پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعرات 12 جمادى الأولى 1430هـ - 07 مئی 2009م

الوداع! علی عواض العسیری

 

عرفان صدیقی

پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر، عزت مآب علی عواض العسیری رخصت ہورہے ہیں۔ سفارت کے منصب جلیلہ پر فائز رہے۔ اتنی طویل مدت تک ان کا پاکستان میں موجود رہنا ہی اس امر کی دلیل ہے کہ سعودی عرب کی قیادت اور میزبان ملک، دونوں ان کی صلاحیتوں سے واقف ہیں۔ میں ہمیشہ سفیر محترم کو "دہری سفارت کاری" والا سفیر کہا کرتا ہوں۔ سعودی عرب کے تو وہ سفیر ہیں ہی اور اس حوالے سے انہیں اپنا ہنر آزمانے کی زیادہ ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ سرزمین حجاز سے ہر پاکستانی کا ایک رشتہ ہے اور اس رشتے کو کسی ہنر کاری کی ضرورت نہیں لیکن پاکستان کے قیام کے دوران انہوں نے پاکستان کی سفارتکاری بھی اس عزم و خلوص کے ساتھ کی کہ جیسے یہی ان کا تقاضائے منصب ہو۔

جب بھی کسی اسلامی ملک کا کوئی سفیر پاکستان میں تعینات ہوتا، وہ اس کے لئے ایک دعوت کا اہتمام ضرور کرتے۔ اس دعوت میں وہ پاکستان کی حکومت، عوام اور خود پاکستان کا تذکرہ اتنے شیریں الفاظ میں کرتے جیسے پاکستان ہی ان کا وطن ہو اور وہ سرز مین پاکستان کی ترجمانی کر رہے ہوں۔ افتاد کی ہر گھڑی میں وہ پوری توانائی کے ساتھ بروئے کار آتے اور دن رات کی تمیز بھول جاتے۔ کشمیر اور صوبہ سر حد میں قیامت خیز زلزلے کے فوراً بعد علی عسیری نے جس محنت، ریاضت، تندہی اور جانفشانی سے کام کیا اور جس طرح سعودی عرب سے فوری اور فراواں امداد کا اہتمام کیا، وہ سفارت کاری کے رسمی تقاضوں سے کہیں بڑھ کر تھا۔ میں نے ان دنوں سفیر محترم کو اتنا بے کل دیکھا جیسے یہ افتاد ان کے گھر پر ٹوٹی ہو اور متاثرین ان کے اپنے افراد خانہ ہوں۔ امداد کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اور بعض رفاہی منصوبوں کو تو انہوں نے مستقل شکل دے دی ہے۔

کم لوگ جانتے ہوں گے کہ علی عسیری کی پاکستان سے محبت درد مندی کی کن حدوں کو چھو رہی ہے۔ میں ان کے جذبے کی صداقت، وسعت اور گہرائی سے شناسا ہوں۔ میں نے انہیں پاکستان کے لئے روتے ہوئے دیکھا ہے۔ آزمائش اورامتحان کی ہر گھڑی میں ان کی دعائیں، تمام پاکستانیوں کی دعاؤں میں شامل ہوتی تھیں۔ سفیر محترم جب فروری 2001ء میں تعینات ہوئے اور رسمی تقاضوں کے مطابق اسناد سفارت پیش کرنے ایوان صدر آئے اور صدر محمد رفیق تارڑ سے ان کی ملاقات ہوئی تو میں اس میں موجود تھا۔ اس کے بعد ان سے ملاقاتوں اور میل جول کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔ پاکستان کی مضبوطی، سیاسی استحکام اور ترقی و خوشحالی کو وہ پوری امت مسلمہ کے مفاد میں خیال کرتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات کم کرنے اور اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم کرنے کیلئے انتھک محنت کی۔ پاکستان میں ان کی تعیناتی سے پہلے مشرف اقتدار کی باگ ڈور سنبھال چکے تھے۔ میاں نواز شریف کی جلاوطنی ہوچکی تھی۔ یہ ایک مشکل دور تھا۔ نواز شریف جدہ میں مقیم تھے اور پرویز مشرف ان کے حوالے سے ایک خاص قسم کی حساسیت رکھتے تھے۔ لیکن علی عسیری نے کبھی توازن بگڑنے نہ دیا۔ بار ہا ایسا بھی ہوا کہ مشرف نے نواز شریف کو سختی سے سرور پیلس میں مقید رکھنے اور بیرونی رابطے منقطع کرنے پر زور دیا لیکن علی عسیری نے اپنی حکومت کو ہمیشہ مثبت رائے دی اور پلڑے کو ایک طرف جھکنے نہ دیا۔

نو سال اور تین ماہ کے طویل عرصے کے دوران میں نے انہیں اتنا بے کل، اتنا بے چین اور اتنا مضطرب کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ نواز شریف کی دوسری جلاوطنی کے بعد کے ڈھائی تین ماہ میں رہے۔ سفیر محترم کو یقینا اندازہ تھا کہ مشرف کی مقبولیت کا عالم کیا ہے اور نواز شریف کے بارے میں لوگوں کے جذبات کیا ہیں۔ لیکن انہیں بھی رد عمل کی اس شدت کا اندازہ نہیں تھا جو پاکستانی عوام کی طرف سے سامنے آیا۔ سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب میں کسی معتبر پاکستانی سیاستدان کا شریک نہ ہونا ان کے لئے زبردست صدمے کا باعث بنا۔ اس دوران انہوں نے معاملات کو سلجھانے اورنواز شریف کی پاکستان واپسی کے لئے جو کلیدی کردار ادا کیا، وہ پوری داستان ہے۔ معاملے کی نزاکت کے سبب شاید یہ کہانی کبھی اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ سامنے نہ آ سکے لیکن اس کے بعض اوراق میرے دل پہ رقم رہیں گے۔ میں وہ رات کبھی نہیں بھولوں گا جب انہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا اور پو پھٹنے تلک مختلف پہلوؤں پر میری رائے لیتے اور گفتگو کرتے رہے۔ ان کی بھیجی گئی رپورٹس یقینا خفیہ ہیں اور خفیہ ہی رہیں گی۔ لیکن میں آج یہ گواہی دینا چاہتا ہوں کہ علی عواض العسیری جیسا معاملہ فہم، زیرک اور دردمند شخص یہاں نہ بیٹھا ہوتا تو شاید مشرف اپنی کوششوں میں کامیاب ہوجاتا اور نواز شریف عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس نہ آ پاتے۔

دو تین ماہ قبل شہزادہ مقرن، خادم الحرمین شریف کا ایک پیغام لے کر پاکستان آئے۔ سعودی سفیر کے ہاں دعوت میں صف اول کی پاکستانی قیادت کے سامنے انہوں نے یہ پیغام پڑھ کر سنایا۔ گزشتہ روز جناب علی عسیری نے ایک بار پھر ساری پاکستانی قیادت کو ایک الوداعی عشایئے میں بلایا جہاں انہوں نے اس پیغام کو تازہ کیا۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنی تقریر میں سیاسی ہم آہنگی اور خیرسگالی کے حوالے سے عزت مآب سفیر کی کوششوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ علی عسیری کا کہنا تھا۔ میری یہ کوششیں ہمیشہ جاری رہیں گی کہ پاکستان میرا دوسرا گھر ہے۔

علی عسیری نے پاک سعودی تعلقات کے فروغ میں تاریخ ساز کردارا ادا کیا۔ وہ تشریف لائے تو دونوں ملکوں کی باہمی تجارت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ تھی۔ اب اس کا حجم 6 ارب ڈالر تک پھیل گیا ہے اور مسلسل فروغ پذیر ہے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ پاکستانی فکر میں انہوں نے ذاتی کاوش و کوشش سے سعودی عرب سے دوستی کے ایسے بیج بوئے جو برگ و بار لاتے رہیں گے۔ ان کی رخصتی میرے لئے ذاتی رنج کا سبب بھی ہے۔ چند دن قبل میری بیٹی کی شادی کے موقع پر وہ ملک سے باہر تھے۔ واپسی پر انہوں نے قرآن کریم کے ایک خوبصورت نسخے کے ساتھ دو خطوط بھی بھیجے۔ ایک میرے اور دوسرا بیٹی کے نام۔ یہ خطوط بھی دیر تک ہمیں ایک مخلص دوست کی یاد دلاتے رہیں گے۔ میں ہی نہیں اسلام آباد کے کتنے ہی لوگ ان کی رخصتی پر سوگوار ہوں گے۔

حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا۔ انہیں ایک پلاٹ پیش کیا جو انہوں نے شکریے کے ساتھ واپس کردیا۔ لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ سفارتی علاقے کی اس سڑک کا نام ”شاہراہ علی عسیری“رکھ دیا جائے جس پر سعودی سفارت خانے کی نئی عمارت تعمیر ہوئی ہے؟ یہ ایک اچھے دوست کی خوبصورت یاد کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا۔ کل جب ہمارے بچے پوچھیں گے کہ علی عسیری کون تھا؟ تو ہم اپنے دوست کی مشکبو یادوں کو تازہ کرسکیں گے۔
اخی محترم! آپ لبنان تشریف لے جارہے ہیں۔ اللہ آپ کو حفظ و امان میں رکھے۔ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ لیکن آپ کہیں بھی جائیں، ہمارے دلوں میں رہیں گے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: