پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعرات 26 شوال 1430هـ - 15 اکتوبر 2009م

آرمی کا مثبت کردار

 

انصار عباسی

گزشتہ ہفتے کور کمانڈرز میٹنگ کے خاتمہ پر آرمی کی طرف سے باقاعدہ ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیری لوگر بل کے کچھ نکات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرنا اگرچہ ایوان صدر کو ناگوار گزرا مگر حقیقت میں ملکی فوجی قیادت نے وہ کام کیا جو سیاسی قیادت اور جمہوری اداروں کی ذمہ داری تھی۔ کجا یہ کہ اس پاکستان مخالف بل کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا صدر پاکستان اس کے حق میں سب سے بڑے وکیل بن گئے امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے چونکہ کیری لوگر بل انگریزی زبان میں لکھا گیا اس لئے پاکستانیوں کو اس کو سمجھنے میں مسئلہ ہے۔

پاکستان آرمی کا ردعمل آنے سے پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی کیری لوگر بل کی تعریف میں گن گاتے رہے مگر بعدازاں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک درمیانہ رستہ اختیار کیا جس سے آرمی اور سول حکومت میں ٹکراؤ کا خطرہ ختم ہو سکتا ہے۔ کہنے کو تو یہ جمہوریت ہے مگر کیری لوگر بل یا اس سے منسلک شرائط پر کبھی نہ تو کابینہ پر بحث ہوئی اور نہ ہی پارلیمنٹ کے سامنے اس معاملہ کو پیش کیا گیا۔ وفاقی کابینہ کے سامنے پہلی بار کیری لوگر بل کو مختصر انداز میں اس وقت زیربحث لایا گیا جب صدر مملکت اپنے گزشتہ دورئہ امریکا کے دوران کیری لوگر بل کے تحت مستقبل میں ملنے والی امریکی امداد کے تناظر میں اوبامہ حکومت کی تعریف اور اس بل کا امریکی سینیٹ میں پاس ہونا اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

اس موقع پر کابینہ کے اجلاس میں ایک طاقتور اور مشہور وفاقی وزیر نے ہاتھ سے لکھی قرارداد پیش کرنے کی اجازت چاہی جس کے ذریعے صدر مملکت اور حکومت پاکستان کو اس ”کامیابی“ پر خراج تحسین پیش کی جانے کی درخواست کی۔ اکثر وزراء کے اختلاف کی وجہ سے ان وزیر صاحب کی خواہش پوری نہ ہو سکی مگر اس موقع پر بھی کابینہ میں اس بات پر بحث نہ ہوئی کہ کیری لوگر بل دراصل ہے کیا اور آیا اس میں کون سی ایسی شرائط ہیں جو پاکستان کے قومی مفاد کے برخلاف ہیں۔ پارلیمنٹ کے سامنے یہ مسئلہ اسی شام پیش کیا گیا جس روز پاکستان آرمی اپنا ردعمل عوام کے سامنے پیش کر چکی تھی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس مسئلہ پر یہ بحث جاری ہے اور اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ اس بل کو موجودہ شرائط کے ساتھ رد کر دے گی۔ پارلیمنٹ کے سامنے کیری لوگر بل کے پیش کئے جانے کی وجہ اس مسئلہ پر وہ بحث تھی جو پاکستان کے میڈیا نے پہلے دن سے شروع کی اور اس بل کو اسی روز انتہائی متنازعہ اور پاکستان دشمن قرار دیا جس روز صدر زرداری اور ان کے وفد کے ارکان امریکا میں امریکی سینیٹ میں کیری لوگر بل کے پاس ہونے پر خوشی منا رہے تھے۔

یہ کیسی جمہوریت ہے کہ صدر زرداری کیری لوگر بل پر امریکا کو پاکستان کے ایما پر پہلے ہی رضامندی کا اظہار کر چکے تھے جبکہ نہ تو کابینہ کے ارکان اور نہ ہی ممبران پارلیمنٹ کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ کم از کم یہ تو دیکھیں کہ اس بل میں کیسی شرائط موجود ہیں۔ جو حتمی بل امریکی کانگریس نے پاس کیا اس کے بارے میں پاکستان آرمی کو بھی کوئی اطلاع نہ تھی۔ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ صدر زرداری نے بھی شاید کیری لوگر بل کو نہیں پڑھا اور اپنے قریبی ساتھی پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے اس بل کے حق میں اپنا سارا وزن ڈال دیا۔

ایسے حالات میں جب پاکستان کا سودا کیا جا رہا ہو حکمرانوں کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہو‘ مقبول ترین عوامی رہنما اور اپوزیشن لیڈر نے معنی خیز خاموشی اختیار کی ہوئی ہو اور کابینہ اور پارلیمنٹ کو کوئی گھاس ڈالنے والا نہ ہو تو پھر فوج کی طرف سے بھی اگر ملکی مفادات کے دفاع کے لئے آواز نہیں اٹھائی جاتی تو پھر پاکستان کو امریکا کی غلامی کا طوق پہننے سے کون روکتا۔ پاک آرمی کی طرف سے کیری لوگر بل کے مسئلہ پرادا کیا گیا کردار اسی طرح کا مثبت ہے جس طرح آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ججوں کی بحالی کے موقع پر ادا کیاتھا۔ اب امید کی جا سکتی ہے کہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے بنائی گئی تکنیکی کمیٹی بھی کیری لوگر بل کو کسی وقت بھی مسترد کر دیں گی۔

پارلیمنٹ بھی موجودہ شرائط کے ساتھ امریکی امداد کو ٹھکرا دینے کی سفارش اسی ہفتہ کر دے گی۔ کریڈیٹ لینے کے لئے اب بہت سے لوگ تیار ہونگے مگر ایک بات طے ہے کہ ہم نے جنرل مشرف کی آمریت سے جان تو چھڑا لی اور گزشتہ سال کے الیکشن کے نتیجے میں تبدیلی کے لئے ایک واضح mandate بھی حاصل کر لیا مگر ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود آج بھی جس انداز میں اہم فیصلہ سازی یہاں ہو رہی ہے وہ ایک فرد کے اردگرد گھومتی ہے۔ جنرل مشرف کے زمانے میں آئین کے اندر کی گئی تبدیلیوں کی وجہ سے ہم پر ایک ایسا نظام مسلط کیا گیا جو نہ تو صدارتی ہے اور نہ ہی پارلیمانی۔

سترہویں ترمیم کے خاتمے تک فیصلہ سازی میں مشاورت‘ کابینہ کی شمولیت اور پارلیمنٹ کی Effectiveness کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ صدر آصف علی زرداری کی طرز حکمرانی نے صرف ایک سال کے عرصہ میں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کو انتہائی مایوس کیا۔ موجودہ حکومت اور صدر زرداری آج انتہائی غیرمقبول ہو چکے ہیں اور اگر ان کی طرز حکمرانی ایسی ہی رہی تو پھر آنے والے دنوں میں ایسی حکومت کو شاید کسی کے لئے بھی برداشت کرنا ممکن نہ ہو گا اور وسط المدتی انتخابات کا منعقد ہونا ناگزیر ہو جائے گا۔

جمہوریت کی تقویت اور خود حکومت کے مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ اپنا رویہ بدلیں اور شفافیت‘ میرٹ اور کرپشن سے پاک اصولوں کی بنیاد پر بہتر حکمرانی کی طرف قدم بڑھائیں۔ اداروں کو مضبوط کریں اور عوامی قوت پر بھروسہ کرتے ہوئے اس ملک کو بہتر مستقبل دیں اور کیری لوگر بل کو رد کرنے کے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے امریکا کا پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا وہ راستہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیں جسے مشرف نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے امریکا کی خوشنودی کے لئے کھولا تھا۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ)

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: