پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
پیر 10 رمضان 1430هـ - 31 اگست 2009م

امریکی فوجیوں میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان

 

اخترعلی

کہتے ہیں کہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں اور آج کے جدید دور میں جنگیں ایک انتہائی مہنگا اور دشوار ترین اور مضمرات سے بھر پور ٹاسک گردانا جاتا ہے- افغانستان اور عراق کی جنگوں نے امریکا کو شدید اور کٹھن آزمائش میں مبتلا کیا ہوا ہے- مالی طورپر اٹھنے والے اخراجات اپنی جگہ، اب امریکی عوام میں افغانستان اورعراق سے فوجوں کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑتا چلا جا رہا ہے اور اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ بہت سے امریکی فوجیوں نے عراق اور افغانستان میں تعیناتی کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے وہاں جانے سے انکار کر دیا ہے، جس کی تازہ ترین مثال 24 سالہ وکٹر آکسٹو کی ہے جس نے یہ کہہ کر افغانستان جانے سے انکار کر دیا کہ "افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ غیر قانونی ہے"۔ حکم عدولی کی سزا کے طور پر وکٹر پر ٹیکساس میں امریکی فوجی مرکز فورٹ بڈ میں مقدمہ چلا کر اسے فوج میں کم ترین درجہ رکھنے والے اہلکار کے برابر کر کے ایک ماہ کی قید کی سزا بھی سنا دی-

افغانستان اور عراق میں تعینات امریکی فوجی وہاں کی عمومی صورتحال، غیر معمولی دباؤ اوراب تک کسی خاص کامیابی کے حصول نہ ہونے کی وجہ سے سخت نفسیاتی دباؤ میں ہیں جس کی وجہ سے ان میں زبردستی سکون کے حصول کی خاطر نشے اور نیند کی گولیوں کا استعمال عام ہے- شدید تناؤ، نفسیاتی بیماریاں اورعدم اطمینان کی کیفیات تو ان فوجیوں میں عام ہیں مگر حالیہ برس میں فوجیوں کے بڑھتے ہوئے خود کشی کے رجحان نے امریکا کے ارباب اختیار کو شدید حیرانی و پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے-

گذشتہ پانچ سال کے دوران جنگی صورتحال سے بڑھنے والے ذہنی دباؤ کے باعث امریکی فوجیوں میں خود کشی کے رجحان میں اضافے کے باعث اوراس پریشان کن صورتحال کے کنٹرول اور اس کے تدارک کی خاطر فوجیوں کی ذہنی صحت پر تحقیق کے لیے پچاس ملین ڈالر کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے- ڈاکٹروں کو امید ہے کہ اس سروے کی مد میں ان فوجیوں کی تشخیص ہو سکے گی جن میں مستقبل میں خود کشی کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے-

ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق اورافغانستان کی جنگوں کے باعث وہاں فوجیوں کی بار بار تعیناتی ان میں شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہے- جس کے نتیجے میں یہ فوجی خود کشی کی طرف مائل ہو رہے ہیں- نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹر رابرٹ ہینسن اور سروے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ سال کے دوران پانچ لاکھ فوجیوں سے ذاتی نوعیت کے سوالات کیے جائیں گے جسے ان کی تعیناتی تجزیے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا- اس سروے کی تحقیقت ہر تین ماہ میں پیش کی جائیں گی جن سے وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال کو سمجھنے اور جاننے مدد ملے گی-

امریکا نے فوجیوں کے خود کشی کے رجحان کو روکنے کے لیے 50 ملین ڈالر کے پروگرام کا اعلان کیا ہے- ساتھ ہی ساتھ وہ افغانستان میں امریکی افواج کے اضافے کا اعلان بھی کر رہے ہیں- جنرل سٹینلے کے مشیر یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان اوباما کی ناقابل فتح جنگ لڑنے کے لیے مزید 45000 فوجی درکار ہیں جو طالبان کی نہ رکنے کی پیش قدمی کا سامنا کر سکیں-

کانگریس کی ریسرچ سروس کمیٹی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان کی آٹھ برس کی جنگ پراب تک 23 ارب ڈالر امریکا خرچ چکا ہے- سنہ 2003ء تک 82 ملین ڈالر کا تخمینہ تھا جو کہ اس سال کے بعد 9.3 ارب تک پہنچ جائے گا- ادھر امریکا کے اندر بھی عوام الناس کی جانب سے حکومت پر دباؤ برھتا چلا جا رہا ہے-

امریکا کے سابق صدر بش کی بدنامی اور ان کی پارٹی کی انتخابات میں عبرتناک شکست کی بڑی وجہ عراق اورافغانستان کا ایشو تھا جن کی وجہ سے نہ صرف امریکا کو سخت مالیاتی دباؤ برداشت کرنا پڑے بلکہ تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے بھی دوچار ہوا-

ہونا تو یہ چاہئے کہ عراق اور افغانستان میں پے در پے ناکامیوں، امریکی فوجیوں کے جانی ضیاع اور خود ان کے اندر نفسیاتی بیماریوں اور خود کشی کو رجحان میں بے پناہ اضافے کے بعد امریکی حکومت کی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے بلا چوں چرا اور باعزت طریقے سے اپنی افواج کو واپس بلا لے وگرنہ حالات و قرائن اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ امریکا بہادر کا انجام سوویت یونین سے مختلف نہیں ہو گا-

بشکریہ (اعتماد) حیدر آباد - بھارت

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: