پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
اتوار 09 رمضان 1430هـ - 30 اگست 2009م

امریکہ کا خراب تاثر ۔ کیوں؟؟

 

خالد انصاری

امریکی میڈیا دنیا پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اس امریکی میڈیا پر مخصوص گروپس اور لابیز کی اجارہ داری ہے۔ یورپی میڈیا کا قبلہ بھی عمومی طور پر امریکہ ہی کی جانب رہتا ہے اور امریکہ کے میڈیا کو ہی یورپ بھر میں Trend Setter سمجھا جاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد مغربی میڈیا میں عمومی طور پر اور امریکی میڈیا میں خصوصی طور پر، پہلے ایک جھلک مساجد میں نماز کے دوران رکوع و سجود کرتے اور طواف کرتے مسلمانوں کی دکھائی جاتی ہے اس کے فوراً بعد اپنی خبر یا منظر میں دوسری جھلک افغانستان یا کسی اور جگہ دہشت گردی کی ریہرسل میں مصروف گروپس کی دکھا کر کچھ اس قسم کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے مساجد کی عبادت اور دہشت گردی کی ٹریننگ ایک ہی عمل کے دو حصے ہیں۔

پاکستان کے مسلمان ان معاملات میں بہت حساس واقع ہوئے ہیں ان کو اعتراض ان کی عبادات دکھانے پر نہیں ہے بلکہ اعتراض اس تاثر پر ہے جو مسلمانوں کی عبادات دکھاتے ہوئے پیدا کیا جاتا ہے کہ عبادت کرنے والے یا نماز پڑھنے والے اور حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے عبادت کے مکمل ہوتے ہی دہشت گردی کرنے جا رہے ہیں کبھی عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادات اس تاثر کے ساتھ پیش نہیں کی گئیں تو مسلمانوں کی عبادات اس تاثر کے ساتھ کیوں پیش کی جاتی ہیں۔ ہم ضرور چاہیں گے کہ جب دوسرے مذاہب کی عبادت دکھائی جائے تو مسلمانوں کی عبادات بھی پیش کی جائیں لیکن مسلمانوں کو عبادت کے فوراً بعد دہشت گردی کے کسی تربیتی مرکز میں دہشت گردی کی ٹریننگ حاصل کرتے دکھانا مغربی اور امریکی میڈیا کی زیادتی ہے۔ خدا کے نام پر جنگ کرنے والے تو ہر جگہ اور ہر مذہب میں موجود ہیں۔ ایک امریکی چینلکے ایک ڈاکومینٹری کا بھی مرکزی خیال یہی تھا کہ خدا کے نام پر جنگ کرنے اور مرنے مارنے والے تینوں مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں موجود ہیں تو پھرصرف مسلمانوں کو ہی اس قسم کے تاثر کے ساتھ کیوں پیش کرتا ہے۔ ایسی چیزیں مسلمان عوام کے دل میں امریکہ اور مغرب کا تاثر خراب کرتی ہیں۔

گوانتا موبے کی امریکی جیل آج کی مہذب دنیا کے معاشرے پر ایک طمانچہ ہے۔ امریکی آئین اور قانون سے باہر قائم کئے گئے یہ ایذا خانے دنیا میں قائم خراب امریکی تاثر کو بہتر تو نہیں کر سکتے، ماورائے آئین و قانون قائم کئے گئے یہ عقوبت خانے تو امریکی شہریوں کی بھی گردنیں جھکا دیتے ہیں تو باہر کی مہذب دنیا میں امریکہ کا تاثر کس طرح بہتر ہو سکتا ہے۔ خراب امریکی تاثر کے باعث اسلام آباد اور کراچی میں امریکہ کے سفارت خانے اورقونصلیٹ کے دفاتر میں توسیع اور عملہ میں اضافے کی خبریں پہلے سے خوفزدہ پاکستانیوں کو مزید خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ کراچی میں مکمل ہونے کے قریب امریکی قونصلیٹ کی نئی عمارت کا رقبہ اس کی لوکیشن اور اس کامحل وقوع جاننے والوں کو ڈرا رہا ہے۔ یہ ڈر اور خوف اس وجہ سے بھی ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت اپنی سیاسی لیڈر شپ سے واقف ہے جو امریکی مفادات کے لئے ملکی مفادات پر سمجھوتے کرتی آئی ہے۔ ماضی قریب کے مشرف، امریکی مفادات کی نگہبانی کرنے کے لئے ملک کے آئین اور قوانین کی دھجیاں بکھیرتے نظر آئے۔ مشرف دور میں لاپتہ افراد کے معاملات نے بھی عوام کو بہت بے چین رکھا۔

امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے سفارتی عملہ میں توسیع کی وجہ پاکستان کو ملنے والی امداد میں اضافہ کو قرار دیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن کے اس دور میں تو یہ توجہ بہت ہی نامناسب ہے۔ اسی طرح امریکی سفیر کی یہ تردید کہ مشرف کے ساتھ سفارت خانے کی اراضی کی خریداری اور سفارت خانے کی تعمیر کے سلسلے میں کوئی خفیہ معاہدہ نہیں،جاننے والوں کی چھٹی حس جگا دیتی ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ امریکہ کن معاملات کو کب تک خفیہ رکھتا ہے کونسی اطلاع کلاسیفائیڈ رکھی جاتی ہے ماضی میں کلاسیفائیڈ اطلاعات کے ڈی کلاسیفائی ہونے پر بہت سے معاملات پر دنیا کے بہت سے ممالک کے عوام کی سوچ میں تبدیلی آئی۔ امریکہ پاکستان کے ساتھ جس دوستی کے دعوے کرتا آیا ہے پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ اس دوستی کا محور چند خریدے گئے افراد تک محدود رہا اور یہ فائدہ پاکستان کے عوام کو منتقل نہیں ہوا۔ پاکستان کے عوام کی نظر میں امریکہ کا تاثر اس لئے خراب ہے کہ امریکہ اپنے ملک کے صدر کے تو جنسی اسکینڈل کو بھی حتمی نتائج تک پہنچاتا ہے مگر پاکستان کا آئین توڑنے والوں تک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے امریکہ اپنے ہاں تو ایک جج کو بھی گھر نہیں بھیج سکتا لیکن پاکستان میں لاپتہ افراد کا مقدمہ سننے والی پوری کی عدالت کو غیرآئینی طریقے سے گھر بھیجنے سے نہیں چوکتا امریکی دباؤ اور آشیرباد کی وجہ سے مشرف نے اپنی موجودگی میں عدلیہ کو بحال نہیں ہونے دیا۔

صدر زرداری بھی اپنے انتخاب کے بعد اتنے کمزور ثابت ہوئے کہ انہوں نے آخری لمحے تک عدلیہ کی بحالی کو التواء میں ڈالے رکھا۔ وہ تو لاہور سے شروع ہونے والے عوام کے سمندر نے ان کو جتلایا کہ اب امریکہ کی مدد عدلیہ کی بحالی میں آڑے نہیں آ سکتی۔ہالبروک امریکہ کی طرف سے افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی ایلچی ہیں۔ پاکستان کی قیادت سمجھدار ہو تو وہ ہالبروک کو ان کے دائرہ کار سے باہر جانے کی اجازت نہ دے اور پاکستان میں ان کی ملاقاتوں کو ان کے ہم منصبوں تک محدود رکھے۔ چونکہ پاکستان کی قیادت امریکی مفادات کو سلیوٹ کرتی آئی ہے اس لئے ہالبروک اب صوبائی دارالحکومتوں کے دورے کرنے لگے ہیں وہ صوبوں کے اسکولوں کی خبر گیری کے لئے بھی وزٹ پر جاتے ہیں۔

ذرا انتظار کیجئے ہالبروک دکانوں پر جا کر دکانداروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور ان کو دکانداری کے طریقے کے علاوہ یہ بھی بتائیں گے کہ دکاندار اپنی دکان کے شیلف پر کیا کیا چیزیں بیچیں۔ امریکی سفیر کو گزشتہ صدی کے سب سے بڑے انقلاب پر نظر رکھنی چاہئے۔ رضا شاہ پہلوی سے بڑا اس علاقے میں امریکہ کا حواری کوئی نہیں تھا شاہ ایران کے خلاف جو تحریک چلی تھی اس کے آخری دنوں میں امریکی صدر صرف اسی قدر بیان دے پائے تھے کہ اگرچہ ہم شہنشاہ سے ہمدردی رکھتے ہیں مگر ان کی قسمت کا فیصلہ ایران کے عوام ہی کریں گے۔ امریکہ کو ایران کے انقلاب سے سبق سیکھنا چاہئے…اور … ایران میں یرغمال بنائے گئے امریکہ کے سفارت خانے کے عملے کے واقعے سے بھی۔ اس خطے میں کسی اور ملک کو ایران بننے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: