غزہ کی حکمران حماس تحریک نے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے فلسطینیوں کو اعترافات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ان مشتبہ فلسطینیوں نے حماس اور فتح کے سنئیر ارکان کے قتل کے واقعات میں صہیونی دشمن سے تعاون کیا تھا۔
بیس منٹ کی اس فلم کو حماس کے الاقصیٰ ٹیلی ویژن اسٹیشن نے پہلی مرتبہ جمعرات کو نشر کیا تھا اور اس کو حماس کے تحت وزارت داخلہ نے اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا ہے۔ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن نے بھی اس فلم کے بعض حصے دکھائے ہیں۔
فلم میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے ان مشتبہ فلسطینی غداروں کے چہرے سیاہ کردیے گئے تھے اور ان کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی گئی۔وہ اس وقت غزہ میں قید ہیں اور ان پر اسرائیلی سکیورٹی سروسز سے روابط اور اسرائیلی انٹیلی جنس افسروں کو معلومات فراہم کرنے کا الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔
اس دستاویزی فلم کے مندرجات کے مطابق ان فلسطینیوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر اسرائیلی سکیورٹی سروسز نے حماس اور صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے سرکردہ لیڈروں کو قتل کردیا تھا۔
حماس کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت اس کی داخلی سکیورٹی کی ذمے دار پولیس اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی شین بیت کے درمیان ایک خفیہ جنگ جاری ہے۔
حالیہ مہینوں کے دوران حماس نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے اور اس نے خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے کام کرنے والے غداروں کا پیچھا جاری رکھے گی اور ایسے قصورواروں کو سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔