عرفان صدیقی
وزیر اعظم گیلانی نے مغرب کے دہرے معیارات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ممبئی کا نوحہ پڑھنے والوں کو فلسطین اور کشمیر میں بہتا ہوا لہو کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ انہیں اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل میں جاں بحق ہوجانے والوں کا خیال کیوں نہیں آتا… “ سوال بڑا سادہ و معصوم ہے لیکن جواب ڈھونڈھنے نکلیں تو دنیا کے اس منافقانہ چلن کے اسباب و محرکات میں سے کچھ کا کُھرا اپنے ہی گھرکی طرف آتا ہے۔
کوئی پوچھے کہ خود ہماری نگاہوں میں ہمارے لہو کی کیا قیمت ہے؟ ہم نے دنیا کو اجازت دے رکھی ہے کہ جب چاہے اپنے طیارے لے کر فضاؤں میں آجائے اور ہماری بستیاں خاکستر کرنے لگے۔ کیا کسی کو خبر ہے کہ گذشتہ تین چار برس کے دوران قبائلی علاقوں کے کتنے لوگ امریکی بہیمیت کا لقمہ ہوچکے ہیں؟کیا کسی نے اُن کے کوائف جاننے ‘ اُن کی بریدہ لاشوں کی توقیر کرنے اور اُن کا خون بہا مانگنے کی کوشش کی ؟ کیا کسی کو معلوم ہے کہ اُن کی قبریں کہاں بنیں اور اُن کے پیارے کس حال میں ہیں؟خون کی ارزانی کے ان بے مہرموسموں میں کس کو خیال آیا کہ وکلاء کی تحریک کے دوران ‘12 مئی کو کراچی کی سڑکوں پر گرنے والے لاشے کس کے تھے‘ تارکول کی سیاہ رنگ سڑکوں کو ارغوانی رنگ دینے والا لہو کس کا تھا‘ وہ قاتل کون تھے جو دن دہاڑے اسلحہ لہراتے اوردرجنوں ٹی وی کیمروں کے سامنے انسانی شکار کھیلتے رہے؟
کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی اپنے چیمبرز میں بیٹھے وکلاء کو زندہ جلا دینے والے شقی القلب کون تھے؟ اور کسی نے یہ جاننے کی سعی کی کہ بے نظیر بھٹو نامی خاتون کا قاتل کون ہے؟ ہم نے خود اپنے لہو کو کسی بد رو میں بہنے والے متعفن پانی سے بھی زیادہ کمتر اور حقیر بنادیا ہے۔ جب خود ہمارے نزدیک ہمارا لہو اتنا بے وقعت ہے تو دنیا کو اس کے احترام کی کیا پڑی ہے؟ گذشتہ بیس برس کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری خاک و خون میں نہاگئے۔ لا تعداد غائب کر دیئے گئے۔ ہزاروں عمر بھر کی لئے معذور ہوگئے۔ کیا پاکستان نے واویلا کیا؟ پاکستان تو اس عرصے کے دوران بھارت سے اعتماد افزاء اقدامات کرنے اور دوستی کی پینگیں بڑھانے کے جتن کرتا رہا۔ مشرف دور میں سرکاری ذرائع ابلاغ کو سختی سے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے محتاط رہیں اور کوئی ایسی بات نہ کہیں جو بھارت کو ناگوار گزرے اور نئی نویلی دوستی پرآ نچ آئے۔
اور فلسطین پر برس ہا برس سے ٹوٹتے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے خود اپنے گریبان میں جھانکئے کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی یلغار کو اب تیسرا ہفتہ چل رہا ہے۔ اس دوران پاکستان نے کس بے کلی کا مظاہرہ کیا؟ دنیا کو اس المیے کی طرف متوجہ کرانے میں کیا کردار ادا کیا؟ سفارتی محاذ پرکیا ہلچل مچائی؟ اُس نے رسمی ہمدردی کے وہی بے آب و رنگ سے بول کہے جو بھارت کے دفتر خارجہ نے کہے۔ ونیز ویلا کے صدر ہوگو شاویز نے اسرائیلی سفیر کو ملک بدری کا حکم دے دیا۔ اچھا ہے کہ ہمارے (مشرف کی کوششوں کے باوجود) اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ورنہ ہمیں تو امریکہ کے خوف سے اسرائیلی سفیر کو بلا کر احتجاج کرنے کا حوصلہ بھی نہ ہوتا۔ ہمیں فلسطین کے لہو کا نوحہ پڑھتے ہوئے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون ہے جس نے اسرائیل کو یہ حوصلہ دیا ہے کہ وہ جب چاہے نہتے انسانوں پر چڑھ دوڑے اوراُن کی تکہ بوٹی کر دے۔
گزشتہ سولہ دنوں کے دوران اسرائیلی یلغار نو سو کے لگ بھگ فلسطینیوں کے پرخچے اڑا چکی ہے۔ غزہ پر برسنے والے سارے میزائل اور یہ میزائل برسانے والے تمام طیارے امریکیوں کے فراہم کردہ ہیں۔ ان طیاروں کو امریکہ کے تربیت یافتہ اسرائیلی ہواباز اڑارہے ہیں۔ غزہ کو کھنڈر بنانے والے ٹینک امریکی ساختہ ہیں۔ امریکہ نے غیر ممالک کو دی جانے والی امداد کا ایک تہائی اسرائیل کے لئے وقف کررکھا ہے اور دو تہائی باقی ساری دنیا کے لئے۔ تین ارب ڈالر امداد اور دو ارب ڈالر برائے نام سود پر قرض کی شکل میں ملتے ہیں۔ اس پانچ ارب کے علاوہ امریکہ اور دنیا بھر میں مقیم یہودی چندے کی شکل میں اوسطاً تین ارب ڈالر سالانہ اسرائیلی حکومت کو فراہم کرتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ رقم آٹھ ارب سالانہ تک جاپہنچی ہے۔صرف اٹھاون لاکھ آبادی کے چھوٹے سے ملک کے لئے اتنی بھاری مالی امداد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لہو کے پیاسے اس خونی گروہ کو کس طر ح پالا پوسا جارہا ہے۔ اس وقت اسرائیل اقتصادی ‘فنی اور صنعتی ترقی میں تمام پڑوسی عرب ممالک سے آگے ہے۔ اس کی فی کس آمدنی چودہ ہزار ڈالر فی کس سالانہ سے بھی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے لاڈلے بچے کی طرح اسرائیل کو گود میں بٹھارکھا ہے۔
اب تک وہ کم وبیش پچاس ایسی قرار دادوں کو ویٹو کرچکا ہے جو سلامتی کونسل نے اسرائیلی نقطہ نظر کے منافی منظور کیں۔ دنیا کے ہر شخص کو خبر ہے کہ اسرائیل کا سرپرست اور پشتیبان کون ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ فلسطینیوں کا اصل قاتل امریکہ ہے۔ 9 جنوری ‘جمعتہ المبارک کو امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرار داد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ چونکہ غزہ کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ برسائے گئے تھے اس لئے اسے اپنے دفاع میں حملہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ 390 ارکان نے اس کی حمایت کی اور صرف 5 نے مخالفت۔ قرار داد پیش کرنے والی خاتون رکن کا تعلق اسی ڈیموکریٹ پارٹی سے تھا جس کے نومنتخب نائب صدر ‘جوبائیڈن اُس دن پاکستان میں تھے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر فلسطینیوں کے اصل قاتل کے سینے پر ہلال پاکستان کا تمغہ آویزاں کررہا تھا۔ اس سے ہفتہ بھر پہلے ڈپٹی سیکریٹری کی سطح کے ایک امریکی اہلکار رچرڈ باؤچر کو عین اس دن ہلال قائد اعظم عطا کیا گیا جس دن ایک اسکول پر میزائل برسا کر اسرائیل نے 42 بچوں کو قتل کردیا تھا۔
میں ان دنوں دبئی میں ہوں۔ یہاں سیاسی نوع کی سرگرمیوں اور مظاہروں کی اجازت نہیں۔ ایک طرح کا بند معاشرہ ہے لیکن جمعة المبارک کو کریک پارک میں اسرائیل کے خلاف بڑا مظاہرہ ہوا جس میں بیس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے عطیات کے لئے خصوصی نشریات کا اہتمام کیا۔ عوام نے 315 ملین درہم کے عطیات جمع کرائے جو ہماری کرنسی میں سات ارب روپے کے قریب بنتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان اور نائب صدر شیخ محمد راشد المکتوم نے غزہ میں بے گھر ہوجانے والوں کے لئے بارہ سو نئے مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادویات اور اشیائے ضروریہ لے کر پچاس ٹرکوں کا کارواں غزہ کی سرحد پہ پہنچ چکا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب تک عالم اسلام کے قلعے‘ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو نے کیا کیا ہے؟
اپنی تذلیل اور تحقیر کا سبب ہم خود ہیں۔ ممبئی دھماکوں کے چند منٹوں بعد بھارت نے ہماری شہ رگ دبوچ لی اور ساری دنیا میں شور مچا دیا کہ ”چور پکڑا گیا“۔ ہم نے میریٹ ہوٹل کی تباہ کاری کا الزام چند منٹوں کے اندر اندر خود اپنے سر تھوپ لیا۔ دنیا کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہم سے بھی زیادہ ہمارے ساتھ دلداری اور ہمدردی کرے۔ رچرڈ باؤچر اور جوبائیڈن کے سینے پر لگائے گئے تمغے ہر سچے پاکستانی کے دل پررکھے دو دہکتے انگارے بن چکے ہیں۔ جانے عافیہ صدیقی کی الم نصیب ماں کیا سوچ رہی ہوگی؟ جناب وزیراعظم ! دنیا کی منڈی میں قیمت پانے کے لئے ہمیں خود اپنی اداؤں پر غور کرنا ہوگا‘ بے حمیتی جاری رہی تو یہ نامہربان موسم نہیں بدلیں گے۔
