منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: جمعہ 09 شعبان 1433هـ - 29 جون 2012م KSA 20:32 - GMT 17:32

نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد کے صدراسد کے خلاف مظاہرے

شام:اسدی فورسز کی گولہ باری اور لاشیں گرنے کا سلسلہ جاری

جمعہ 09 شعبان 1433هـ - 29 جون 2012م
اردن میں مقیم شامی شہر صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہرے کے دوران نعرے بازی کررہے ہیں۔
اردن میں مقیم شامی شہر صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہرے کے دوران نعرے بازی کررہے ہیں۔
دمشق۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام کے شمالی شہروں پر سرکاری فوج نے حکومت مخالفین کے ٹھکانوں پر گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مزید کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

دارالحکومت دمشق کے علاقوں جبر،کفر سوسہ ،برزہ ،المزہ ، قدسیہ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں جن کے دوران شہریوں نے صدر بشارالاسد کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور انھیں اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ وسطی صوبہ حماہ کے علاقوں الحمیدیہ ، الطمینا اور کفرزیتا ، حمص کے علاقوں الملعب اور الوعار اور درعا کے علاقوں تاثیل اور الیدودہ میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔

شامی کارکنان نے العربیہ کو بتایا کہ سرکاری فوج نے دمشق کے نواح میں واقع قصبے الدوما اور وسطی شہر حمص میں گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے۔شامی فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ملک کے شمالی علاقے میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے سراقبہ پر بھی مخالفین کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کو ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں ایک سو نوے افراد ہلاک ہوگئےتھے۔ان میں ایک سو پچیس عام شہری تھے۔

شمالی شہر ادلب سے تعلق رکھنے والے عمرعبداللہ نامی ایک کارکن نے بتایا ہے کہ ''حلب اور ادلب میں کارروائیوں کے بعد فوج سرحدی دیہات میں دوبارہ منظم ہورہی ہے اور اس علاقے میں یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ سرکاری فوج یکم جولائی سے حلب میں ایک بڑی کارروائی شروع کرنے والی ہے''۔