حامد میر
آخر کار شیخ رشید احمد نے بھی وہ کہہ دیا جو مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے ڈیڑھ سال قبل کہا تھا۔ چوہدری صاحب نے 18/فروری کے انتخابات کے فوراً بعد کہا تھا کہ ان کے ساتھ دھاندلی نہیں بلکہ ”دھاندلا“ ہو گیا ہے۔ اب شیخ رشید احمد بھی فرما رہے ہیں کہ انہیں انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے سیاست سے باہر کرنے کا منصوبہ 18/فروری سے پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا۔ شیخ صاحب کھل کر منصوبہ تیار کرنے والے کا نام زبان پر نہیں لا رہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ وہی ہیں جنہیں صرف دو سال قبل شیخ صاحب فرط محبت میں ”سیّد پرویز مشرف“ کہا کرتے تھے۔
سچّی بات تو یہ ہے کہ اپنے سیّد صدر کی ہر پالیسی کی اندھادھند حمایت ہی شیخ رشید احمد کی شکست کی اصل وجہ تھی لیکن صحافتی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ اب شیخ صاحب نے جس دھاندلی کا ذکر چھیڑا ہے اس کا بھی غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ انتخابات میں ”خاموش اور محدود دھاندلی“ کا منصوبہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پہلے تیار کر لیا گیا تھا۔ محترمہ کو بھی یہ اطلاعات مل چکی تھیں کہ پرویز مشرف انتخابات میں انہیں بہ مشکل ایک سو نشستیں دلوائیں گے جبکہ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ق) ہو گی۔ منصوبے کے مطابق مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مجموعی نشستیں پیپلز پارٹی سے زیادہ رکھی گئی تھیں تاکہ پیپلز پارٹی کو قابو میں رکھا جا سکے۔ انتخابی نتائج کو دنیا کیلئے قابل قبول بنانے کا فارمولا بھی ایجاد کر لیا گیا۔ اس فارمولے کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی، اسپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین، ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی، خورشید قصوری، شیخ رشید احمد اور مسلم لیگ (ق) کے کچھ دیگر وزراء کو جیتنے کیلئے مدد فراہم نہ کی جائے۔ منصوبے کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے کم از کم 70/امیدواران برائے قومی اسمبلی کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا ایک خصوصی فنڈ قائم کیا گیا، ہر امیدوار کے نام پر دو کروڑ روپے جاری کیے گئے لیکن اکثر امیدواروں تک یہ رقم نہیں پہنچی اور راستے ہی میں غائب کر لی گئی۔
قصہ مختصر یہ کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو یہ خبر ہو چکی تھی کہ پرویز مشرف امریکیوں کے ساتھ مل کر انہیں ”برائے نام وزیراعظم“ بنانے کا فیصلہ کر چکے ہیں لہٰذا انہوں نے نواز شریف کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کر لیا۔ محترمہ کی شہادت نے مشرف کے منصوبے کو چوپٹ کر دیا۔ عام لوگ چیف جسٹس کی برطرفی اور لال مسجد آپریشن میں بے گناہوں کی اموات پر پہلے ہی مشرف سے نالاں تھے اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت نے مشرف کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ کیا۔ مشرف نے محترمہ کی شہادت کے بعد انتخابات کو ایک ماہ کیلئے ملتوی کیا۔ اس ایک ماہ میں آصف علی زرداری بھرپور انداز میں انتخابی مہم نہ چلا سکے اور نوڈیرو بیٹھے رہے۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) نے ججوں کی برطرفی اور لال مسجد آپریشن کو خوب اچھالا اور توقعات سے بہت زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کو اکثریت تو مل گئی لیکن حکومت بنانے کیلئے اسے مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور اے این پی کی مدد چاہئے تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب مشرف نے چوہدری شجاعت حسین کو مسلم لیگ (ق) کی صدارت سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن چوہدری برادران نے مشرف کی ”ڈبل گیم“ کے مقابلے پر ”ٹرپل گیم“ کر ڈالی۔ چوہدریوں نے خاموشی سے آصف علی زرداری کے ساتھ صلح کر لی اور مشرف کو ایوان صدر سے نکالنے کے منصوبے میں شامل ہو گئے۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی نے پاکستان میں رہ کر حالات کا مقابلہ کیا۔ کہیں صلح کر لی، کہیں معافی مانگ لی، کہیں ناراضی دکھائی اور مشکل وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کو بھی قائم رکھا۔ دونوں کے سینے سیاسی رازوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن وہ یہ راز سامنے لائیں تو کس کیلئے؟ انہیں دھوکہ دینے والا اور ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ وہ ہے جسے چوہدری برادران دس مرتبہ وردی میں صدر بنانے کا اعلان کیا کرتے تھے۔
چوہدری برادران یہ بھی جانتے ہیں کہ مشرف نے ان کے ساتھ جو کچھ بھی کیا وہ ایک شخص کا نہیں بلکہ کچھ اداروں کا فیصلہ تھا لہٰذا وہ خاموش ہیں کیونکہ فی الحال وہ ان اداروں سے محاذ آرائی کے متحمل نہیں لیکن ایک دن تو یہ راز کھلے گا کہ پرویز مشرف نے 2008ء کے انتخابات سے قبل کن کن محترم سیاسی شخصیات کیلئے ڈیڑھ ارب روپے اکٹھے کیے اور اس رقم کا ایک بڑا حصہ کون کون کھا گیا؟ شیخ رشید احمد بھی یہ جانتے ہیں کہ 18/فروری کے انتخابات سے قبل ان کے ”سیّد صدر“ نے انہیں نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔ مشرف کا خیال تھا کہ وہ کشمیر پر جو سودے بازی کرنے والے ہیں اس پر شیخ رشید احمد خاموش نہیں رہیں گے لہٰذا انہوں نے شیخ صاحب سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا۔
آج شیخ صاحب اور چوہدری برادران اپنے قریبی دوستوں کے سامنے پرویز مشرف کی بے وفائیوں کے جو قصے بیان کر رہے ہیں وہ ہماری سیاست کا ایک ناقابل فراموش سبق ہے۔ سبق یہ ہے کہ جب کوئی وردی والا سیاست کرنے لگے تو اس پر کبھی اعتماد نہ کرو۔ پرویز مشرف نے 12/اکتوبر 1999ء کو جن کور کمانڈروں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کیا اس نے سب سے پہلے ان کور کمانڈروں سے باری باری نجات حاصل کی، پھر موصوف نے میاں محمد اظہر کے ذریعہ مسلم لیگ (ق) بنائی، 2002ء میں میاں محمد اظہر سے چوہدری برادران کے ذریعہ نجات حاصل کی، پھر چوہدریوں کی مدد سے ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا، جمالی کو شوکت عزیز کی مدد سے فارغ کیا اور آخر میں شوکت عزیز اور چوہدریوں سے بیک وقت نجات حاصل کرنے کی کوشش میں خود سب کچھ کھو بیٹھے۔ مشرف پاکستان سے بھاگ چکے ہیں لیکن جن لوگوں کے ساتھ مل کر وہ سیاستدانوں کے ساتھ ڈبل گیم کرتے رہے اور انہیں اپنی انگلیوں پر نچاتے رہے وہ لوگ ابھی تک پاکستان میں موجود ہیں۔ ان کی ڈبل گیم بدستور جاری ہے۔
وہ پنجاب حکومت کو کہتے ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے ضمنی الیکشن نہ کرواؤ اور مرکزی حکومت سے کہتے ہیں کہ کوئی خطرہ نہیں الیکشن ہونا چاہئے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ نواز شریف قومی اسمبلی میں نہ پہنچیں، دو بڑی جماعتیں آپس میں لڑتی رہیں، میثاق جمہوریت پر عملدرآمد نہ ہو اور مشرف اور ان کے ساتھی احتساب سے بچے رہیں۔ یہ ڈبل گیم زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ آج نہیں تو کل چوہدری برادران کو پورا سچ سامنے لانا ہی پڑے گا اور آخر کار وہ شہہ زور بھی عدالت کے کٹہروں میں نظر آئیں گے جو اپنی آئین شکنی اور عہد شکنی کے باوجود ہمیشہ محب وطن اور محترم کہلواتے رہے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)
