ایرانی دارالحکومت تہران میں اہلِ سُنت مسلک کی ایک مسجد بھی نہیں: عبداللہ مہتدی
سُنی پاکستانی اور سعودی سفارت خانوں میں نماز کی ادائی پر مجبور
ایران میں حکومت مخالف کردوں کی نمائندہ جماعت "کوملہ" کے سربراہ عبداللہ المہتدی نے انکشاف کیا ہے کہ دارالحکومت تہران میں اہلِ سنت والجماعت مسلک کے لیے کوئی ایک مسجد بھی موجود نہیں ہے۔ دارالحکومت کے سنی مسلمان نماز ادائی کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے سفارت خانوں میں جانے پر مجبور ہیں۔
ایرانی کُرد لیڈر نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام 'پوائنٹ آف آرڈر' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں سخت گیر شیعہ حکومت نے ملک کے کردوں اور دیگر اقوام کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں۔ اُنہیں مذہبی آزادیاں حاصل ہیں اور نہ ہی آزادی اظہار رائے کا حق دیا جاتا ہے۔ لوگ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلتے ہیں تو فوج اور پولیس ان پر درندوں کی طرح جھپٹ پڑتی ہے۔ المہتدی نے ایرانی کردوں کی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات کا اعتراف کیا اور اپنی قوم کے مختلف دھڑوں پر باہمی اتحاد اور یگانگت پر زور دیا۔
ایران میں کیسا نظام حکومت کامیاب ہو سکتا ہے، تو عبداللہ المہتدی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہمارے ہاں ایک ایسا وفاقی نظام حکومت جس میں تمام قومی دھاروں کو ان کی حیثیت اور تعداد کے مطابق نمائندگی دی جائے۔ اس سلسلے میں تمام اقوام کی نمائندہ حکومت کے قیام کے لیے ایک جغرافیائی فیڈریشن کی تجویز بھی قابل عمل ہے"۔
ایران میں سیاسی نظام کی تبدیلی کے لیے غیر ملکی مداخلت سے متعلق سوال پر کرد لیڈر نے کہا کہ وہ عوام کے ذریعے حکومت بدلنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔
ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کےبارے میں حکومت کی موجودہ پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کرد لیڈر نے کہا کہ تہران پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستی کے فروغ میں ناکام رہا ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران پڑوسی ممالک کو اپنے قریب لانے اور ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ انہوں نے ایران کی جانب سے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو بھی مسترد کر دیا۔