منگل 07 جمادى الأولى 1434هـ - 19 مارچ 2013م
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 10 شعبان 1433هـ - 30 جون 2012م KSA 04:47 - GMT 01:47

بنگلہ دیش میں پناہ گزین مہاجرین کسمپرسی کا شکار

برما: مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی جاری 250 شہید، 500 زخمی لاکھوں بے گھر

ہفتہ 10 شعبان 1433هـ - 30 جون 2012م
منامہ ۔ محمد العرب

برما میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ‘‘ماگ’’ کی جانب سے مسلمان آبادی پر مسلط کی گئی جارحیت میں اب تک کم سے کم 250 مسلمان شہید، 500 زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک برمی مندوب محمد نصر نے ‘‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’’ کو ٹیلیفون پر بتایا کہ مسلمانوں پر مسلط کی گئی جارحیت میں تین سو افراد تا حال لاپتہ ہیں جبکہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کرنے والے ہزاروں افراد کو خوراک اور بنیادی اشیاء کی قلت کے باعث سخت مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

محمد نصر نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ‘‘ماگ’’ ملیشیا کے دہشت گردوں نے برما میں مسلمانوں کے 20 دیہات اور 1600 مکانات نقشے سے مٹا دیے ہیں، جس کے باعث لاکھوں کی تعداد میں شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کی جائیدادوں کو کھلے عام پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماگ ملیشیا کے حملوں سے مسلمان اکثریتی صوبہ اراکان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شہری سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں، تاہم بنگالی حکام کا رویہ بھی معاندانہ ہے۔ ‘‘ماگ’’ کے دہشت گردوں سے جان بچا کر بنگلہ دیش جانے والے مسلمانوں کی کشتیوں کو بنگالی پولیس واپس کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود کم سے کم تین لاکھ افراد بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں پہنچ چکے ہیں۔

برما میں الرھنجیا نامی مسلمانوں کے ایک بڑے قبیلے کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والی تنظیم کے چیئرمین الشیخ سلیم اللہ حسین عبدالرحمان نے ‘‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’’ کو بتایا کہ اراکان اور برما کے دوسرے علاقوں سے مسلمانوں پر ہونے والے یہ حملے، ہلاکتیں اور ھجرت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنہ 1978ء میں بھی مسلمان آبادی پر ہونے والے حملوں کے بعد تین لاکھ مسلمان بنگلہ دیش پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ سنہ 1982ء میں برما کی حکومت نے مسلمانوں پر ایک اور بم اس وقت گرایا جب اس نے ملک میں موجود تمام مسلمانوں کو اپنے شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ برما میں موجود تمام مسلمان تارکین وطن ہیں۔ انہیں یہاں پر شہریت نہیں دی جا سکتی۔

سنہ 1992ء کو برما کی حکومت کے حکم پر پولیس نے بنگلہ دیش سے واپس جانے والے تین لاکھ شہریوں کو دوبارہ بنگلہ دیش میں دھکیل دیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلمانوں کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پچیس سال قبل برما کی حکومت نے ایک خاتون اور تیس سال قبل ایک مرد کو وہاں پر شادی سے بھی روک دیا تھا۔

بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کرنے والے برما کے شہریوں کو عالمی امدادی اداروں کی جانب سے بھی خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کی گئی۔ خیمہ بستیوں میں صفائی کے فقدان کے باعث ملیریا اور دست جیسے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ شہریوں کوصاف پانی اور خوراک کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔

برما میں گذشتہ کئی ہفتوں سے مسلمانوں کےخلاف دہشت گردوں کی کارروائیوں کے باوجود عالم اسلام کی جانب سے کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بعض ممالک میں مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ پاکستان میں کل جمعہ کے روز جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر برما کے مسلمانوں سے یکجہتی کے لیے مظاہرے اور جلسے جلوس نکالے گئے۔