حامد میر
یہ ایک عجیب اتفاق تھا، تین دن کی جدوجہد کے بعد میں مصر کے سرحدی علاقے رفح سے غزہ میں داخل ہوا تو حماس کی بارڈر سیکورٹی اور امیگریشن کے اہلکاروں نے اھلا و سھلاً فی فلسطین کہتے ہوئے استقبال کیا۔ صرف چند سو گز پیچھے رفح میں مصری امیگریشن اور انٹیلی جنس کے کسی اہلکار نے تین دن میں ایک مرتبہ بھی مسکرا کر بات نہیں کی تھی حالانکہ نہ مصر پر بمباری ہو رہی تھی اور نہ ہی مصر کو کسی اسرائیلی حملے کا خطرہ تھا۔ جہاں بمباری ہوئی، جہاں 1300 بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ جہاں 41مساجد شہید کی گئیں اور جہاں اقوام متحدہ کے اسکولوں پر بھی راکٹ برسائے گئے وہاں کے سرحدی محافظوں نے مسکراتے چہروں کے ساتھ صرف تین منٹ میں ہماری امیگریشن مکمل کردی۔
خوشگوار اتفاق یہ ہوا کہ جیسے ہی میں نے غزہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو عشاء کی اذان شروع ہو گئی۔ موذن کی آواز اتنی خوبصورت اور لطیف تھی کہ چند لمحوں کے لئے میں سب کچھ بھول کراس آواز میں ڈوب گیا۔ اذان ختم ہوئی تو میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور الجزیرہ کے کیمرہ مین نضال کے ساتھ ایک ویگن میں بیٹھ گیا جو اس بارڈر چیک پوسٹ سے چالیس کلو میٹر دورہمیں غزہ شہر لے جانے والی تھی۔ نضال قطر سےغزہ پہنچا تھا۔ اس کے والد کا تعلق مقبوضہ بیت المقدس سے تھا لیکن 1967ء میں وہ اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ نضال اُردن میں پیدا ہوا اور اب قطر میں رہتا ہے۔ فلسطینی ہونے کے باوجود آج اس نے پہلی دفعہ فلسطینی سر زمین پر قدم رکھا تھا۔ اس کی زبان سے بار بار ماشا اللہ اور الحمدللہ کے الفاظ نکل رہے تھے، لیکن جیسے ہی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والی مساجد اورعمارتیں اس کی نظروں کے سامنے سے گزرنے لگیں تو وہ خاموش ہو گیا۔ ہم دونوں ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا، اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے اوراسے سزا کون دے گا؟
امریکی حکومت نے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر تین ہفتے کی مسلسل بمباری کی ذمہ داری حماس پر عائد کی اور کہا کہ حماس نے اسرائیل پر راکٹ برسائے تھے اوراسرائیل نے اپنے "دفاع" کیلئے غزہ پر حملہ کر دیا۔ میرے لئے حیرانی کی بات یہ ہے کہ مجھےغزہ میں ایک بھی فلسطینی ایسا نہیں ملا جو حماس کو اپنی تباہی کا ذمہ دار سمجھتا ہو۔ عام فلسطینی پوچھتا ہے کہ اگر اسرائیل نے حماس کو سزا دینی تھی تو پھر اقوام متحدہ کے زیرانتظام چلنے والے اسکولوں اور مساجد پر بم کیوں گرائے گئے؟ 24جنوری کی رات غزہ کے القدس ہوٹل کی لابی میں انڈونیشیا کے ایک فوٹو گرافر احمد نے مجھے بتایا کہ وہ جنوری 2009ء کے پہلے ہفتے میں غزہ آ گیا تھا۔ اس وقت تک غزہ میں کچھ لوگ حماس پر تنقید کرتے تھے لیکن جب اسرائیل کی بمباری میں شدت آگئی تو فلسطینیوں کو یقین ہوگیا کہ اسرائیل کی لڑائی حماس کے ساتھ نہیں بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔
احمد نے مجھے یاد دلایا کہ اسرائیل نے 2006ء میں لبنان میں بھی مساجد کو خاص طور پر نشانہ بنایا تھا اور 2009ء میں اسرائیل نے غزہ کی 41مساجد کو شہید کرکے اپنے خلاف جو نفرت پیدا کی ہے یہ اگلے 41 سال تک کم نہ ہوگی۔ احمد کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل مسلمانوں میں جمہوریت کے فروغ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ جمہوریت انسانی سوچ کو وسعت دیتی ہے، قانون اور انصاف کی بالادستی قائم کرتی ہے اور اس بالادستی سے انسانی ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔ مسلمانوں کو ترقی سے محروم کرنے کے لئے امریکا اور اسرائیل کی کوشش ہوتی ہے کہ یا تو جمہوریت کے نام پر مسلمانوں کو مغرب کی ذہنی غلام کرپٹ لیڈر شپ کے حوالے کردیا جائے یا پھر ان سے جمہوریت کو چھین لیا جائے۔
الفتح سے تعلق رکھنے والے محمود عباس کی حکومت کو غزہ کے فلسطینی "کنگ آف کرپشن" کہتے تھے اوراسی لئے 25جنوری 2006ء کو فلسطین میں الیکشن ہوا تو قانون ساز اسمبلی کی 132 میں سے 74 نشستیں حماس نے جیت لیں۔ امریکا اور اسرائیل کو حماس کی جمہوری فتح ایک آنکھ نہ بھائی اور فوری طور پر حماس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے اورمسلح مزاحمت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ہتھیار پھینک دے۔ دوسری طرف امریکا اوراسرائیل نے الفتح اور حماس کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی۔ حماس کو ایک طرف سے امریکا اوراسرائیل کے ناجائز دباؤ کا سامنا تھا اور دوسری طرف الفتح کی بلیک میلنگ کا سامنا تھا اوران حالات میں جب فلسطین کے نام نہاد صدر محمود عباس نے امریکی دباؤ پر حماس کی منتخب حکومت کو توڑ دیا تو حماس کے اندر شدت پسندوں نے قوت حاصل کرلی اور انہوں نے اسرائیل پر چند دیسی ساخت کے راکٹ داغے۔ ان راکٹوں سے اسرائیل کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ان راکٹوں پر شور مچانے والے بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں خود اسرائیل ایک غیرقانونی ریاست ہے۔
سنہ 1917ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنی اور ترکی پر فتح حاصل کرنے کے لئے برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے یہودیوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اس جنگ میں برطانیہ کی مالی امداد کریں گے تو اس کے عوض برطانیہ فلسطین کی سرزمین پر ایک نئی یہودی ریاست قائم کرنے میں مدد دے گا۔ بالفور کے اس وعدے کو ”اعلان بالفور“ کہا جاتا ہے اور اسی اعلان کی روشنی میں برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر کے یہاں اسرائیل قائم کر دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1947ء میں قرارداد 181 کو اکثریت کے ساتھ منظور کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یروشلم کو انٹرنیشنل کنٹرول میں دیا جائے گا لیکن اسرائیل نے اس قرارداد کو تسلیم نہیں کیا اور یروشلم پر اس کا قبضہ برقرار ہے۔ کشمیر کی طرح فلسطین پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونا مسلمانوں میں بے چینی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مسلمان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ کریں تو دہشت گرد قرار پاتے ہیں اوراسرائیل و بھارت ان قراردادوں کی دھجیاں اڑا کر بھی امریکا کے منظور نظر ہیں۔ یہ ظلم جاری رہا تو دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہوگا۔
اسرائیل کے معروف اخبار ”ہارٹیز“ نے 31 دسمبر 2008ء کی اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ پر حملے کا فیصلہ چھ ماہ قبل جون 2008ء میں کر لیا تھا۔ اس حملے کا تعلق حماس کے دیسی ساخت کے کریکر نما راکٹوں سے نہیں بلکہ 2006ء میں لبنان کی جنگ میں اسرائیل کی شکست سے تھا۔ اسرائیل حماس کو ختم کرکے خود کو ناقابل شکست ثابت کرنا چاہتا تھا تاکہ فروری 2009ء کے انتخابات میں حکمران اتحاد کامیابی حاصل کر سکے لیکن اسرائیل ایک دفعہ پھر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ قطر اور موریطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منجمد کر دیئے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے نمائندے غزہ میں ہونے والے ظلم و ستم کو بے نقاب کرکے اسرائیل کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اور فجر کی اذان ہو رہی ہے۔ موذن کہہ رہا ہے الصلوٰة خیر من النوم۔ اس خوبصورت آواز میں ایک گہرا عزم و ارادہ محسوس ہوتا ہے۔ غزہ میں آباد 14 لاکھ فلسطینی پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور پہلے سے زیادہ قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔ غزہ کے دو اطراف میں اسرائیل، تیسری طرف سمندر اورچوتھی طرف مصر ہے۔ مجھے اپنے ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی میں سے سمندر میں موجود اسرائیلی بحری کشتیوں کی روشنیاں نظر آرہی ہیں۔ غزہ تین طرف سے دشمن کے گھیرے میں ہے اس کے باوجود فلسطینی بچے گلی کوچوں میں یہ گیت گاتے نظر آتے ہیں کہ "ہم سب حماس ہیں"۔ کوئی ان بچوں کو بھلے نا سمجھ کہتا رہے لیکن فلسطینی بچوں کا یہ گیت اسرائیل کی ایک اور شکست کا اعلان ہے۔
