اشتیاق بیگ
نو ستمبر 2009 ء کو 30 ہزار ورکرز کی انتھک محنت اور 8ارب ڈالر کی لاگت سے 4 سال کی قلیل مدت میں گلف ریجن کی پہلی آٹومیٹک میٹرو ٹرین کا افتتاح ہوا۔ میٹرو ٹرین کی افتتاحی تقریب کے موقع پر راقم الحروف دبئی میں موجود تھا اور مجھے اس ٹرین میں سفر کرنے کا موقع ملا ۔ ٹرین میں سوار ہوا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی یہ مکمل آٹومیٹک ٹرین بغیر کسی ڈرائیور کے چل رہی تھی۔ باون کلومیٹر لمبی دبئی میٹرو جو 29 اسٹیشنز پر مشتمل ہے کا 25 فیصد حصہ انڈر گراؤنڈ اور 75 فیصد حصہ اوورہیڈ برج پر بنایا گیا ہے۔ دبئی کے ایک کونے راشدیہ سے لے کر دوسرے کونے جبل علی تک کا 50 کلومیٹر کا فاصلہ آپ آدھے گھنٹے میں طے کر سکتے ہیں۔ یہ میٹرو صبح 5 بجے سے لیکر رات کے 12 بجے تک 10-10 منٹ کے وقفے سے چلتی رہتی ہے اور اس کا ٹکٹ بھی نہایت مناسب رکھا گیا ہے۔
یورپ میں میرا اکثر بزنس کے سلسلے میں آنا جانا رہتا ہے اور وہاں اپنے قیام کے دوران میں ان کے انڈر گراؤنڈ اور میٹرو سسٹم میں کئی بار سفر کرتا رہا ہوں۔ دبئی کے میٹرو سسٹم کو میں نے جدید ترین ڈیزائن کا حامل اوریورپی ممالک کی بہ نسبت زیادہ بہتر پایا۔ یورپ کے انڈر گراؤنڈ اور میٹرو سسٹم میں ٹرین ڈرائیور چلاتے ہیں جبکہ دبئی کی مکمل آٹومیٹک اور بغیر ڈرائیور کے آپریٹ ہوتی ہے۔ دبئی میٹرو ریلوے کی مقبولیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ افتتاح کے پہلے ہفتے میں تقریباً 5 لاکھ سے زائد مسافروں نے اس میٹرو ریلوے میں سفر کیا۔ میٹرو پروجیکٹ کی تعمیر سے وہاں پراپرٹی اور زمینیں جو میٹرو اسٹیشنز کے قریب ہیں، کی قیمتیں 30 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ دبئی کو ٹریفک جام کی وجہ سے سالانہ 5 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا جو اب میٹرو کے چلنے کی وجہ سے نہیں ہو گا۔ میٹرو حکام کے مطابق 2020ء تک میٹرو کے ذریعے روزانہ ساڑھے چار ملین مسافروں کو لے جانے کا منصوبہ ہے۔ دبئی حکومت نے میٹرو ریل چلا کر ترقی اور خوشحالی کاایک اہم زینہ حاصل کرلیا ہے جو اس کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
دنیا میں انڈر گراؤنڈ ریلوے کا نظام سب سے پہلے انگریزوں نے 1863ء میں برطانیہ میں لندن انڈر گراؤنڈ ریلوے سسٹم کے نام سے بنایا جو آج تک بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ فرانس میں اس انڈر گراؤنڈ ریلوے سسٹم کو میٹرو کا نام دیا گیا۔ اسی طرح یہ نظام امریکہ کے بڑے شہروں میں بھی بہت کامیاب رہا ہے۔ ان ممالک میں نہ صرف عوام بلکہ وزراء اور امراء بھی زیر زمین چلنے والی ٹرینوں میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ سفر محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ آرام دہ بھی ہے۔ آج کے دور میں کسی ملک کے ترقی یافتہ ہونے کا اندازہ اس ملک کے انڈر گراؤنڈ یا میٹرو ریلوے سسٹم سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہانگ کانگ، سنگاپور، بینکاک اور دہلی جیسے شہر جنہوں نے بعد میں اس ریلوے نظام کی ابتداء کی اور وہ جگہ کی قلت کی وجہ سے انڈر گراؤنڈ نہیں بنا سکے، انہوں نے اسے اوور ہیڈ برج کی طرز پر بنایا اور یہ سسٹم وہاں بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ آج کے دور میں اس ملک کو ترقی یافتہ ملک نہیں تصور کیا جاتا جہاں ٹریفک کا جدید نظام موجودنہ ہو۔ کسی بھی ملک کے ٹریفک کا نظام اس کی معاشی اور سماجی خوشحالی کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ آج دنیا کے تمام بڑے شہروں میں زیر زمین ریلوے نظام میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہے مگر اس کے باوجود یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم ریلوے نظام میں مزید ترقی کرنے اور اس میں جدت لانے کے بجائے اسے صحیح طریقے سے برقرار بھی نہیں رکھ سکے۔ پاکستان میں انگریز دور کے بچھائے گئے ریلوے ٹریک میں گزشتہ چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہم اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرسکے۔ کراچی میں کچھ عرصہ قبل سرکلر ریلوے کا نظام شروع کیا گیا تھا اور روزانہ ہزاروں لوگ اس سے افادہ حاصل کر رہے تھے، مگر بعد میں حکومت اسے جاری نہ رکھ سکی۔ آج بھی پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں گاڑیوں کی تعداد میں ہوشربا اضافے کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر دبئی کی طرز پر میٹرو ریلوے سسٹم اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک عام آدمی کیلئے میٹرو کا سفر معاشی طور پر مفید ثابت ہو گا، اس کے علاوہ اس سے ایک طرف ہمیں ٹریفک جام کے مسئلے سے نجات ملے گی دوسری طرف لوگوں کو سفر کرنے کیلئے ایک جدید اور آرام دہ ٹرانسپورٹ مہیا ہو گی۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کا جدید طرز کے ٹریفک کا نظام ہماری ملکی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لہٰذا ہمیں اب مزید وقت ضائع کئے بغیر اس طرح کے نظام کو چلانے میں پیش رفت کرنا چاہئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دبئی کا میٹرو ریلوے دنیا کا ایک جدید سسٹم ہے جو دبئی حکومت نے اپنی عوام کی سہولت کیلئے مہیا کیا مگر اس کی کامیابی کا انحصار یہاں کے رہنے والوں پر ہے کہ وہ اس نظام کو کس حد تک اپناتے ہیں۔اپنے سفر کے دوران جہاں ٹرین میں دبئی میں مقیم دوسرے ممالک کے لوگوں کو سفر کرتے دیکھا وہاں مقامی آبادی کے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔
اس کے علاوہ ایک ہی ٹرین میں دو مختلف کلاسز (اکانومی اور فرسٹ کلاسز) دیکھ کر مجھے تعجب کے ساتھ افسوس بھی ہوا۔ جن ترقی یافتہ یورپی ممالک میں یہ نظام کامیاب رہا ہے وہاں ٹرین میں کوئی کلاسز نہیں ہوتیں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، امراء اور وزراء سب ایک ہی کلاس میں سفر کرتے ہیں جس سے ایک دوسرے سے سماجی رابطہ بڑھتا ہے۔ دبئی کی میٹرو ٹرین میں کلاسز رکھنے کی ایک وجہ وہاں کی مقامی آبادی کی شاید یہ سوچ بھی ہو کہ وہ کس طرح ایک ٹرین میں ان ایشین ورکرز کے ساتھ سفر کرسکتے ہیں جن کے کپڑوں سے پسینے کی بو آ رہی ہو۔ اگر یہ ذہنیت تبدیل نہیں ہوتی تو اس نظام کی کامیابی محال ہو گی لہٰذا ریلوے کے اس جدید نظام کی کامیابی مقامی لوگوں کی ذہنیت کی تبدیلی پر منحصر ہو گی۔
