ڈاکٹر
عامر لیاقت حسین
سُنا ہے کہ وہ ناراض ہیں، سُنا ہے کہ اُن کے تن بدن میں آگ سی لگی ہوئی ہے ، سُناہے کہ اُنہیں میرا نام تک سننا گوارا نہیں، سُنا ہے کہ میں جس چینل پر نظر آتا ہوں اُسے اُنہوں نے 13نمبر پر لگا رکھا ہے اور وہمی انگریزوں کی طرح وہ13کے بجائے براہِ راست چودھویں چینل پر شاید یہ سوچ کر چلے جاتے ہیں کہ جو ”تیرہ“ ہے وہ ”میرا“ تو ہے ہی نہیں پھر کیوں اُسے دیکھوں اور کیوں اُس کی سنوں؟… ویسے بھی سچ تو یہی ہے کہ اُن کی نسبت چودھویں کے چاند سے ہے، جس طرح وہ ماہتاب ایک ماہ میں صرف ایک ہی رات کو یہ شرف بخشتا ہے کہ وہ اُس کی چاندنی سے فیض یاب ہو بالکل اُسی طرح وہ بھی مسئلہ اور مطلع صاف ہونے پر ہی وطن میں نظر آتے ہیں اور جیسے ہی ”متلی کی بدلی“ چھاتی ہے چپکے سے نکل جاتے ہیں تاکہ بقیہ 28 دن کہیں اوردکھائی دیں…
سُنا ہے کہ پھر جا رہے ہیں۔دماغ بھرے کم عقلو! اور بَلاکے ناشکرو! صدقہ دو اور اِن کی نظر اُتارو کہ یہ ہر بار جاکر واپس آجاتے ہیں…یہ صلاحیت کوئی معمولی صلاحیت نہیں بلکہ مجھے تو یقین ہے کہ یہی تو وہ ”دیدہ ور“ ہیں جواگر پہلے آجاتے تو نرگس کم از کم ہزاروں سال اپنی بے نوری پر تو نہ روتی!…بہر کیف اب آگئے ہیں تو قدر کرنا سیکھواور نہیں کر سکتے تو صبر کا دامن کیسے تھاما جاتا ہے یہی سیکھ لو…اِتنی ننھی سی جان اور کس قدربڑے بڑے کام! کوئی اور کر کے دکھائے تو جانوں!…تین ماہ میں پانچ مرتبہ برطانیہ دیکھنا بڑے دل گردے کی بات ہے …اور صرف برطانیہ ہی کیوں؟بار بار جہاز دیکھنا کیا کم اذیت ہے ؟یہ تو موئی آنکھیں ”شریف“ ہیں جو شکایت نہیں کرتیں، خدانخواستہ”میاں“ ہوتیں تو پلٹ کر یہ جواب ضروردیتیں کہ”صرف ایک بار دیکھنے کا معاہدہ تھا، ظالم تُو نے وہ بھی توڑ دیا “…
خیر مجھے ”سند باد جہازی“ کے کارناموں سے کیا لینا دینا ، میں ٹہرا ایک عام سا آدمی جو حالات کے سمندر میں برداشت کے بوسیدہ بادبانوں کا رُخ مسلسل خوش حالی کی موافق ہوا کی طرف موڑنے کی کوشش کررہا ہے اور کبھی کبھی عرشے پہ کھڑا ہوکر ”اے کپتان جہازسنبھالو! اے کپتان جہازسنبھالو!“ کی صدائیں بھی لگاتا ہے مگرجواباً اُس کی سماعتیں اِس کے سوا کچھ نہیں سن پاتیں کہ ”مت چلّاؤیہ میرا کام نہیں“… ستم تو یہ ہے کہ اگراِس ”بے نیازی“ سے اتفاق نہ کیا جائے تومجرم کا لقب پاتے ہوئے دیر بھی نہیں لگتی، اصرار کیا جاتا ہے کہ یہ تسلیم کروتم نے ایک معصوم کو عاصی بنانے کی سعی کی ہے ، بھلا تم کیا جانو کہ اُس نے کتنی ”قربانیوں“ کے بعد یہ منصب حاصل کیا ہے، ”اکڑو“ نے یہ کرسی اُسے طشت میں رکھ کر پیش نہیں کی،باقاعدہ معاملات طے ہونے کے بعد سخاوت کی رم جھم برسی ہے ، کئی ممالک نے بیچ میں پڑ کر بچاؤ کرایا، کچھ نے ڈرایا، کچھ نے سمجھایا تب کہیں جاکر قصرِ ابیض میں سامان رکھا ہے …اور ایک ہم ہیں کہ پیچھے ہی پڑ کر رہ گئے ہیں!چھوٹی سوچ کے پجاری یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ اُس کے”آنے جانے “ سے ملک کا کتنا بھلا ہوا ہے…
بے شک کم فہم یہ جا ن ہی نہیں سکتے کہ سفر کے ذریعے انسان دنیا میں رہن سہن کے طریقے سیکھتا ہے ، ملک و قوم کی خدمت کرتاہے اور دنیا کو یہ باآور کرانے میں کامیاب ہوتا ہے کہ میرے دیس میں امن و آشتی اور سکون و اطمینان کی انتہا تو دیکھو کہ میں کس قدر آسانی سے ”آوت جاوت“ کی دُھن پر اِتراتا پھرتا ہوں…غریب آٹے کی قطار میں مرے یا کوئی باپ اپنے بچے بیچتا پھرے، یہ میرا کام نہیں کہ دادرسی کے نام پراپناقیمتی وقت ضائع کردوں…دے تودیے ہر لاش کے ایک لاکھ روپے فی کس! اب کیا جان لو گے؟آٹے کی ایک بوری اور ایک ماہ کے راشن کے بدلے کہیں زیادہ قیمت چکائی ہے ہم نے !…18لاکھ روپے میں ”چھوٹا سا حادثہ“ خریدنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں،مرنے والوں نے اگر ”حوصلے“ سے کام لیا توہم بھی دام لگانے میں پیچھے نہیں رہے…!
حالانکہ مشاہدہ اور مشاہد دونوں یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک ”صوبائی معاملہ“ تھامگر میں اِ س کے باوجودچپ نہ رہا اورفرض کی ادائیگی میں سُرخرو رہا…اب کیا کریں ؟ کیا ہر وقت روتے رہیں،اِسی سانحے کا سوگ مناتے رہیں یا آگے کی بھی سوچیں؟…آگے متحدہ عرب امارات ہے ، ترکی ہے، امریکا ہے ، برطانیہ ہے… پوری دنیا ہے جو آنکھیں بچھائے بڑی بے چینی سے میری راہ تک رہی ہے …کتنا بُرا لگے گا اگر میں اِس پر خلوص دعوت کو قبول کرنے کے بجائے صرف اِس بنیاد پر ٹھکرا دوں کہ دھرتی کے چندبچے بھوکے ہیں…بھلاباپ گھر سے ”کمانے “ نہیں نکلے گا تو چولہا کیسے جلے گا؟ وہ اور بات ہے کہ پورا ملک ہی جل رہا ہے لیکن ہمیں تو بہرحال اپنے حصے کا کام کرنا ہی ہے …”بلیک اینڈ براؤن“ کو یہ کون بتائے گا کہ محرومی اور احتیاج نے بالاخرمسکان نگر کو فتح کرلیا ہے اور مسرتیں اب زندان میں سسک رہی ہیں …میں جاؤں گا تب ہی توکچھ ملے گا، عجیب قوم ہے کہ خوش حالی کا مطالبہ بھی کرتی ہے اور گھر سے نکلنے بھی نہیں دیتی… واللہ! میں اپنے لیے کچھ نہیں کرتا،جب ساتھ ”اپنے “ لیے ہی نہیں تو کچھ کرنے کا سوال ہی کیسے اٹھ سکتا ہے …افسوس! کہ میری ہر ادا باعثِ اعتراض ٹہرتی ہے ،سب نے مجھے تختہٴ مشق بنا رکھا ہے ، جس کے جی میں جب آتا ہے مجھ پر تنقید کے نشتر چلا دیتا ہے …بعض تو آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ بس گھاؤ لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں، سنگدل یہ بھی نہیں سوچتے کہ میں نے کس قدر تکلیف میں وقت گذارا ہے …اِس بھرپور ہنسی کے پیچھے نہ جانے کتنے قہقہے دفن ہیں یہ تو اقوامِ متحدہ کی وہ ٹیم بھی نہیں جان سکتی ۔
بہرحال ایک بات تو لکھی جاچکی ہے کہ مجھے حالات نے اتنا سخت جان بنادیا ہے کہ اب کسی بات کا مجھ پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا، کسی کو بھلا لگے یا برا ، میں ملک کی خدمت کرنے سے باز نہیں آؤں گا، یہ میرا آئینی اور قانونی حق ہے جو مجھ سے کوئی بھی چھین نہیں سکتا…سب کو چاہیے کہ میرا احسان مانیں کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ 15دن گذارنا بہت مشکل ہوجائیں لہٰذا” ڈیل کا شوشا “چھوڑے جارہا ہوں،15دن تک کھیلنے کے لیے کافی ہے ، توڑ سوچا ہوا ہے ، آکر بتادوں گا، چار پانچ روز تو تردید اور تجدید ہی میں گذر جائیں گے، فی الحال سیاست دان مصروف تو رہیں…چلو بھئی! طیارے تو پرواز بھرنے کے لیے تیار ہیں، قوم آٹے، چینی اور دالوں کے ”سطحی معاملات“ صوبائی حکومتوں سے مل کر حل کرے، خاص طور پر چینی کو تو لازماً حل کرے کیونکہ وہ حل کیے جانے کے لیے ہی تیار کی جاتی ہے…میں چلا، دشمن جلا…اچھا پھر ملیں گے !
اور وہ ہزاروں سوالوں کے درمیان قوم کو مبتلائے حیرت میں چھوڑ کر چل دیے ہیں…ٹیلی ویژن پروگرام کی طرح اُن کے دورے بھی ”وقفہ“ ہی تو ہیں…ایک بریک کے بعد وہ پھر سے ہمارے درمیان ہوں گے ،راشن کی قطاروں میں کھڑے بے بسوں کو مرتے ہوئے دیکھیں گے ، …لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بدامنی، بے یقینی، افراتفری…کچھ ختم ہونے والا نہیں کیونکہ ہم اِن کے ساتھ جینے کے عادی ہوگئے ہیں…ہم اپنا مستقبل بدلنے پر توقدرت نہیں رکھتے لیکن اپنی عادتیں ضرور بدل سکتے ہیں اور جس دن عادتیں بدل گئیں، مجھے یقین ہے کہ وہ مستقبل بھی بدل ڈالیں گی…!!!
