سعید صدیقی
کیری لوگر بل کے مندرجات جس طرح سامنے آئے ہیں اور قومی سلامتی جیسے مسائل سے صرف نظر کر کے حکومتی حلقوں میں اس کے حق میں ثناء خوانی کی جا رہی ہے، حیرت کا مقام ہے کہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اسے پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے منافی قرار دیا ہے۔ وہ اس بل کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کا عندیہ دے چکے ہیں جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ بل میں پاکستان کے منافی کوئی بات نہیں، یہ ہماری سلامتی اور مفادات کے عین مطابق ہے۔ بل میں شرائط رکھی گئی ہیں کہ پاکستان اپنی نیوکلیئر ٹیکنالوجی فروخت نہیں کرے گا، اپنی سر زمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا، فوج ملک کے جمہوری اور عدالتی نظام میں مداخلت نہیں کرے گی۔ یہ تمام باتیں ہمارے منشور میں شامل ہیں تو اس میں پاکستان کی شان کے خلاف کون سی بات ہے۔ قطع نظر اس کے کہ امداد ملنے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
امریکا نے جس طرح قوم کے محسن ڈاکٹر عبد القدیر خان کے خلاف نیو کلیئر ٹیکنالوجی فروخت کرنے کا جھوٹا الزام لگایا، آج تک ڈاکٹر صاحب اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ امریکا کو دوبارہ اس الزام کا اعادہ حکومت پاکستان کے خلاف کرنے سے کون روک سکتا ہے تو پاکستان کی حفاظت کے اثاثے کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
جہاں تک اپنی سرزمین دہشت گردوں کی دسترس سے دور رکھنے کا سوال ہے، الزام تراشی کا آغاز ہو چکا ہے۔ امریکی سفارت کار مسز این پیٹرسن نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے اڈوں کے متعلق امریکا کی ہٹ لسٹ پر کوئٹہ سب سے اوپر ہے، پاکستانی حکام نے طالبان کو بلوچستان میں منظم ہونے کی اجازت دی ہے، اگرچہ پاکستانی حکام واضح کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں طالبان نہیں ہیں لیکن افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر بلوچستان میں ملا عمر اور اسامہ بن لادن کی موجودگی کا الزام لگا رہے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں سے امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ افغانستان میں نیٹو کی افواج کو سپلائی بلوچستان کے راستے سے جاتی ہے، بلوچستان میں ڈرون حملے ہوں گے تو لوگ عاجز آ کر سپلائی روک سکتے ہیں، فساد برپا ہو سکتا ہے، بلوچستان میں بے چینی بڑھے گی، امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہو گا تو اس کے انتظار میں ہمسایہ ملک گھات لگائے بیٹھا ہے، وہ علیحدگی پسندوں کو امداد فراہم کر رہا ہے۔
دانا بینا جانتے ہیں کہ امریکا، عراق، افغانستان میں ناکام ہو کر پاکستان کو وار تھیٹر بنانا چاہتا ہے، بلیک واٹر کے نام سے خفیہ ادارے امریکی سفارت خانے کی توسیع، کمانڈوز کا ورود اور اسلام آباد کے حساس علاقوں میں مکانات خریدنے کی غرض و غایات سیکورٹی ہے یا جاسوسی نیٹ ورک کی سراغرسانی ہے۔ یہ وہ خدشات ہیں جن کی جھلک کیری لوگر امداد میں ملتی ہے۔ جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ امداد کیلئے عائد شرائط قومی سلامتی اور خود مختاری کے تابوت میں آخری کیل ہے، یہ پاکستان کے خلاف چارج شیٹ ہے جسے حکمراں اپنی کوششوں کا ثمر بتا رہے ہیں۔ اسلام آباد سمیت پورے ملک میں انفرا اسٹرکچر قائم کیا جا رہا ہے، سفارت خانے کی توسیع میں پاکستان کے تمام حساس مقامات کی مانیٹرنگ بھی شامل ہے جس میں حکومت پاکستان، اس کے ادارے یا عدالتیں مداخلت نہیں کرسکیں گی۔
الغرض ملک چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہے، مشرقی پاکستان جیسے حالات رونما ہو رہے ہیں، بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر قومی پرچم کو نذر آتش کر رہے ہیں، کالجوں میں قومی ترانے پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، نواب اکبر بگٹی کے قتل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا، کے سلوگن سننے میں آ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم، پارلیمنٹ، حکومت، حزب اختلاف سب مل کر ملک کی سلامتی کی فکر کریں۔ حکومت کو چاہیے امداد لینی ہے تو باوقار طریقہ اختیار کیا جائے، امریکا کو کہا جائے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف کوئی شرط منظور نہیں ہے، ہم اپنی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ بلوچستان شمالی وزیرستان نہیں جہاں امریکا ڈرون حملے کر رہا ہے، بہرحال وقت بڑا مشکل آن پڑا ہے، خطرات منڈلا رہے ہیں
آگ ہے ۔۔۔۔۔ اولادِ ۔۔ ابراہیم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
