پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
جمعه 27 شوال 1430هـ - 16 اکتوبر 2009م

اخلاقی جرأت سے عاری قیادت

 

خالد مسعود خان

دس اکتوبر کو شروع ہو کر گیارہ اکتوبر کو علی الصبح ختم ہونے والے واقعے نے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ ہماری ہر طرح کی قیادت بشمول حکمران، سیاسی لیڈر، وزیر، مشیر اور ادارے اخلاقی جرأت سے بالکل عاری ہو چکے ہیں۔ ملتان میں مورخہ بارہ اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) کا ایک ایم پی اے اپنے برادر کلاں کے ساتھ بظاہر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے دس سال قبل میاں نواز شریف کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف ریلی نکالے ہوئے تھا مگر اس دوران وہ بارہ اکتوبر 1999ء کے حوالے سے کچھ فرمانے سے زیادہ موجودہ فوجی قیادت کو جی ایچ کیو پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر مبارکبادیں دیتے ہوئے بے حال ہوئے جا رہے تھے۔

ایک ٹی وی چینل پر ایک سیاسی لیڈر کے حوالے سے پٹی چل رہی تھی جس میں اس لیڈر نے جی ایچ کیو پر ”ناکام“ حملے پر اپنی طرف سے مبارکباد دی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا یہ ایک ناکام حملہ تھا؟ یہ حملہ ناکام تب ہوتا اگر حملہ آور جی ایچ کیو کے باہر پہلی چیک پوسٹ پر اول تو پکڑے جاتے یا پھر کچھ کرنے سے قبل مارے جاتے اور اس طرح وہ حملہ کرنے سے قبل ہی کیفر کردار تک پہنچ جاتے جبکہ ہوا اس کے بالکل برعکس ہے۔ حملہ آور پہلی چیک پوسٹ پر پہنچے۔ روکنے پر انہوں نے فائر کھول دیا۔ دستی بم پھینکے۔ پہلے ہی ہلے میں کئی جوانوں کو شہید کردیا۔ اگر معاملہ صرف یہیں پر ختم ہو جاتا تب بھی اس حملے کو ناکام قرار دیا جاسکتا تھا کہ حملہ آور دہشت گرد اپنے مقصد میں بہرحال ناکام ہو گئے ہوتے مگر معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا اور حملہ آور جی ایچ کیو کا سکیورٹی بیئریر کراس کرکے جی ایچ کیو کے اندر داخل ہوگئے اور اپنے چند ساتھی مروانے کے باوجود جی ایچ کیو کے سکیورٹی آفس کے اندر گھس گئے اور درجنوں افراد کو یرغمال بنالیا۔ اس دوران ایک بریگیڈیئر اور ایک کرنل بھی شہید ہوئے۔ پہلے دن چار حملہ آور دہشت گرد مارے گئے جبکہ چھ فوجی افسر اور جوان شہید ہوئے۔

چیک پوسٹ پر ہونے والی فائرنگ میں فوجی جوانوں کی شہادت تو بہر حال کسی حد تک سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی ذہنی طور پر حملے کے لئے نہ صرف تیار تھے بلکہ پہل کرنے کی آپشن بھی انہی کے ہاتھ میں تھی لہٰذا انہیں اس معاملے میں نیچرل ایڈوانٹیج حاصل تھی اور خصوصاً اس صورت میں جب وہ فوجی وردیوں میں ملبوس تھے لہٰذا ایسی صورت میں انہیں مبہم سے شبہے کی بنیاد پر گولیوں سے نہیں اڑا یا جا سکتا تھا مگر پہلے حملے کے بعد ان کا جی ایچ کیو میں داخل ہو جانا ہی اتنے اہم مقام کی سکیورٹی کی صورتحال پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کجا کہ وہ اس کے اندر داخل ہو کر سکیورٹی بلڈنگ میں جا کر دو مختلف جگہوں پر چالیس کے لگ بھگ جی ایچ کیو ملازمین کو یرغمال بنا لیں اور سارا کام محض نو آدمیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گروہ کرے جبکہ اس جگہ پر ان سے کہیں زیادہ تعداد میں مسلح پہریدار نہ صرف موجود ہوں بلکہ وہ موجودہ ملکی صورتحال میں ذہنی طور پر ایسے کسی واقعے کے لئے تیار بھی ہوں۔

پہلا حملہ صبح قریباً دس بج کر دس منٹ پر پیش آیا اور اس میں تھوڑی دیر بعد تک چار دہشت گرد مارے جاچکے تھے۔ اب باقی صرف پانچ دہشت گرد تھے جو قریباً ویسے ہی یا شاید اس سے بھی کمتر اسلحے سے لیس تھے جو جی ایچ کیو کی عمارت کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کے پاس موجود تھا۔ یہ بقیہ پانچ دہشت گرد پاکستان کے دفاعی اعتبار سے سب سے نازک اور اہم ترین مقام کے اندر داخل ہوگئے۔ یہ پانچ لوگ زیادہ سے زیادہ ایک ایک ہلکے ہتھیار ازقسم خودکار رائفل یا سب مشین گن سے مسلح تھے اور گمان کیا جاسکتاہے کہ ان میں دو تین لوگوں نے شاید خودکش حملے میں استعمال ہونے والی بارودی جیکٹ پہن رکھی ہوگی تاہم یہ جیکٹ جہاں ان کی برتری کا باعث تھی وہیں ان کے لئے ایک طرح سے مصیبت کا باعث بھی تھی کہ اس جیکٹ کی موجودگی میں کسی قسم کی گولی لگنے کی صورت میں یہ حملہ آور کے پرخچے اڑانے کے لئے خود ہی کافی تھی اور اس کو پہننے کے بعد مذکورہ شخص سے بہت زیادہ پھرتی کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم یہ محض غیرضروری باتیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اتنے اہم مقامات کی سکیورٹی پر جو لوگ متعین ہیں شاید وہ تربیت کے اس معیار سے نہیں گزرے جو موجودہ صورتحال میں درکار ہے۔

یہ حملہ آور دہشت گرد یقینا اس تربیتی مرحلے سے نہیں گزرے ہوں گے جس سے را اور موساد کے تربیت یافتہ ایجنٹ گزرتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس وہ جدید ترین ہتھیار اور آلات ہی تھے جن سے اسرائیلی اور امریکی کمانڈوز لیس ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر یہ تصور کیا جائے کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے در پے ہمارے ازلی دشمن اگر مکمل پلاننگ کے ساتھ ہمارے حساس اداروں ، عمارتوں یا پلانٹس کو نشانہ بنانا چاہیں تو کیا متوقع صورتحال پیش آسکتی ہے۔ حالیہ واقعے کے بعد جب میں چشم تصور سے ایسا دیکھتا ہوں تو کم از کم مجھے کوئی اچھی صورتحال نظر نہیں آتی اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ واقعہ شاید ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اس حملے سے دو باتیں اور سمجھ آتی ہیں اور وہ یہ کہ اس طرح ممکن ہے ہمارے دشمنوں نے ہماری صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہو اور اگر ایسا ہے تو ساری صورتحال ان کے لئے خاصی خوش کن اور ہمارے لئے باعث پریشانی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ممکن ہے اس حملے کے ذریعے انہوں نے پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہمارے اندر کس حد تک گھس کر کارروائی کرسکتے ہیں۔

اصل صورتحال کچھ بھی ہو یہ بات طے ہے کہ دن دہاڑے ہلکے اسلحے سے مسلح نو افراد نے جو کچھ کرکے دکھایا ہے وہ ہمارے لئے باعث فخر نہیں بلکہ باعث شرمندگی ہے اور ان دہشت گردوں نے جو کچھ کیا ہے شاید اس سے زیادہ کرنا ممکن بھی نہیں تھا۔ پانچ لوگوں نے قریباً بیس گھنٹے تک پوری قوم کو سولی پر لٹکائے رکھا اور اگلے روز صبح ساڑھے چھ بجے یہ سارا معاملہ اپنے انجام تک پہنچا۔ اس آپریشن کے دوران دو کمانڈو اور تین یرغمالی جاں بحق ہوئے اور اگلے روز تین زخمی کمانڈوز زخموں کی تاب نہ لا کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ اس طرح کل چودہ افسر اور جوان شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے اور ہم ہیں کہ اس کامیاب آپریشن پر مبارکبادیں دیتے ہوئے دم نہیں لے رہے۔ جن چیزوں پر سوالات اٹھانے چاہئیں ہم ان پر مبارکبادیں دے رہے ہیں۔ جن چیزوں پر انکوائری کمیٹی بٹھانی چاہئے ہم اس پر خوشی منا رہے ہیں۔ جن باتوں پر تحقیقاتی ٹربیونل بٹھانے چاہئیں ہم ان پر خوشی کی ریلیاں نکال رہے ہیں اور جن باتوں پر لوگوں کو استعفے دینے چاہئیں ان باتوں پر ہم انہیں تہنیتی پیغامات دے رہے ہیں۔ اقتدار کی خواہش اور جان کے خوف میں مبتلا لوگ قوم کی قیادت کر رہے ہیں یا اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہمارے حکمران ، سیاسی لیڈر اور ان کے بچونگڑے اخلاقی جرأت سے عاری ہیں اور ہماری اشرافیہ قابل شرم چیزوں کو باعث عزت سمجھنے لگ گئی ہے۔

ایک شخص سڑک پر بھاگتا ہوا آ رہا تھا۔ کسی دوست نے روک کر معاملہ پوچھا تو وہ کہنے لگا پچھلے چوک پر چند غنڈے اور بدمعاش قبلہ والد صاحب کو زدوکوب کر رہے ہیں۔ تاہم میں وہاں سے عزت بچاکر بھاگ آیا ہوں۔ آپ یقین کریں ہمارا معاملہ بھی قریباً اسی قسم کا ہے۔ یہ بات درست کہ ہمیں اندھا دھند بلا سوچے سمجھے اور بلاتحقیق کسی پر الزام نہیں لگانا چاہئے لیکن سارا ملبہ محض طالبان پر ڈال کر سکون سے نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ تحقیق کرنا چاہئے کہ آخر طالبان کے پیچھے کون ہے؟ سارا اسلحہ اور رقم کہاں سے آ رہی ہے؟ اربوں کے فنڈ کون دے رہا ہے؟ کل کلاں یہ کہا جائے گا کہ جو لوگ جی ایچ کیو کی حفاظت نہیں کرسکتے وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کیسے کریں گے؟ اگر امریکہ پینٹاگون پر جہاز گرانے کو نہیں روک سکا اور اس سے اس کا غیر ذمہ دار ہونا ثابت نہیں ہوتا تو جی ایچ کیو پر حملے سے ہم بھی غیرذمہ دار اور نا اہل ثابت نہیں ہوتے لیکن اگر ہم اس واقعے سے سبق حاصل نہیں کرتے تب ہم یقینا غیرذمہ دار بھی ہیں اورنا اہل بھی ہیں۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: