی حل کو مسترد کرنے کے باوجود

نشر في:

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے امید ظاہر کی ہے کہ جنیوا میں ہفتے کے روز شامی بحران پر ہونے والے مذاکرات کا اچھا نتیجہ برآمد ہوگا۔

کوفی عنان نے جنیوا میں رائیٹرز ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میرے خیال میں کل ہمارا ایک اچھا اجلاس ہوگا۔میں اس بارے میں پُرامید ہوں''۔اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ان مذاکرات کا قابل قبول نتیجہ برآمد ہوگا۔تاہم انھوں نے اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

مغربی سفارت کاروں کے مطابق روس نے جمعرات کو کوفی عنان کے شام میں قومی اتحاد کی عبوری حکومت کے قیام کے لیے مجوزہ منصوبے میں بعض ترامیم تجاویز کی ہیں لیکن امریکا، برطانیہ اور فرانس نے ان ترامیم کو مسترد کردیا ہے۔ ان سفارت کاروں کے مطابق روس کی تجویز کردہ ترامیم میں شامی صدر بشارالاسد کی رخصتی کی مخالفت کی گئی ہے۔

بشارالاسد نے خود بھی گذشتہ روز ایک بیان میں بحران کے حل کے لیے کسی غیرشامی ماڈل کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تجویز بڑے ممالک یا ہمارے دوست ممالک کی جانب سے پیش کی جائیں،ہم ان کو تسلیم نہیں کرسکتے کیونکہ شامی مسائل کو کیسے حل کرنا ہے،اس حوالے سے جتنا ہم جانتے ہیں اور کوئی نہیں جان سکتا۔

جنیوا میں شام ایکشن گروپ کی کانفرنس سے قبل آج جمعہ کو بھی شامی بحران کے سیاسی حل اور خونریزی کے خاتمے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جارہا ہے اور اس اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز پر کل کانفرنس میں غور کیا جائے گا۔ کانفرنس میں روس اور امریکا کے علاوہ برطانیہ ،چین ، فرانس، کویت اور ترکی کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے گذشتہ روز کہا تھا کہ شامی تنازعے کے حل کی غرض سے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی بات چیت میں سیاسی تبدیلی کے لیے ایک فریم ورک وضع کیا جانا چاہیے اور اس میں شامی صدر بشارالاسد کو مجوزہ قومی حکومت سے دور رکھنے کی شرط عاید نہیں کی جانی چاہیے۔

سرگئی لاروف نے کہا کہ ''ہم شام میں بیرونی مداخلت کی کسی بھی شکل کی حمایت نہیں کرسکتے۔اسی طرح شامی صدر بشارالاسد کی قسمت کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کو نہیں بلکہ خود شامی عوام کو کرنا چاہیے''۔

درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی وزیر خارجہ سے شام کے بحران کے حوالے سے ملاقات کرنے والی تھیں اور اس میں ہونے والی مثبت بات چیت بھی جنیوا کانفرنس پر اثرانداز ہوگی۔

کوفی عنان کے شام میں قومی اتحاد کی عبوری حکومت کے قیام کے لیے تجویز کردہ فارمولے کے تحت شامی صدر اور حزب اختلاف کے نمائندے نئی عبوری کابینہ میں شامل ہوں گے۔تاہم اس میں بشارالاسد کا کردار واضح نہیں کیا گیا کہ وہ بدستور صدر رہیں گے یا انھیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کوفی عنان نے جنیوا میں ہونے والے شام ایکشن گروپ کے اجلاس میں ایران کی شرکت پر اصرار کیا تھا اور روس نے بھی اس کی حمایت کی تھی لیکن بعض سفارت کاروں کے بہ قول امریکا ،سعودی عرب اور دوسرے ممالک نے ایران کی مذاکرات میں شرکت کی مخالفت کی ہے جس کے بعد کوفی عنان نے اسے مدعو نہیں کیا۔