پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعرات 12 شوال 1430هـ - 01 اکتوبر 2009م

غربت سب سے بڑی معذوری

 

منو بھائی

میں نے اپنی کسی تحریر میں اپنی زبان کی لکنت کو اپنی بعض خواہشوں سے محرومی کی وجہ بتایا تھا آج اس پر شرمسار ہو رہا ہوں کیونکہ صحافتی معروض کے ایک قابل قدر اخبار نویس اور منفرد کالم نگار ساتھی ایک نوازش نامہ میں بتاتے ہیں کہ ”میں بھی بہت سے پاکستانیوں کی طرح آپ کا قاری اور ناظر ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کا شاگرد بھی ہوں“ مگر یہ لکھنے والے میرے قاری اور ناظر ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ قاری ہونے کے لئے پڑھنے کی اہلیت اور ناظر ہونے کے لئے آنکھوں کے نور بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ میرے یہ کالم نگار ساتھی دیکھنے اور پڑھنے والی بینائی کے قدرتی نور سے محروم ہیں۔ میرے کالم پڑھ نہیں سکتے اور ٹیلیویژن ڈرامے بھی دیکھ نہیں سکتے لیکن انہوں نے قدرت کی اتنی بڑی نعمت سے محرومی کو اپنی معذوری بننے نہیں دیا بلکہ محتاج اپاہج بننے کی بجائے اپنا آپ بنایا ہے اور بہت ہی قابل ذکر اور لائق تعظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ابلاغیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کئی قومی اخبارات، رسائل اور جریدوں میں بطور صحافی کام کیا ہے۔ سفارتی برادری کے ایک انگریزی جریدے کے مدیر بھی رہے ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی پروگراموں میں میزبان کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ متعدد نامور شخصیتوں کے انٹرویو بھی کئے جنہوں نے جرائد میں اشاعت کے ساتھ پذیرائی بھی حاصل کی۔ مقتدرہ قومی زبان کے شعبہ ادارت میں 1988ء میں شامل ہوئے۔ ”اخبارِ اردو“ کی ادارت کے فرائض انجام دینے کے علاوہ ”پاکستان میں اردو“ کے عنوان سے پانچ جلدوں میں ایک تحقیقاتی کتاب بھی تصنیف کی۔ ان دنوں ایک اخبار کے مستقل کالم نگار بھی ہیں۔

غالباً وہ پاکستان کی قومی صحافت کے پہلے نابینا کارکن صحافی ہیں جنہوں نے اپنی قدرتی محرومیوں پر غلبہ پاتے ہوئے بغیر کسی ”بریل“ (Braille)کو سیکھے یا آزمائے انسانی مہربانیوں اور تعاون کو بروئے کار لاتے ہوئے ”پڑھ کر سنانے والے“ اور ”سن کر لکھنے والوں“ کے تعاون سے اپنی عملی زندگی کی قابل قدر کامیابیاں حاصل کیں۔ ان دنوں وہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی (JAWS)سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ کمپیوٹر کی سکرین پر تحریر کو سننے کی سہولت ہے مگر کالموں، اخباروں اور کتابوں کے ”قاری“ بننے کے لئے وہ انسانی تعاون حاصل کرتے ہیں اور میں نے ان کی اس ہمت کا تفصیلی ذکر اپنے جیسے ان لوگوں کو شرم دلانے کے لئے ہی نہیں کیا جو لکنت جیسی کمزوری کو اپنی زندگی کا ”سپیڈ بریکر‘ ‘سمجھ لیتے ہیں ان بے شمار لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کیا ہے جو قدرت کی انمول نعمتوں سے محرومی کو اپنے جوش اور جذبے کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیتے اگر دیانتداری سے غور کیا جائے تو غربت سے بڑی انسانی معذوری اور کوئی نہیں ہوسکتی اور لاکھوں کروڑوں سے زیادہ لو گ اس معذوری کو معذوری بننے نہیں دیتے بلکہ غربت کو اپنی اضافی اہلیت بنا کر زندگی کے سفر کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ جلدی اور بہتر رفتار سے عبور کیا ہے۔

جس نوازش نامہ سے اس کالم کا آغاز ہوا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ”گزشتہ دنوں آپ کا ایک کالم ”کہاں گئے وہ لوگ“ شائع ہوا جس کے آخر میں آپ نے تحریر کیا ہے کہ معلوم نہیں اپنے طالب علموں سے اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبت کرنے والے اور اس سلسلے میں کسی رنگ، نسل، مذہب اور فرقے کے امتیاز سے بالاتر رہ کر اپنے تدریسی فرائض سر انجام دینے والے استادوں کی نسل کہاں چلی گئی ہے؟ کیسے تلف کر دی گئی؟ اردگرد نصف صدی کے بعد بھی بے شمار لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں ان کی یادیں موجود ہیں تو وہ کس قدر عظیم اور کتنے سخت جان دیانتدار اور نیک ہوں گے“۔

ایسے جلیل القدر اساتذہ کی نسل کا کھو جانا پاکستان کے بڑے المیوں میں سے ایک ہے بہرحال ان اساتذہ میں جن کا آپ نے ذکر کیا ایک محترمہ استانی سردار بیگم میری نانی اماں تھیں۔ وہ اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کے ساتھ پچاس کی دہائی میں جوہر آباد ضلع خوشاب میں آکر آباد ہوگئیں۔ انہوں نے جس نیک نیتی سے اپنے تدریسی کیرئیر کو نبھایا وہ آپ جانتے ہوں گے شاید نیک نیت لوگ اب کائنات کو بہت زیادہ پسند ہوتے ہیں اسی لئے ایسے افراد ہر میدان میں لوگوں کی محبتیں اور احترام حاصل کرتے ہیں۔ نانی اماں سردار بیگم جوہر آباد ایک روحانی شخصیت کے طور پر بھی پہچانی جاتی تھیں۔ ان کا انتقال فروری 1976ء میں ہوا اور اسی شہر میں مدفون ہیں۔ ان کے انتقال کے روز جوہر آباد کے کسی گھر میں بھی کھانا نہیں پکا تھا۔

یہ بات سوچتے ہوئے بڑی تشویش میں مبتلا ہوجاتا ہوں کہ آپ جیسے لوگوں کے ذریعے ہمیں اپنی ثقافت کی کچھ یادیں اور قدریں مل جاتی ہیں مگر ہماری آئندہ نسل جسے غیر ملکیوں کے کمپیوٹر، موبائل اور سی ڈی مل گئی ہیں وہ اپنے آباؤ اجداد اور بزرگوں کو کیسے تلاش کرے گی۔ کیونکہ ان چیزوں میں ہماری اقدار اور تہذیب کے علاوہ سب کچھ ہے کیا آج سے 50سال بعد کوئی بہت بڑا ادیب اور صحافی ایسا کالم لکھ کر اپنے استادوں کو یاد کرے گا“؟

میرے محترم کالم نگار کا سوال بہت حد تک جائز ہے اور اس کا جواب دینا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوگا مگر مجھے انسان، انسانیت اور آنے والے حالات کی انقلاب آفرینی پر مکمل اعتماد ہے۔ یہ اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ پچاس سال بعد ہمارے جیسے لوگ اس دنیا میں موجود نہیں ہوں گے مگر شاعر نے کہا ہے کہ:

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اگلے پچاس سالوں میں دنیا کی معاشی اور معاشرتی زندگی میں اتنے زیادہ انقلابات آچکے ہوں کہ پچاس سال پہلے کا زمانہ ”پتھروں کا زمانہ“ لگے۔ زمانہ جاہلیت کہلائے بلاشبہ آنے والے انقلابات کا کوئی بیج سردار بیگم جیسی استانیوں نے بھی بویا ہو گا۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ)

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: