جنگ سے شام کی تقسیم کا خطرہ بڑھ رہا ہے: بین کی مون
جیش الحر کے سربراہ کا اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری خونریز تشدد کے نتیجے میں ملک کی تقسیم کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں جبکہ باغی فوج کے سربراہ نے عالمی برادری سے شامی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے ہتھیار مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بین کی مون نے جمعہ کو جنیوا میں ایک بیان میں کہا کہ ''شام میں بحران کا فوجی حل شام کی تقسیم کی جانب بڑھ رہا ہے''۔ انھوں نے شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ دو سال سے جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے نئے سرے سے امن کوششوں کی ضرورت پر زور دیا''۔
انھوں نے کہا کہ ''دوسال ہونے کو آئے ہیں۔ ہم نے تبدیلی کے خواہاں لوگوں کی امنگوں کو جبرو تشدد کا شکار ہوتے دیکھا ہے، لوگوں کی بڑی تعداد بے گھر ہو گئی ہے، ہلاکتوں ،جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے''۔
بین کی مون نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار جنگ سے متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں لیکن ہمیں شام یا کسی اور جگہ پر انسانیت کو سخت انتخاب سے بچنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
انھوں نے شام کے تمام فریقوں پر زوردیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔انھوں نے عالمی برادری پر بھی زوردیا کہ وہ شامی تنازعے سےاپنی توجہ کو ہٹائے نہیں۔
درایں اثناء روس کے صدر ولادی میر پوتین نے اپنے امریکی ہم منصب براک اوباما سے ٹیلی فون پر شام کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔کریملن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ٹیلی فون کال واشنگٹن کی جانب سے کی گئی تھی۔
اس اطلاع کے منظر عام پر آنے سے ایک روز قبل امریکا نے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کو پہلی مرتبہ چھے کروڑ ڈالرز مالیت کی خوراک ،ادویہ سمیت غیر مہلک امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گذشتہ روز روم میں شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ باغیوں کی سپریم فوجی کونسل کو ادویہ اور خوراک مہیا کی جائے گی اور یہ براہ راست امداد ہوگی۔انھوں نے کہا کہ ''تمام شامیوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ ان کا مستقبل ہو سکتا ہے''۔
لیکن شامی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ انھیں کھانے پینے کی اشیاء کے بجائے صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔جیش الحر کی سپریم ملٹری کونسل کے چیف آف اسٹاف جنرل سلیم ادریس نے کہا کہ باغیوں کے لیے خوراک کے امدادی پیکج سے انھیں صدر بشار الاسد کے خلاف لڑائی جیتنے میں مدد نہیں ملے گی۔
انھوں نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ ''ہمیں کھانے پینے کی اشیاء اورکپڑوں کی ضرورت نہیں ہے۔جب ہم زخمی ہو جاتے ہیں تو پھر ہم مرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں صرف اور صرف ہتھیاروں کی ضرورت ہے''۔
جنرل ادریس نے کہا کہ ''ہمیں ٹینک شکن اور طیارہ شکن میزائل درکار ہیں تاکہ ہم بشار الاسد کی قاتل حکومت کو عوام کے قتل عام سے روک سکیں۔پوری دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے اور ہم کیا مانگ رہے ہیں مگر اس کے باوجود وہ شامی عوام کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں''۔
لیکن عالمی برادری ماضی میں باغی جنگجوؤں کو مہلک ہتھیار مہیا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی رہی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو اس وقت شام کے مختلف علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک کو یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ اس سے شام میں جاری خانہ جنگی پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتی ہے۔