پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 02 ذو القعدة 1430هـ - 21 اکتوبر 2009م

گوانتانامو جیل کے امریکی فوجی کا قبول اسلام

 

اشتیاق بیگ

نصف شب کا وقت تھا، گوانتانامو جیل کے کیمپ ڈیلٹا میں تعینات 19 سالہ امریکی فوجی ہولڈ بروکس مراکش کے مسلمان قیدی نمبر 590 احمد الرشیدی سے سلاخوں کے باہر سے محو گفتگو تھا۔ بروکس کی خواہش پر احمد الرشیدی نے جیل کی سلاخوں سے ایک پرچی بروکس کے حوالے کی جس پر عربی اور رومن انگلش میں درج تھا ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں“۔

بروکس نے اس کلمے کو ادا کیا اور احمد الرشیدی نے اسے مسلمان ہونے کی مبارکباد دی اور اس کا نام مصطفی عبداللہ تجویز کیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا مگر ان کے درمیان میں جیل کی سلاخیں حائل تھیں۔

گوانتانامو جیل میں تعینات امریکی فوجی ہالڈ بروکس کے مراکش کے قیدی احمد الرشیدی کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کا یہ واقعہ میں نے مراکش کے اخبارات میں پڑھا۔ میں کام کے سلسلے میں کچھ دن قبل مراکش آیا ہوں۔ مراکش کے اخبارات میں امریکی گارڈ بروکس کی تصویر چھپی جس میں وہ خوبصورت داڑھی رکھے، ٹوپی پہنے اور ہاتھ میں قرآن لئے کھڑا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کے چہرے پر وہ نور عطا کیا ہے جو وہ اپنے خاص بندوں کو اپنی عنایت سے عطا کرتا ہے۔

گوانتانامو بے جیل میں تعیناتی کے وقت ہالڈ بروکس شراب کا رسیا، موسیقی کا دلدادہ اور اللہ کی واحدانیت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کے دائیں بازو پر نقش و نگار (Tattoo)بنا تھا جس میں تحریر تھا۔”شیطان کے کہنے پر چلو“ گوانتانامو جیل بھیجنے سے قبل ٹریننگ کے دوران اسے 9/11 کے واقعات کی وڈیوز دکھائی گئیں، اسے ٹوئن ٹاور جسے اب گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے، کا وزٹ کرایا گیا اور بتایا گیا کہ گوانتاناموبے میں قید مسلمان قیدی بدترین لوگ ہیں۔ یہ افراد اسامہ بن لادن کے ساتھی ہیں، ان میں کوئی بن لادن کا ڈرائیور، کک اور کوئی اس کا محافظ ہے اور یہ سب لوگ اس کے وفادار اور امریکہ کے دشمن ہیں اور یہی افراد 9/11 کے واقعے میں ملوث ہیں۔ اگر انہیں جب کبھی موقع ملا تو یہ آپ کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اس لئے ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جائے۔

گوانتانامو جیل کے مختلف کمروں میں بند قیدیوں پر کڑی نظر رکھنا اور ان کو تفتیش کاروں تک لے جانا بروکس کی ڈیوٹی میں شامل تھا۔ وہ روز ان قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم اور قرآن کی بے حرمتی کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا اور انہیں برا محسوس کرتا تھا۔ اس کے دوسرے ساتھی گارڈز شراب کے عادی، عیاش اور تعصب سے بھرپور تھے اور وہ حکام کی جانب سے ملنے والے احکامات پر اندھا دھند عمل پیرا ہوتے تھے۔ اپنی ڈیوٹی کے دوران اسے ان قیدیوں کے ساتھ ملنے کے کافی مواقع میسر تھے۔ ایسے میں اس کی دوستی مراکش کے قیدی احمد الرشیدی سے ہوگئی جو ہمیشہ اسے اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔

ہالڈ بروکس کا کہنا ہے کہ مسلمان قیدیوں کا اپنے مذہب سے لگاؤ اور ظلم و تشدد کے باوجود ان کے چہروں پر مسکراہٹ نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا۔جب اس کے دوسرے ساتھی رات کو سونے کیلئے چلے جاتے تو احمد الرشیدی کے ساتھ سلاخوں سے باہر کھڑے ہو کر گھنٹوں اسلام کے بارے میں آگاہی حاصل کرتا۔6 مہینے میں ہالڈ بروکس اسلام کی تعلیمات سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنے قیدی کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا۔ بروکس نے اسلام قبول کرنے کے بعد نہ صرف شراب بلکہ موسیقی سے بھی توبہ کر لی۔ شروع میں اس نے اپنے ساتھیوں سے اپنے مسلمان ہونے کا ذکر نہیں کیا اور یہ اس کیلئے آسان نہ تھا جب وہ ساتھیوں سے باتھ روم جانے کا بہانہ بنا کر پانچوں وقت کی نماز ادا کرتا۔

مسلمان ہونے کے بعد وہ اپنے فرائض منصبی سے نالاں تھا اور یہ محسوس کرتا تھا کہ حالانکہ اسے آزادی حاصل ہے جو ان قیدیوں کو حاصل نہیں مگر اس کے باوجود وہ ایک قیدی سے بھی بدتر ہے کیونکہ وہ اپنے افسران کا صحیح اور غلط حکم ماننے کا غلام ہے۔ اس کے لئے وہ لمحات بڑے ہی ناخوشگوار ہوتے تھے جب قرآن مجید کی بے حرمتی کی جاتی یا قیدیوں پر تشدد کیا جاتا۔جب اس کے افسران کو اس کے قبول اسلام کا علم ہوا تو انہوں نے اسے فوجی نظم و ضبط کا پابند نہ ہونے کا بہانہ بنا کر فوج سے نکال دیا۔

میں اپنے کئی کالموں میں گوانتانامو جیل میں قرآن کی بے حرمتی اور مسلمان قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے تشدد کا ذکر کرچکا ہوں۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی 4 جون 2005ء کی اشاعت میں واضح طور پر یہ خبر شائع کی کہ جنرل جے ہڈ جب گوانتاناموبے جیل کے انچارج تھے تو اس دوران امریکی فوجیوں اور تفتیش کاروں نے قرآن پاک کو ٹھوکریں ماریں اور تفتیش کے دوران وہ قرآن پاک کے اوپر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے قرآن پاک پر وہ غلاظت پھینکی جس کا نام لکھنا میرا قلم گوارا نہیں کرتا اور اس کے بعد اس ظالم امریکی فوجی نے قرآن کریم کو فلش میں بہایا۔ (نعوذ باللہ) اخبار کے اس انکشاف کے بعد پینٹاگون کی جاری کردہ تحقیقات کے مطابق گوانتانامو بے جیل میں مبینہ طور پر امریکیوں نے کم از کم 5 بار قرآن پاک کی بے حرمتی کی۔ امریکی حکومت نے پاکستانیوں کی دل آزاری کے لئے کچھ عرصہ قبل جنرل ہڈ کی تعیناتی پاکستان میں کر دی تھی جس پر میں نے ”بدنام زمانہ امریکی جنرل کی پاکستان میں تعیناتی“ کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا جو قوم کی آواز بن گیا اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں امریکہ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

صدر بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں براک حسین اوباما نے اعلان کیا تھا کہ وہ بہت جلد گوانتانامو بے جیل بند کر دیں گے مگر وہ ابھی تک اپنے وعدے پر عمل نہیں کر سکے۔ ابو غریب اور گوانتانامو بے جیسی جیلیں پوری دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ کررہی ہیں۔ جب تاریخ رقم کی جائے گی تو ان جیلوں میں قرآن کی بے حرمتی اور مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے مظالم کے بارے میں پڑھ کر آنے والی نسلوں کی آنکھیں شرم سے جھک جائیں گے۔ امریکیوں نے گوانتاناموبے جیل میں تعینات اپنے فوجیوں پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ مسلمان قیدیوں سے دور رہیں، غیر ضروری گفتگو سے اجتناب کریں اور بالخصوص ان سے دوستی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ مسلمان قیدیوں سے دوستی کے نتیجے میں امریکی فوجی اسلام قبول نہ کر لیں۔

گوانتانامو بے جیل میں تعینات امریکی فوجی اسلام اور اس کے ماننے والوں کے دلوں سے اس کی محبت کم کرنے میں تو ناکام رہے مگر ان کا ایک اپنا فوجی اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اور اپنے ساتھیوں کے اسلام کے بارے میں رویّے سے متنفر ہو کر مسلمان ہوگیا۔ہالڈ بروکس کے بازو پر بنے Tattoo جس پر ”شیطان کے کہنے پر چلو“ تحریر تھا اب ”خدا کے کہنے پر چلو“ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ گوانتانامو بے جیل پر تعیناتی نے بروکس کی زندگی کی کایا پلٹ دی اور وہ جنت کا حقدار بن گیا۔

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: