ڈاکٹر ملیحہ لودھی
لوئی کیرول کے ناول ”ایلیس اِن ونڈرلینڈ“ میں ایک ایسا جملہ ہے جو اس صورتحال کا احاطہ کرتا ہے جس میں آج امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان میں پھنسی ہیں ”اگر تمہیں نہیں معلوم کہ تم کہاں جا رہے ہو تو کوئی بھی راستہ تمہیں کہیں نہ کہیں پہنچا دے گا“۔ وہ بنیادی اسٹریٹجک مقصد جو امریکہ حاصل کرنا چاہتا ہے اسے امریکی صدر بارک اوباما کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں” القاعدہ کو تہہ و بالا اور منہدم کرکے اسے شکست دیدو“۔
سوال یہ ہے کہ آیا اس مقصد کے حصول کیلئے دوسرے مقاصد حاصل کرنا ضروری ہے یعنی طالبان سے لڑنا اور افغانستان میں قومی تعمیر نو۔ مغرب افغانستان سے راہِ فرار اختیار کرنے اور غیر منظم انداز میں مصروف عمل رہنے میں سے کسی کا انتخاب نہیں کرسکتا۔ یہ دونوں طریقے نامناسب ہیں اور یہ خطے کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ افغانستان سے عجلت میں انخلاء کے نتیجے میں وہی اسٹریٹجک غلطی دہرائی جائے گی جو 1990ء میں امریکہ نے اس ملک کو بحرانی کیفیت میں چھوڑ کر کی تھی جس کے نتیجے میں القاعدہ پروان چڑھی لیکن غیر منظم فوجی اضافے کے نتیجے میں مغرب کے اسی طرح کے جال میں پھنسنے کا احتمال ہے جیسا ویتنام میں ہوا تھا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا کوئی اختتام ہے اور نہ ہی کامیابی کی ضمانت۔
افغان تنازع کی وجہ سے گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کے استحکام کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ تیس سال قبل سوویت قبضے اور 2001ء کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیر ارادی نتائج نے پاکستان کیلئے بے مثال سیکورٹی، اقتصادی اور سماجی چیلنجز پیدا کردیئے۔ روسی قبضے کو ختم کرانے کیلئے طویل جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے نتیجے میں پاکستان کو شدت پسندی اور بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی شکل میں لامحدود مسائل ورثے میں ملے۔
ان پناہ گزینوں کی 20 لاکھ تعداد اب بھی پاکستان میں موجود ہے۔ 2001ء کی مداخلت کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں شدت پسندی اور ہیجان کو مزید فروغ ملا۔ کابل میں نسلی اقلیت کی نمائندگی کرنے والوں کو حکومت دینے سے بھی نقصان دہ نتائج برآمد ہوئے۔ بڑھتی افغان جنگ کے پاکستانی سرحد عبور کرنے اور اسلام آباد کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرنے کے نتیجے میں عسکریت پسندوں نے اپنی بندوقوں کا رخ پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب کردیا۔ اس پس منظر کے نتیجے میں یہ بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے بارڈر کے دونوں جانب شدت پسندی آپس میں کس طرح جڑی ہوئی ہے لیکن مقاصد، شدت اور مآخذ کے معاملے میں ان میں فرق پایا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ تنازع نسل اور قبائل کے درمیان تعلق سے جڑا ہے، دوسرے وسیع نظریاتی کشش، تیسرا القاعدہ کے تعلق، اور چوتھا سرحد کی دونوں جانب ان شدت پسندوں کی نقل و حرکت جو ایک دوسرے کو باہمی حمایت فراہم کرتے ہیں۔
یہ اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ (الف) افغان طالبان ایک قدیم اور مورچہ بند مظہر ہے جس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ایک منظم ڈھانچہ ہے۔ (ب) پاکستانی طالبان کے مقابلے میں افغانستان کے طالبان کی جغرافیائی لحاظ سے وسیع پیمانے پر موجودگی ہے۔ انہیں قبائلی علاقوں کے صرف اس حصے کی حمایت حاصل ہے جو ملکی حدود کا صرف تین فیصد حصہ ہے اور آبادی کے لحاظ سے دو فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔ (ج) انہیں اس بات کا ٹھوس یقین ہے کہ وہ غیر ملکی قوت پر کنٹرول حاصل کرلیں گے۔ اس کے برعکس تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایسے درجن بھر کمزور گروپس کا مجمع ہے جن کی نسل، مقاصد اور محرکات مقامی ہیں۔
اس تنظیم میں منظم کمانڈ اینڈ کنٹرول کا فقدان ہے۔ اس تنظیم کے مرکزی گروہ کو بیت اللہ محسود کی ہلاکت اور اس گروہ کو جنوبی وزیرستان میں پھیلنے سے روکنے اور محدود کرنے کیلئے پاک فوج کے جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سب سے اہم یہ کہ پاکستان میں عوامی جذبات فیصلہ کن انداز میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں یہ تنظیم ایک ایسی پوزیشن پر آچکی ہے جہاں یہ صرف وقتاً فوقتاً خود کش حملے تو کرسکتی ہے لیکن اپنا اثرو رسوخ نہیں پھیلا سکتی۔ عوامی حمایت کے بغیر پاکستانی طالبان اپنا اثرو رسوخ نہیں بڑھا سکتے لیکن افغانستان میں جاری تنازع تحریک طالبان پاکستان کو قبائلی علاقوں میں جواز اور بنیادی ترغیب فراہم کرتا ہے۔ اپنے ”طالبان“ کو تہہ و بالا، منہدم اور شکست دینے کے معاملے میں افغانستان میں اتحادی فورسز کے مقابلے میں پاکستانی فورسز بہتر پوزیشن میں ہے اور اس کی بنیاد باجوڑ اور سوات میں حالیہ آپریشن کی کامیابی ہے۔ فوجی کارروائی شروع ہونے کے چار ماہ کے اندر طالبان کو مالاکنڈ سے فرار ہونے پر مجبور کردیا گیا ۔
اور وہاں حکومت کی عملداری قائم کردی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان شدت پسندی سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے بشرطیکہ اس میں سرحد پار لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدتر پیچیدگیاں شامل نہ ہوں۔ یہ مزاحمت کو کچلنے کے اہم ترین سبق کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مقامی فورسز کامیاب کارروائیوں کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کو مزاحمت کے خلاف شدید مشکلات کا سامنا ہوگا خصوصاً ایسے وقت میں جب موجودہ حکمت عملی کو تبدیل نہ کیا گیا اور دھاندلی پر مبنی افغان صدارتی انتخابات نے ملک کو جائز حکومت سے محروم کردیا ہو۔
اس بدتر صورتحال میں امریکہ نے جس ردعمل کی تجویز پیش کی ہے وہ فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہے لیکن کس حد تک، کس قیمت پر اور اس میں کامیابی کے امکانات کیا ہوں گے؟ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سوویت یونین نے قبضے کے عروج کے دور میں ایک لاکھ چالیس ہزار فوجیوں کو مقرر کر رکھا تھا لیکن وہ بھی مزاحمت کچلنے میں ناکام رہا تھا۔ اگر بنیادی مقصد افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں القاعدہ کو تہہ و بالا اور اسے شکست دینا ہے تو کیا یہ فوجی اضافے سے ممکن ہے؟ اگر وضع کردہ مقصد آبادی کو بچانا ہے تو مزید فوجیوں کی موجودگی کا مطلب طالبان سے شدید جنگ ہوگا۔ اگر القاعدہ کو طالبان مسترد کردیں یا القاعدہ کو طالبان کے اس سمندر سے نکال باہر پھینکا جائے جس میں یہ زندہ ہے تو ایسی صورت میں القاعدہ کو افغانستان میں اور پاکستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے ضرورت ایک ایسی حکمت عملی ترتیب دینے کی ہے جس میں دونوں تحریکوں کو فوجی، سیاسی اور دیگر طریقوں سے علیحدہ کیا جا سکے۔ فوجی اضافے کے نتیجے میں دونوں تحاریک ایک دوسرے کے قریب آئیں گی اور دونوں کے تعلقات بگڑنے کی بجائے مزید مستحکم ہوں گے۔
افغانستان کی صورتحال کے متعلق تین منظر نامے ہیں (الف)فوجی اضافہ: … اس کا ہدف لازمی طور پر طالبان ہوگا اور اس کے نتیجے میں ملک کے پشتون اکثریتی علاقوں میں مخالفت بڑھے گی اور القاعدہ و طالبان کے درمیان قریبی تعلقات مستحکم ہوں گے جس سے القاعدہ کو ختم کرنے کے بنیادی مقصد میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ اگرچہ طالبان تمام پشتونوں کی نمائندگی نہیں کرتے لیکن وہ پشتونوں کی تکالیف کا استحصال اور غیر ملکی افواج کی موجودگی کو اپنی تنظیم میں بھرتی کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اگر مملکتوں کے اس قبرستان میں تاریخ ایک رہنما ہے تو مسئلے کا فوجی حل کامیاب نہ ہونے کی چند وجوہات ہیں (i) ملٹری فورسز میں اضافہ بھی دیہی علاقوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ناکافی ہوگا: آزاد تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 70 فیصد افغانستان میں طالبان مستقل بنیادوں پر موجود ہیں۔ اگر پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل ایک لاکھ افغان فوجیوں کے ساتھ مل کر بھی ماسکو اپنے لاکھ چالیس ہزار فوجیوں کے ذریعے مجاہدین کے خلاف کامیابی حاصل نہ کرسکا تو صورتحال اب کیسے مختلف ہو سکتی ہے؟ (ii) فوجی اضافے کے نتیجے میں لازمی طور پر یورپی اور امریکی فورسز کا بھی جانی نقصان ہوگا جس سے مغرب میں عوامی حمایت مزید کم ہوگی۔ شدت پسند بھاری نقصان اٹھا کر بھی لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ لڑائی میں پاکستان کے 7500 سیکورٹی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ کیا مغربی فورسز اس قدر بھاری جانی نقصان کے باوجود عوامی حمایت برقرار رکھ سکتی ہیں؟ (iii) اضافے کے نتیجے میں جنگی اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔ کیا یورپی پارلیمنٹ جو پہلے ہی اقتصادی بحالی کے مسئلے میں الجھی ہوئی ہیں اس بات پر رضامند ہوں گی کہ وہ لامحدود وقت تک نہ ختم ہونے والی افغان جنگ کیلئے رقوم فراہم کرتی رہیں؟ (iv) فوجی اضافے کے نتیجے میں خطے کی مقامی طاقتوں کے درمیان دشمنی بڑھے گی۔
جہاں تک اس کے پاکستان پر اثر کا تعلق ہے تو اس کی سرحد پر اس طرح کا فوجی اضافہ خطرات سے بھرا ہے اور کئی وجوہات کی بنا پر عدم استحکام کا خطرہ کم نہیں ہوگا بلکہ بڑھے گا۔ (I) اس سے ممکنہ طور پر شدت پسند اور القاعدہ کے جنگجو پاکستان میں گھس آئیں گے اور سرحد پار سے ہتھیاروں کی ترسیل میں بھی اضافہ ہوگا۔ (II) اس سے ملک سے گزرنے والے امریکہ و نیٹو کے سپلائی روٹس کیلئے بھی خطرہ بڑھ جائے گا کیونکہ فوجی اضافے کے نتیجے میں ضروریات بھی دگنی ہوجائیں گی۔ یہ ایک ایسی صورتحال پیدا کردے گا جسے عسکری ماہرین Battle of the Reverse Front۔ ان سپلائی لائنز کی حفاظت کیلئے پاکستانی فوجیوں کو بھی وسیع علاقے میں تعینات کرنا پڑے گا۔ (III) اس کے نتیجے میں افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا جس سے بلوچستان کے عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ (IV) افغانستان میں فوجی اضافے کے نتیجے میں پاکستانی سرزمین پر پُرتشدد جوابی کارروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ (V) سب سے اہم یہ ہے کہ زبردست لڑائی اور اس کے خاتمے کے نتیجے میں پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف جنگ کیلئے نازک سیاسی اتفاق رائے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
[یہ آرٹیکل مضمون نگار کی امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں حلفیہ شہادت سے ماخوذ ہے، بشکریہ روزنامہ جنگ] ۔۔۔۔۔۔ جاری ہے!
