پرِنٹ کیجئے
محفوظ کیجئے
بھیجئے
منگل 13 ربيع الأول 1430هـ - 10 مارچ 2009م

زبوں حال امت مسلمہ کی خوش نصیبی

 

اسلم کھوکھر

عالم اسلام کے ایک ایک فرد سے لیکر ہر انسان کو آج کے دن کی مناسبت سے جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہیے کم ہے کیونکہ آج کا دن سب سے بڑی عید کا دن ہے کہ اس عظیم ہستی کی دنیا میں آمد ایک ایسا احسان عظیم ہے کہ بنی نوع انسان کی ہی نہیں اس زمین و آسمان بلکہ کائنات کی تقدیر بدل گئی اور یہ دن نہ ہوتا تو شب و روز نہ ہوتے۔ زمین و آسمان نہ ہوتے جن و انسان نہ ہوتے۔ بحرو بر اور خلا و ہوا اور رنگ و نور حتیٰ کہ کچھ بھی نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی رونق، اس کی جاذبیت، کشش سب کچھ رسول کریمۖ کی وجہ سے تخلیق کیا۔ آپۖ کی آمد اور نبوت اور سیرت کا ایک ایک پہلو انقلاب آفرین بے شک انسان، مرد، عورت ، بوڑھے بچے، کمزور وناتواں، سب کو مقام ومرتبہ جہاں تک چرند پرند کے لئے رحمت کا پیغام ملا۔

مجھے ایک نعت رسول مقبولۖ یاد آ گئی۔ ان دنوں شادی بیاہ پر لائوڈ سپیکر ہی سب سے بڑی تفریح ہوتی تھی۔ ٹی وی اور وی سی آر اور دیگر چاو چونچلے نہیں تھے۔ شادی سے ایک دو روز قبل لائوڈ سپیکر کے ذریعے گیت سنائی دیتے اور سپیکر پر خوشی کا آغاز نعت رسول مقبولۖ سے ہوتا۔ آج کے عارف لوہار جو صرف باپ کے نام کی کمائی کھا رہا ہے کا والد عالم لوہار مرحوم ، جن کی قبر وزیرآباد کے قریب برلب سڑک جی ٹی روڈ پر ہے۔ گلوکار اداکار ہونے کیساتھ ساتھ نعت گوئی اور شعر گوئی کا اسے اعزاز حاصل ہوا میں جب بھی جی ٹی روڈ سے گزرتا ہوں تو دو شخصیات کے لئے سر راہ کھڑے ہو کر فاتحہ خوانی کئے بغیر نہیں گزرتا۔ عالم لوہاراورشہید عامر چیمہ ان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے چند لمحے رک کر اور ان کی خوش قسمتی پرانہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

مرحوم عالم لوہار کی ایک گائی ہوئی نعت کا ذکر کیا تھا کہ جس میں واقعہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریمۖ کہیں جارہے تھے کہ راستے میں ایک بکری کو یہودی نے جھاڑی سے باندھ رکھا تھا اور وہ شکاری کہیں دور کسی اور شکار کی تلاش میں گیا ہوا تھا۔ آقائے نامدارۖ نے جب بکری کو دیکھا تو بکری نے اپنی فریاد رحمت اللعالمین کے حضور پیش کی کہ اس کے دو ننھے ننھے بچے ہیں جو دودھ کے لئے بلک رہے ہوں گے، رسول اللہۖ نے بکری کو آزاد کر دیا اور اپنے پائوں مبارک میں وہ رسی ڈال کر وہاں بیٹھ گئے۔ کچھ لمحوں بعد وہ شکاری یہودی آیا اور معاملہ دیکھ کر سیخ پا ہو گیا تو رسول کریم نے کہا کہ وہ میری ضمانت پر گئی ہے اور اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آنے کا وعدہ کر کے گئی ہے، یہودی یہ سن کر اور بھی سیخ پا ہو گیا اور کہا کہ کبھی آج تک ایسا ہوا ہے کہ قیدی جانور کو رہائی ملی ہو اور وہ واپس آیا ہو۔

رسول اکرمۖ نے ارشاد فرمایا آج یہ کچھ ہو گا، بدبخت یہودی الجھ رہا تھا کہ ایک طرف سے گردوغبار اٹھتا ہوا نظر آیا چند ہی لمحوں میں وہ بکری اپنے بچوں سمیت بھاگتی ہوئی آرہی تھی۔ اس کے نومولود بچوں کی رفتار کسی گھوڑے سے کم نہ تھی۔ بکری نے جب اپنی مشروط رہائی کا ذکر بچوں سے کیا تو بکری کے بچوں نے دودھ پینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس وقت تک دودھ نہیں پئیں گے جب تک رسول کریم کو رہائی نہیں مل جاتی۔ بکری نے آتے ہی بچوں سمیت سرنگوں کر دیا اور یہودی یہ منظر دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا۔ اس کے آنسوئوں نے اسے بھی عشق رسولۖ سے سرشار کر دیا اور یوں اسی وقت مسلمان ہو گیا۔

مرحوم و مغفور عالم لوہار نے ایسا کلام گا کر اور رقت آمیز انداز میں ایسے واقعات گائے ہیں کہ پتھر دل شخص بھی آبدیدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج کے دن کی مناسبت سے یاد آیا کہ علامہ عبدالرزاق چشتی صاحب نے توجہیہ پیش کی تھی کہ عید میلادالنبی کی بدولت ہی دونوں عیدیں نصیب ہوئی ہیں۔ بہرحال آج کے دن کی مناسبت سے اللہ کے حضور شکرانے کے نوافل پڑھنے چاہیے کہ جس نبیۖ کی امت میں روز محشر کھڑے ہونے کے لئے نبیوں نے دعائیں کیں۔ وہ امت کس قدرخوش نصیب ہے اور ہمیں رحمت اللعالمین کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کا عہد کرنا چاہیے تا کہ یہ معاشرہ اور یہ ساری دنیا امن و امان اور اسلام کا گہوارہ بن جائے اوراس حوالے ملکی حالات پر بھی اللہ تعالیٰ سے حالات کی بہتری اورملکی سلامتی کے لئے دعا کرنی چاہیے کیونکہ امت رسول اور پوری دنیا میں کڑا وقت ہے اور تمام عالم اسلام کو اغیار اور اسلام دشمن قوتوں پر غلبہ حاصل ہو۔ ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے۔ منافقت جہالت تعصب، بغض، عناد، کینہ کا بھی خاتمہ ہو اور جہاں جہاں مسلمانوں پرظلم ہو رہا ہے وہاں پر امن و آشتی ہو

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: