پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
جمعه 16 ذو القعدة 1429هـ - 14 نومبر 2008م

اسرائیلی بنیاد پرستوں کی پریشانی

 

منو بھائی

امریکہ کی” لنگڑی بطخ“ دو ماہ بعد سابق ہوجانے والے صدر جارج ڈبلیو بش نے یہ سوچ شائد اسرائیل کے بنیاد پرستوں اورانتہا پسندوں سے لی ہوگی کہ جو ہمارے ساتھ نہیں ہے وہ ہمارے خلاف ہے، جو ہمارا دوست نہیں ہے وہ ہمارا دشمن ہے، جو آنکھیں بند کرکے ہمارے پیچھے پیچھے نہیں چل رہا وہ ہمارے دشمنوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ یہ حقیقت ایک صیہونی اخبار(Gideon Levy) کےایک ادارئیے سے ظاہر ہوتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے کٹر یہودی بنیاد پرستوں کو امریکہ کے نومنتخب صدر بارک حسین اوباما کے اس بیان سے ازحد تکلیف پہنچی ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کی صورت میں دو مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ممالک ایک دوسرے کے پہلو میں پرامن طور پر سانس لیتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسرائیل کے صیہونیوں کو بارک اوباما کے اس بیان سے اندیشہ یا خطرہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں کا قبضہ غاصبانہ چھوڑ دینے پر مجبور کیا جائے گا اور اسرائیل کو فلسطین کے ساتھ امن کے مذاکرات کرنے اور انہیں مثبت انداز میں کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے گا اور صیہونی اس نوعیت کے کسی کار خیر میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کے خیال میں اگر یہودیوں کو عربوں کے ساتھ پرامن انداز میں پڑوسیوں کے طور پررہنا تھا تو پھر اسرائیل بنانے اور عربوں کے سینے میں صیہونی خنجر اتارنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

مذکورہ بالا اسرائیلی اخبار کے مطابق”جب کسی کو اسرائیل کا دوست قرار دیا جاتا ہے تو اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ فلسطین ،اردن اور شام کے علاقوں پراسرائیل کے زبر دستی اور غاصبانہ قبضے کا حامی ہے اور اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو پسند کرتا ہے۔ اسرائیل کے دوستوں کے لئے یہ بھی ضروری اور لازمی ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل کے صیہونیوں کے فلسطینیوں پر مظالم کو انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق سمجھتے ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کے احتجاج کو برداشت نہیں کرتے بلکہ ان مظالم اور جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے دوستوں کا یہ معیار اور دوستی کا یہ تقاضہ اگر کوئی پورا کرتا دکھائی دیتا تھا تو وہ امریکی صدر جارج واکر بش ہے۔

امریکہ کے نئے صدر بارک حسین اوباما اگر جارج ڈبلیو بش کے قدموں کے نشانوں پر پاؤں رکھتے ہوئے چلنے کا مظاہرہ کریں گے تو انہیں اسرائیل کا دوست سمجھا جائے گا اور اگر وہ اسرائیل پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے تواسرائیل کے بدترین دشمن سمجھے جائیں گے۔دنیا کے بہت سے مسلمان ملکوں نے مستقبل قریب کےامریکی صدر بارک حسین اوباما کی طرف سے مقرر کئے جانے والے چیف آف دی سٹاف کے حوالے سے کچھ خطرے یا اندیشے محسوس کئے ہیں مگر اسرائیل کے بنیاد پرست یہودیوں نے اس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بھی بارک حسین اوباما کے ظاہر کردہ ارادہ کو کچھ زیادہ پسندنہیں کیا۔ ان کاکہنا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے کہ جس نے امریکہ کی طرح اور جارج ڈبلیو بش جیسی اسرائیل دوستی کامظاہرہ کیا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم کے دفتر اور گھر کی وسطی یا مرکزی دیوار پر بش کی تصویر آویزاں ہے۔ دنیا کا کوئی اور حکمران ایسا نہیں ہوسکتا کہ جس نے اسرائیل کی دوستی کی خاطر نہ صرف اپنے اصولوں کو قربان کردیا ہوگا بلکہ اپنے ملک کی شہرت اور نیک نامی کو بھی قربان کردیا ہوگا اور ملک کے مالیاتی اور کمرشل بحران کو سال1928ء کے بحران سے بھی زیادہ خطرناک اور ہمہ گیر بنادیا ہوگا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم اگر واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں جارج ڈبلیو بش کو سلام کرنے کے لئے جاتے ہیں تواس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جارج ڈبلیو بش اسرائیل کے دوست ہیں اور دوست بھی ایسے کہ جو کوئی لگی لپٹی اٹھا نہیں رکھتے اور نہایت عریاں بلکہ ننگی حالت میں اسرائیل کا ساتھ دیتے ہیں۔ انہوں نے صرف اسرائیل کے بہترین مفاد میں لبنان کے ساتھ جنگی”پنگا“ لینے سے بھی گریز نہیں کیا اور اس میدان میں اپنی شکست فاش کو بھی برداشت کرلیا۔

انہوں نے اسرائیل کے بہترین مفاد میں فلسطین، اردن اور شام کے علاقوں میں ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کی بھی اجازت دے دی۔ جارج ڈبلیو بش اسرائیل کے بہترین مفاد میں اسرائیل کی فوجوں کو ایران پر ایٹمی حملہ کی درپردہ اجازت بھی عطا فرما سکتے تھے ۔ جارج ڈبلیو بش کی اسرائیل دوستی کا نمایاں ثبوت ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو کبھی فلسطین کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کامشورہ نہیں دیا۔ کسی اسرائیل کو ادارہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کرنے کی بات بھی نہیں کی۔

اخبار نے موجودہ امریکی صدر کے اسرائیل کے دوست ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی پیش کیا ہے کہ انہوں نے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے قبضے کونظرانداز کرتے ہوئے پسند فرمایا اور بالواسطہ طور پر حمایت کر دی اور پھر اسرائیل کے بہترین مفاد میں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کا بائیکاٹ کر دیا اور ان کی فلسطین حکومت قائم ہونے نہیں دی۔ یہی وہ انداز ہے جس کی پیروی اور تقلید کرنے والوں کو اسرائیل کا دوست سمجھا جا سکتا ہےاور اگر بارک حسین اوباما اسرائیل پر مشرق وسطیٰ میں امن و امان کے حالات قائم کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں گے تو وہ اسرائیل کے دوست کی بجائے اسرائیل کے دشمن سمجھے جائیں گے۔

اخبار نے لکھا ہے اور واضح طور پر لکھا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری اور شہریوں کے حقوق کی حفاظت کی پابندی صرف اور صرف فلسطینیوں اور غزہ کی پٹی تک محدود فلسطینی حکومت پر عائد کی جا سکتی ہے جبکہ اسرائیل کے خود اپنے انسانی حقوق اور شہری حقوق ہیں جو فلسطین اورافریقی ممالک کے باشندوں کے حصے میں نہیں آسکتے۔ اخبار کے مطابق پوری دنیا کو جان لینا چاہئے کہ مشرق وسطیٰ میں اگر کہیں کوئی جمہوریت ہے تو اسرائیل کے جغرافیائی حدود کے اندر ہے اور ان جغرافیائی حدود کے فیصلے کا اختیار بھی اسرائیل کے صیہونی حکمرانوں کو ہے۔ ان معاملات میں دنیا کی واحد اور اکلوتی سپرپاور کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: