پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 18 شوال 1430هـ - 07 اکتوبر 2009م

غیرت ۔ کہاں ہے تو؟

 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

چند دن پیشتر میں اپنے ایک بہت عزیز دوست سے محو گفتگو تھا۔ یہ بین الاقوامی شہرت کے مالک ہیں۔ بیرون ملک قیام ہے اور ان کی کتابیں جرمنی اور انگلستان کے مشہور ناشروں نے شائع کی ہیں اور وہ دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں میں ریفرنس یا حوالہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ یہ پٹھان ہیں اور بنگش ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ گفتگو کا رخ ہمارے ملک کی شرمناک حالت اور بین الاقوامی سطح پر ایک بھکاری، راشی اور نااہل ملک کے طور پر شہرت یافتہ ہونے کی جانب مڑ گیا۔ گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارے ملک کی یہ بدنامی اور بری حالت کی خاص وجہ غیرت ، جی ہاں غیرت کا فقدان ہے۔ ہم نہایت بے شرم، بے حس ہو گئے ہیں اور ہمارے ہاں اخلاقی قدروں کا بحران پیدا ہو گیا ہے بلکہ غالباً لوگ اس تصور ہی سے قطعی نا بلد ہو گئے ہیں اور آپ کو یہ علم ہے کہ جس قوم کے کردار سے غیرت غائب ہو جائے تو وہ ایک مردہ جانور ہے۔

میرے دوست کے والدنے تقسیم سے بھی پیشتر انگلستان سے میڈیسن میں ایف آر سی ایس کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی تھی اور ہنگو میں واپس جا کر فقیر ایپی کے زخمی مجاہدین کی تیمارداری کی تھی۔ میرے دوست نے بتایا کہ بچپن میں انھیں ڈکشنری کی ورق گردانی کا شوق تھا اور ایک روز وہ لفظ غیرت کا انگریزی مترادف تلاش کرنے لگے مگر جواب نہ ملا۔ جب والد صاحب سے دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ تم اس قوم کی زبان میں یہ لفظ تلاش کر رہے ہو جو اس میں موجود ہی نہیں ہے وہ تو اس بات پر عمل پیراہے: ”ایمان داری بہترین پالیسی ہے“ ( اصول نہیں!) یہ وہ قوم ہے جو ہر چیز پر ذاتی اور ملکی مفاد کو ترجیح دیتی ہے اور ان کی صدیوں کی تاریخ اسی پالیسی کا مظہر ہے ۔ ہم دونوں کو اچانک احساس ہوا کہ ہم تو آج کل ان سے بھی بد تر صورت حال میں گرفتار ہیں کہ ملکی مفاد کو قابل فروخت کر دیا ہے اور قومی غیرت کا اب کہیں نام و نشان موجود نہیں۔میرے عزیز دوست پروفیسر محمد غزالی نے میری توجہ اس اہم موضوع کی جانب مبذول کی اور اس کالم کی تیاری کے لیے نہایت مفید مشورہ دیا۔ ان کا شکر گزار ہوں۔

غیرت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا شاید دنیا کی کسی زبان میں کوئی مترادف نہیں۔ اردو میں بھی ہم یہ لفظ ایک محدود مفہوم ہی میں استعمال کرتے ہیں جبکہ عربی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں عزت نفس، وقار، بہادری اور اعلیٰ ترین اقدار سے وابستگی اور ان اقدار کی خاطر ہر قربانی دینے کے تصورات شامل ہیں۔

اسلام سے پہلے بھی عرب لوگ غیرت میں بہت ممتاز تھے۔ جاہلی دور کے عظیم ترین شعراء میں عمرو بن کلثوم کا نام معروف ہے۔ یہ وہ سورما تھا جس نے اپنے زمانہ کے بادشاہ عمرو بن ہند کو بھرے دربار میں قتل کر دیا تھا۔ ہوا یوں کہ بادشاہ نے شاعر اور اُس کی والدہ کو آزمانے کی خاطر دعوت دی کہ کس حدتک ان کی غیرت ان کو بادشاہ کے سامنے جھکنے سے روکتی ہے۔ شاعر کی والدہ اندر ملکہ کے پاس بیٹھی تھی کہ ملکہ نے اس کو اُگالدان اُٹھا کر دینے کو کہا، گویا وہ مہمان نہیں اس کی خادمہ ہے۔ اس پر اس خاتون کی رگ غیرت بھڑک اُٹھی اور اس نے مدد کے لیے اپنے بیٹے کو پکارا۔ جونہی شاعرعمرو بن کلثوم نے جو بادشاہ کے پاس اس کی نشست گاہ میں بیٹھا تھا، اپنی ماں کی دہائی سنی، اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، تلوار سونت کر بادشاہ کا کام تمام کر دیا اور اسی جوش غیرت میں فی البدیہ اپنا مشہور قصیدہ پڑھا جو آج بھی عربی شاعری کے بہترین مجموعہ ”معلقات“ میں شامل ہے۔ عربی ادب سے دلچسپی رکھنے والے اس قصیدہ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ انگریزی میں بھی ان قصائد کا مجموعہSeven Odes کے نام سے معروف ہے یہ ترجمہ مشہور مستشرق اور مترجم قرآن A J Arberry نے کیا ہے۔

مسلمان قائدین، ان کے مقبول رہنماؤں اور ہیروز نے تاریخ کے ہر نازک موڑ پر دیگر صلاحیتوں کے علاوہ غیرت ہی کے جذبہ سے کام لیا ہے۔ سندھ کی فتح بھی اسی وجہ سے ممکن ہوئی کہ حجاج بن یوسف کے دل میں غیرت کے جذبات بیدار ہوئے۔ جیسا کہ سب پاکستانیوں کے علم میں ہوگا، مسلمان تاجروں کا ایک گروہ بحیرہ عرب میں تجارت کے سلسلہ میں آیا ہوا تھا۔ ان کے ہمراہ خواتین بھی تھیں۔ چند مقامی بحری قزاقوں نے ان پر حملہ کر کے ان تاجروں کو لوٹ لیا اورخواتین کی بے حرمتی کی۔ اس موقع پر ایک خاتون نے مدد کے لیے حجاج بن یوسف کو پکارا جو امویوں کی طرف سے عراق کا گورنر تھا۔ ایک شخص نے جو ان قزاقوں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا، عراق پہنچ کر گورنر کو ساری صورت حال بتائی اور اس خاتون کا بھی تذکرہ کیا جس نے حجاج سے مدد طلب کی تھی۔ حجاج یہ سنتے ہی غیرت کے جذبات سے کانپنے لگا۔ اس نے فوراً اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو فوج دے کر روانہ کیا۔ محمد بن قاسم نے محصور تاجروں اور ان کی خواتین کو قزاقوں کے قبضہ سے آزاد کیا، راجہ داہر جو مقامی ہندو راجہ تھا جس نے قزاقوں کی پشت پناہی کی تھی، اس سے ایک بھرپور جنگ کی اور اس کو شکست دی۔ محمد بن قاسم سندھ میں اتنے مقبول ہو گئے کہ انہوں نے اس علاقہ کو فتح کر کے یہ سارا علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل کر لیا۔

تاریخ اسلام کے تمام اہم واقعات اور کامیابیاں اسی غیرت ہی کے جذبہ کی مرہون منت ہیں۔ ہمارے قابل فخر رہنما اور اسلاف سچے مسلمان تھے اور عزت نفس، بہادری، وقار اور لامحدود قربانیاں دینے والے لوگ تھے۔ اپنے اعلیٰ نصب العین کی خاطر وہ جان کی بازی لگا دینے والے تھے۔

تاریخِ اسلام کے ہر صفحہ پر کوئی نہ کوئی زریں کارنامہ یا کامیابی ہمیں لکھی ہوئی نظر آتی ہے۔ ان ہی کامیابیوں کی بدولت مسلم ثقافت اور تہذیب، معاشرہ اور ریاست نے مسلسل ترقی کی اور تمام مشکلات اور چیلنجوں کا مقابلہ کیا۔ یہ مشکلات آج کل سے کہیں زیادہ تھیں جو آج ہمیں ناقابل عبور لگتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں کے اندر وہ اخلاقی خوبیاں اورعظمتیں بدرجہ اتم موجود تھیں جن کی بدولت وہ تمام مشکلات پر قابو پا لیتے تھے اور دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ جیتے تھے اور سراٹھا کر چلتے تھے۔ ان ساری خوبیوں اور صلاحیتوں میں سرفہرست یہی غیرت کا جذبہ تھا جو آج کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ آج ہمیں مسلمانوں کو خصوصاً پاکستانیوں کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ جذبہ غیرت اور عزتِ نفس ہے جس کو علامہ اقبال نے خود ی کا نام دیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان رہنماؤں اور حکمرانوں میں سب سے زیادہ یہی صفت نمایاں تھی۔ ان ہی ہیروز کی بدولت آج ہم ایک آزاد قوم کی حیثیت سے جی رہے ہیں۔ ہمارے ان رہنماؤں میں قیادت کی تمام مطلوبہ صلاحیتوں کے ساتھ غیرت کا وصف ایسا تھا جو ان کی شخصیتوں کا عنوان جلی تھا۔ ان رہنماؤں میں محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ سے لے کر سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید، علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر اور قائداعظم تک کی قابل فخر شخصیتیں شامل ہیں۔ ان سب شخصیات کی سوانح عمری کا مطالعہ اس بات کا مکمل ثبوت فراہم کرتا ہے کہ جذبہ غیرت ان کے کارناموں کا بنیادی جذبہ محرکہ رہا ہے۔

غیرت وہ جذبہ ہے جو نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا ہے۔ تعلیم و تربیت اور عملی مثالوں کے ذریعہ ہمارے بزرگ یہ جذبات اگلی نسلوں میں منتقل کرتے ہیں لیکن اگر کسی کو تعلیم یا ماحول سے یا اپنے خاندان سے یہ جذبہ نہ ملا ہو تو وہ محض عقلی دلائل سے اس کا قائل نہیں ہو سکتا ۔ یا تو کوئی فرد غیرت مند ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اس تحریر کو پڑھ کر شاید اس بات کی اہمیت کو سمجھنے میں مشکل محسوس کریں مگر بہت سے ایسے لوگ جن کی زندگی کی زندہ روایات ان اعلیٰ اقدار کی حامل ہیں جو انہوں نے اپنے بڑوں سے، اپنے اساتذہ سے اور مربیوں سے اور دیگر قابل تقلیدشخصیتوں سے حاصل کی ہیں ایسے لوگ یقینا اپنے قلب و روح میں ان خیالات کی صدائے بازگشت محسوس کریں گے۔ دراصل یہ سطور ایسے ہی لوگوں کے لیے لکھی گئی ہیں۔

غیرت کا مطلب یہ نہیں کہ غیظ و غضب کا مظاہرہ کیا جائے یا غصہ کے ردعمل میں غصہ اور طیش کا اظہار کیا جائے بلکہ غیرت ایک مثبت اور تعمیری جذبہ کا نام ہے۔ اسی جذبہ سے کام لے کر انسان اپنے سفلی جذبات پر قابو پاتا ہے اور اپنے اعلیٰ اور ارفع جذبات کو ابھارتا ہے ۔ اسی جذبہ کی مدد سے ہر انسان اور معاشرہ بیرونی خطرات کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو جاتا ہے۔ ایک معزز باوقار اور ایک ذلیل اور بے توقیر شخص کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ ایک غیرت مند اور دوسرا بے غیرت ہوتا ہے۔ ایک طوائف اور پاکباز عورت میں اگر کوئی فرق ہے تو غیرت اور بے غیرتی کا۔ طوائف کے نزدیک ایک معمولی فائدہ کے لیے اعلیٰ ترین اخلاقی اصولوں کو قربان کیا جا سکتا ہے جبکہ ایک پاکباز عورت کے نزدیک دنیا کی کوئی قیمت اس کی عفت کا سودا نہیں کر سکتی۔ ایک آزاد آدمی کسی قیمت پر اپنی آزادی کو قربان نہیں کرتا۔ غلامانہ ذہنیت کا حامل شخص چند ٹکوں کے عوض آزادی سے دستبردار ہو جاتا ہے۔

جب غیرت کا جذبہ اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے تو پورا معاشرہ، قوم اور ریاست دنیا میں عزت اور عروج حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کام کو کرنے میں قوم کے قائدین، رہنما، اساتذہ ، شعراء، مفکرین اور فلاسفہ ان تھک محنت اور لا محدود کوشش کرتے ہیں لیکن بعض ناعاقبت اندیش رہنماوٴں اور لالچی حکمرانوں کی بدولت معمولی لغزش اور غلطی برسوں کی قومی جدوجہد پر پانی پھیر دیتی ہے۔

آج ہمارے ملک اور قوم کو مادی وسائل ، مالی امداد، قرضوں اور زرمبادلہ کے ذخائر سے کہیں بڑھ کر جس چیز کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے وہ غیرت کا جذبہ ہے اسی جذبہ سے کام لے کر ہم انفرادی اور اجتماعی خرابیوں اور ذلتوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ کیا یہ چاند حاصل کرنے کی امید تو نہیں؟

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: