منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 10 شعبان 1433هـ - 30 جون 2012م KSA 04:35 - GMT 01:35

دوما میں اسد نواز فوج کےہاتھوں شہریوں کا نیا قتل عام

شامی فری آرمی کا دو سرکاری فوجی افسروں کی گرفتاری کا دعویٰ

ہفتہ 10 شعبان 1433هـ - 30 جون 2012م
العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام میں باغیوں کی حامی فری آرمی نے سرکاری فوج کے دو اعلیٰ افسروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حراست میں لیے گئے ایک فوجی افسر کی شناخت بریگیڈئیر جنرل منیر احمد شلیبی اور دوسرے کی کیٹپن فرج شحادہ المقت کے نام سے کی گئی ہے۔

اول الذکر فوجی اہلکار سنہ 2008ء میں صیدانیا جیل میں ہونے والے قتل عام میں بھی ملوث بتایا ہے جبکہ دوسرا بشار الاسد کی فوج میں ایک پائلٹ کے طور پر تعینات تھا۔ دونوں فوجیوں کا تعلق ملٹری انٹیلی جنس میں انسداد دہشت گردی یونٹوں سے بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ جون سنہ 2008ء کو ڈیمو کریٹک فورسز اور سرکاری فوج نے صیدانیا شہر میں قائم ایک فوجی جیل میں اس وقت حملہ کر دیا تھا جب جیل میں موجود اسیران نے سول نافرمانی کا اعلان کیا تھا۔ فوج کے حملے میں درجنوں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس ہولناک واقعے کی ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آئی تھی جس میں بریگیڈئر شلیبی کو بھی نہتے قیدیوں کو گولیاں مارتے اور کیمرے سے مقتولین کی تصاویر اتارتے دکھایا گیا تھا۔

شامی انقلابیوں نے فری آرمی کے ہاں گرفتار کیے گئے دونوں فوجی افسران کی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں سرکاری فوج کے ایک دوسرے افسر بریگیڈئیر جنرل مثقال حسین نعیمی باغی فوج میں شمولیت کا بھی اعلان کر رہے ہیں۔

دوما میں نیا قتل عام

اُدھر دمشق کے نواحی علاقے دوما میں سرکاری فوج کے ہاتھوں شہریوں کے بہیمانہ قتل کی ایک نئی ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہے۔ شامی نشینل کونسل اور باغیوں کے میڈیا سینٹر کی جانب سے قتل عام کی نئی واردات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سرکاری فوج کے ہاتھوں دوما میں گولیاں مار کر 44 افراد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ مارے جانے والوں میں بچے، عورتیں اور معمر شہری
بھی شامل ہیں۔

دوما قتل عام کی ایک ویڈیو ‘‘العربیہ’’ کو بھی موصول ہوئی ہے۔ ویڈیو سے یہ معلوم نہیں ہو پا رہا ہے کہ قتل عام میں کون ملوث ہے اور نہ ہی کسی فریق نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم باغیوں نے دوما میں ہوئے قتل عام کی ذمہ داری سرکاری فوج پر عائد کی ہے اور اسے بشار الاسد کے انسانیت کے خلاف مظالم کا تسلسل قرار دیا ہے۔

قبل ازیں شام میں جنرل انقلاب کونسل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ شام کے شہر دوما میں سرکاری فوج نے ھاون راکٹوں اور ٹینکوں سے راکٹ باری شروع کر رکھی ہے جس کی وجہ سے دوما کے شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ گولہ باری سے درجنوں افراد مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہیں اور بڑی مقدار میں ادویات اور خوراک کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔

ادھر شام میڈیا سینٹر کے مطابق حماۃ شہر میں 30 فوجی بغاوت کے بعد فری آرمی میں شامل ہو گئے۔ حماۃ میں گذشتہ چند روز سے جاری گھمسان کی لڑائی میں کم سے کم ایک سو بیس افراد مارے جا چکے ہیں۔ مہلوکین میں بیشتر عام شہری، خواتین اور بچے شامل ہیں۔