پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعرات 26 شوال 1430هـ - 15 اکتوبر 2009م

ایک اور گھاٹے کا سودا

 

اشتیاق بیگ

اسرائیل ۔ عرب جنگ کے بعد امریکا نے مصر کے صدر انور سادات کو یہ پیشکش کی کہ اگر مصر اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو امریکہ اس کی فوجی اور مالی بھرپور امداد کرے گا۔ انور سادات نے کہا اگر مصر اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو مصر کی طرف واجب الادا 25/ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے ہوں گے۔ اور امریکہ نے مصر کے تمام قرضے جن کی مالیت آج کے حساب سے 50/ارب ڈالر سے بھی زائد بنتی ہے، معاف کر دیئے۔

عراق پر امریکی حملے سے قبل امریکی صدر بش نے ترکی سے یہ درخواست کی کہ اگر ترکی امریکہ کو عراق پر حملے کیلئے اپنی زمین اور ہوائی اڈے فراہم کردے تو امریکا اس کی بھرپور مالی امداد کرے گا۔ ترکی کے اس وقت کے صدر ایک دور اندیش لیڈر تھے اور وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ امریکہ اس سہولت کی کتنی قیمت ادا کرسکتا ہے۔ بولی بڑھتے بڑھتے 30/ارب ڈالر تک پہنچ گئی ۔ ترکی نے امریکہ کو یہ پیغام بھیجا کہ اس بات کا فیصلہ پارلیمنٹ میں کیا جائے گا۔ امریکہ کو یقین تھا کہ ترک پارلیمنٹ اتنی بے وقوف نہیں ہوسکتی کہ اتنی بڑی رقم کو ٹھکرا دے مگر ترک پارلیمنٹ کا فیصلہ امریکی توقعات کے برخلاف نکلا۔

ترک پارلیمنٹ نے امریکی پیشکش کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں یہ سہولت دینے سے انکار کردیا۔ ایسی صورت میں امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے کیلئے دوسرے راستے اختیار کئے جس پر امریکہ کے کئی گنا زیادہ اخراجات آئے۔ ترکی کے صدر سے ایک امریکی صحافی نے پوچھا کہ آپ نہیں سمجھتے کہ ترکی نے امریکی پیشکش کو ٹھکرا کر گھاٹے کا سودا کیا۔ ترکی کے صدر نے جواب دیا کہ امریکی یہ نہیں سمجھ سکتے۔ ترک قوم یہ نہیں چاہتی کہ کل آنے والی عراقی نسلیں ترکی کی طرف اشارہ کرکے یہ کہیں کہ ہمارے ملک پر قابض امریکی فوج ترکی کے راستے ہمارے ملک میں داخل ہوئے اور ہمارے بے گناہ آباؤ اجداد کا خون بہایا۔آج یہ دو واقعات لکھنے کا مقصد محض یہ بتانا ہے کہ ہر دور میں پاکستانی حکمران کتنے کمزور معاملہ کار ثابت ہوئے ہیں۔1979 ء میں افغانستان پر روسی جارحیت کے نتیجے میں جب امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنا چاہا تو جنرل ضیاء الحق اس کے عوض معقول مراعات حاصل نہ کر سکے ۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد جنرل مشرف نے ایک امریکی فون پر انہیں وہ کچھ دے دیا جو انہوں نے مانگا بھی نہ تھا ۔ امریکی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایک فوجی حکمراں نے نہ صرف اپنے ہوائی اڈے بلکہ زمینی راستے بھی امریکہ کے حوالے کردیئے اور سیکڑوں بے گناہ پاکستانیوں کو دہشت گردی کے الزام میں امریکہ کے حوالے کردیا گیا جہاں آج تک وہ گوانتاناموبے جیسی بدنام زمانہ جیل میں موت سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سودے میں مشرف کو ذاتی فائدہ ضرور ہوا اور اس کی حکومت 8 سال قائم رہی مگر پاکستان کو امریکی اتحادی بننے کی قیمت ادا کرنی پڑی اور پاکستان دہشت گردوں کے خود کش حملوں کا مرکز بن گیا، افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف حکومت قائم ہوگئی جو بھارت کے اشاروں پر ناچ رہی ہے اور آج افغانستان بھارت کی فوجی چھاؤنی بن گیا ہے۔

وزیر داخلہ رحمن ملک نے اقرار کیا ہے کہ جی ایچ کیو پر ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ ہے اور بھارت دہشت گردوں کو اسلحہ افغانستان کے راستے فراہم کررہا ہے کیونکہ جس طرح کا جدید اسلحہ استعمال کیا گیا ہے وہ ریاست کے پاس ہی دستیاب ہوسکتا ہے۔ایسی بھی خبریں ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ طالبان اور القاعدہ میں سرایت کرچکی ہے اور ان کو برین واش کرکے پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف لڑا رہی ہے تاکہ پاک فوج کو نقصان پہنچاکر دنیا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ افواج پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت نہیں کرسکتیں۔طالبان اور القاعدہ کی قیادت بھی یہ کہتی ہے کہ بھارت پاکستان کا دشمن ہے، ہمارا نہیں۔

فوجی حکمرانوں کے مقابلے میں ہمارے سویلین حکمراں بھی معاملہ کاری میں ان سے مختلف ثابت نہ ہوئے۔ محض ڈیڑھ ارب ڈالر کے عوض ملکی سلامتی کو داؤ پر لگاکر امریکہ فوج اور حکومت کے درمیان غلط فہمی کی دیوار کھڑی کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔اگر ہم امریکہ کو دی گئی صرف اپنی ٹرانزٹ سہولت ختم کرکے اس کی فوجی رسد کا دروازہ بند کردیں تو امریکہ نہ صرف افغانستان میں اپنی جنگ جاری نہ رکھ سکے گا بلکہ اسے اپنی سپلائی کیلئے نیا ٹرانزٹ روٹ تلاش کرنا ہوگا جس پر بے حساب خرچہ آئے گا اور افغانستان میں اس کے جنگی اخراجات بڑھ کر 100/ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔اگر ہمارے حکمراں یہ ہمت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ دن دور نہیں جب امریکہ بغیر کوئی شرط عائد کئے ہمارے قرضے معاف کرنے یا ترکی کی طرح اس سہولت کے عوض کئی گنا زیادہ مالی امداد دینے پر مجبور ہو جائے گا۔

محض ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی امداد حاصل کرنے کے لئے ہم قومی سلامتی کا سودا کر رہے ہیں اور خوش ہیں کہ ہم نے منافع کا سودا کیا ہے لیکن امریکی خوش ہیں کہ انہوں نے اتنے سستے داموں پاکستان کو خرید لیا ہے۔پہلی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ نہ صرف عوام بلکہ افواج پاکستان بھی اس امریکی امداد کے خلاف ہیں۔ اگر ہم اس امداد کو رد کر دیتے ہیں تو ہم دنیا میں سر اٹھا کر جی سکیں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر پارلیمنٹ ایسا فیصلہ کرتی ہے تو اس سے ملکی معیشت پر کوئی ناقابل برداشت بوجھ نہیں پڑے گا۔ سمندر پار پاکستانی جو اس سال 9/ارب ڈالر بھیج چکے ہیں، اس میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا اضافہ کرنا ان کیلئے ناممکن بات نہیں۔

اس کے علاوہ مجھ سمیت ہر پاکستانی ملکی سلامتی اور مفاد کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ترک پارلیمنٹ کی طرح ہماری پارلیمنٹ بھی کیری لوگر بل کو مسترد کر کے دنیا کو یہ پیغام بھیجے کہ پاکستان کوئی بکاؤ مال نہیں اور نہ ہی ہمیں کوئی کوڑیوں کے مول خرید سکتا ہے اور ہم ایسی تضحیک آمیز امداد کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم ہمیشہ گھاٹے کا سودا ہی کرتے آئے ہیں اور اب ایک اور گھاٹے کے سودے کو اپنی کامیابی تصور کررہے ہیں مگر قوم اس بار ایک اور گھاٹے کا سودا نہیں ہونے دے گی۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: