سعودی عرب میں دنیا کے پہلے اونٹ کلب کے قیام کا اعلان
عظیم جانور کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے گا
سعودی عرب میں اونٹ مالکان کے لیے دنیا بھر میں اپنی نوعیت کے پہلے ''کیمل کلب'' کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔
سعودی روزنامے عرب نیوز میں بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس کلب کے قیام کا مقصد ملک میں موجود قریباً نولاکھ اونٹوں ،ان کے خصائص ،کھانے کی عادات اور عرب صحراؤں میں ان کے زندہ رہنے کے طریقوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔
کلب کے بانی حمودالقحطانی کا کہنا ہے کہ ''ہم اونٹوں سے محبت کرنے والوں اور ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو اس عظیم جانورکی مختلف نسلوں اور ان کے رنگوں کے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہیں''۔
انھوں نے کہا کہ ''اونٹوں کی دیکھ بھال اور ان کی دوڑ سعودی عرب میں دو بڑے مشغلے ہیں۔اس طرح کے کلب کے قیام کے ذریعے ہم اونٹوں کے تمام محبّتیوں کو اکٹھے کرنا اور مشترکہ سرگرمیوں کو منظم کرنا چاہتے ہیں''۔
سعودی اخبار کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کلب کب معرض وجود میں آئے گا۔البتہ بعض اونٹ مالکان نے اس کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذریعے انھیں اونٹوں کے بارے میں بہتر طور پر جاننے اور ان سے نئی نئی معلومات کے تبادلے کا موقع ملے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب میں اونٹوں کا مقابلہ حسن منعقد کیا گیا تھا۔اس میں سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور دوسرے خلیجی ممالک سے مختلف نسلوں کے تیرہ ہزار اونٹ شرکت کے لیے لائے گئے تھے۔
سعودی عرب میں مختلف نسلوں اور رنگوں کے قریباً نولاکھ اونٹ پائے جاتے ہیں۔متحدہ عرب امارات میں تین لاکھ اسّی ہزار اونٹ ہیں اور اومان میں سوا لاکھ اونٹ پائے جاتے ہیں۔ان کے مقابلے میں دوسرے خلیجی ممالک کویت، قطر اوربحرین میں اونٹوں کی کم تعداد پائی جاتی ہے۔ان کے علاوہ ایران ،پاکستان اور افغانستان میں مختلف نسلوں کے اونٹ پائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد کے بارے میں مصدقہ اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔