پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
اتوار 07 محرم 1430هـ - 04 جنوری 2009م

دنیا ہےعجب چیز کبھی صبح کبھی شام

 

سلیم یزدانی

امریکہ نے اسرائیل اور بھارت کے ساتھ ملکر ممبئی میں دھماکوں کی جو سازش کی تھی اور پاکستان کو اس سازش کے جال میں جس طرح پھنسانا چاہا تھا اس میں وہ ناکام ہو گیا۔ اب تو بھارت کا پریس اور میڈیا بھی کہہ رہا ہے کہ ممبئی کے حملے امریکی و اسرائیلی سازش تھے۔ ایڈوانی، موساد، چھوٹا راجن، مالی گاؤں حملوں کی تحقیقات سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کی دہشت گردی میں بھارتی فوج کے حاضر افسران شامل تھے وہ دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے تھے۔

یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ ممبئی حملوں کا آپریشن پوری طرح شروع نہیں ہوا بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے اشاروں اور اطلاعات پر بھارت نے اس کا الزام پاکستان کے سر منڈھ دیا امریکہ نے فوری اس کی حمایت کر دی اور نہ صرف یہ بلکہ لشکر طیبہ کے خلاف پابندیاں لگوانے میں اہم رول ادا کیا۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے امریکی اور بھارتی حکومتیں اور میڈیا حد سے گزر گیا۔ جھوٹی خبروں اور رپورٹوں کے انبار لگ گئے۔ شاید بھارت اور امریکہ کی حکمت عملی یہ تھی کہ پاکستان پابندیوں پر چراغ پا ہو جائے گا پھر وہ اگلا قدم بڑھائیں گے اور یہ الزام لگائیں گے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے ان کی حمایت کر رہا ہے لیکن ان کی تدبیریں اور سازشیں ناکام ہو گئیں آج بھارت اسی قوت سے پیچے ہٹ رہا ہے جس قوت و تیزی سے اسے آگے بڑھایا جا رہا تھا وہ خود اپنے دام میں پھنس گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک اسٹرٹیجک پلاننگ تھی کہ بھارت اور پاکستان کو لڑایا جائے اور اسی دوران اسرائیل غزہ پر حملہ کرے اور دنیا کی ساری توجہ ادھر دو ایٹمی قوتوں کی جنگ پر ہوگی ادھر کوئی دھیان نہیں دے گا اور اسرائیل اپنا کام کر گزرے گا لیکن سارا منصوبہ الٹ گیا۔ دنیا کے بڑے ملک جس طرح اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں اور روس و چین جس طرح عالمی سطح پر ابھر رہے ہیں یہ 2009ء کے شروع ہوتے ہی امریکہ کے لئے بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ گزشتہ آٹھ سال میں امریکہ کی غلط پالیسیوں نے ساری دنیا کو مصیبتوں میں پھنسایا اور وہ خود بھی قوموں کے درمیان نفرتوں میں پھنس گیا۔ امریکہ میں جس طرح اس کی اکانومی کریش ہوئی ہے اس سے پہلے ویتنام کی جنگ کے بعد بھی نہیں ہوئی تھی۔ اسرائیلی حملوں میں 400 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے اسرائیل نے امریکہ کی سرپرستی میں اور اس اجازت سے غزہ پر حملہ کیا اور اس نے یہ حملہ اس لئے کیا ہے کہ حماس کو ہیمشہ کے لئے ختم کر دے لیکن یہ بھی توہو سکتا ہے کہ حماس پہلے سے زیادہ طاقتور ہو جائے لبنان میں حزب اللہ کو بھی وہ ختم کرنے گئے تھے لیکن ہوا اس کا الٹ۔

2009ء کی پیش منظر امریکہ کے لئے ایک برا خواب ثابت ہوگا۔ عراق میں تنازع کم ہونے کے بجائے بڑھے گا افغانستان میں طالبان اس کے لئے ایک بڑا چیلنج بن جائیں گے۔ روس کے سیاسی اثرات ایک بار پھر بڑھ جائیں گے۔ ایران میں اس کے اثرات پہلے سے ہیں اور امریکہ ایران کشیدگی میں روس اپنے موقف پر قائم رہا ہے روس اور چین دونوں ایران کے حمایتی ہیں پاکستان نے بھی ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی لاجسٹک سپورٹ دینے سے انکار کر دیا تھا آئندہ امریکہ کے لئے یہ نہ ممکن ہو گا کہ وہ کسی بھی جنگ کے لئے روس، چین، فرانس، جرمنی جیسے ملکوں کی حمایت حاصل کر سکے اور اسے کسی بھی ملک کے خلاف حملہ کرنے کا قانونی اختیار مل جائے۔ روس اس وقت مسلم ملکوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ریشین فیڈریشن کی آبادی میں 15فی صد آبادی مسلمانوں کی ہے اس کی خود مختار مسلم ریاستوں میں اب بھی اس کے گہرے اثرات ہیں۔ روس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بھی مسلم دنیا کا ایک ملک ہے۔ ولادی میرپوٹن اس سوچ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ روس کی معیشت اب مضبوط ہو چکی ہے انہوں نے ماضی سے سبق حاصل کیاہے وہ اس انتظار میں نہیں کہ افغانستان میں پھنسے ہوئے امریکہ کی غلط فوجی حکمت عملی اسے مزید افغانستان کی دلدل میں پھنسائے اور وہ افغانستان میں اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لئے اقدامات کرے۔ افغانستان میں جنگ کا دائرہ بڑھ کر شمالی افغانستان تک پہنچ جائے گا اس لئے کہ آئندہ امریکہ اور نیٹو افواج کی لاجسٹک سپورٹ کا راستہ وہیں سے ہو کر آئے گا اس لئے جنگ کے شعلے اور اس کی تباہ کاری بڑھ جائے گی۔ امریکہ کی جنگی حکمت عملی پاکستان کی سپورٹ کے بغیر ناکام ہو جائے گی امریکہ 2009ء کے آخر تک اس پوزیشن میں نہیں رہے گا کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈال سکے۔

امریکہ کتنی ہی بڑی قوت کیوں نہ ہو وہ ایک ساتھ وینزویلا، مشرق وسطیٰ ، ایران اور یورپ میں سر ابھارتے ہوئے خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ روس تیزی سے سفارتی پیش قدمی کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے جارجیا کے خلاف اس نے کارروائی کرکے امریکی مفادات پر کاری ضرب لگائی ہے جنوب ایشیا میں روس نے اپنی موجودگی کا امریکہ کو احساس دلا دیا ہے روس اور چین بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں اور وہ کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ پاکستان ساری دنیا کے لئے اہم ملک ہے اس پیش منظر میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی کی پالیسی میں بڑی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور اس کے آثار بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کو صنعتی انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، زرعی معیشت پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ بھارت اور پاکستان دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنوب ایشیا میں طاقت کے توازن کا خلاء پیدا نہ ہونے دیں جس سے فائدہ اٹھا کر امریکہ اس خلاء کو پر کرنے کی کوشش کرے۔

کیا آئندہ بھی یہی ہوتا رہے گا کہ غزہ میں اسرائیل، فلسطینی عربوں کا قتل عام کرتا رہے اور اکیس عرب ملک تماشہ دیکھتے رہیں۔ کیا ان میں ایک بھی ایران نہیں مسلم ممالک کو ”دو قطبی دنیا“ کو وجود میں لانے کے لئے روس اور چین کی کوششوں کو ساز گار بنانے کی ضرورت ہے ایران جیسی جرأت مندی کی ضرورت ہے پاکستان کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور آج جو سیاسی پارٹیاں نان ایشوز کو ایشو بنا کر سیاست کر رہی ہیں انہیں اپنا رویہ بدلنا چاہئے کہ اس وقت پاکستان کو ہر سطح پر اتحاد اور تبدیلی لانے کے لئے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا اور علامہ اقبال کے اس فلسفے کو سمجھنا ہو گا کہ دنیا ہے عجب چیز کبھی صبح کبھی شام۔ پاکستان کے پاس اب یہی راستہ ہے کہ وہ اس پوزیشن میں آجائے کہ اسے کوئی استعمال نہ کر سکے اور یہ موقع اسے مل کر رہے گا۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: