شام میں برفباری سے ملک میں غذائی مواد کی شدید قلت
خوراک کی تقسیم پر شامی حکومت کی پابندی
مشرق وسطی میں سردی کی سخت لہر اور برفباری کے باعث شام میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں غذائی مواد کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پانچ لاکھ شامی غذائی مواد کی قلت کے باعث قحط جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خطے میں طوفانی برفباری سے شامی مہاجر کیمپوں اور اندرون ملک رہنے والے لاکھوں شہریوں کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
بشار الاسد کی گولا باری کے عذاب سے موسمی شدت اور حالیہ بارشوں، یخ بستہ طوفانی ہواؤں سے شامی مہاجرین کے ترک اور اردن کی سرحدوں کے قریب پناہ گزین کیمپ انسانی رہائش کے قابل نہیں رہے۔ بڑی تعداد میں خیمے بارش کے طوفانی ریلیوں میں بہہ گئے ہیں۔ خیموں کے بہہ جانے سے ان میں مقیم شامی شہری کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انٹرنیشنل فوڈ پروگرام کی ترجمان الزبتھ پایرز کہ موسی شدائد سے متاثرہ علاقوں میں خوراک اور بنیادی ضرورت کی دیگر اشیاء میں کمی کا اصل سبب بشار الاسد حکومت کی ان علاقوں میں امدادی اداروں کو محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی خوراک پروگرام شام میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کو ماہانہ غذائی امداد فراہم کر رہا ہے۔
شام کے بعض علاقوں میں ستر سینٹی میٹر سے زاید برف پڑ چکی ہے۔ ملک کے ستر فیصد شہروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ ایسے میں عوام ایندھن اور آئے جیسی بنیادی ضرورت کو ترس رہے ہیں۔