ڈاکٹر
عامر لیاقت حسین
کیا یہ طے کیا جا چکا ہے کہ اتوار یا اگلے جمعے تک ملک سے تمام دہشت گرد ختم کر دیئے جائیں گے؟ کیا یہ بھی اطمینان کر لیا گیا ہے کہ کچھ دنوں تک تعلیمی اداروں کے دروازے مسلسل بند دیکھنے کے بعد دہشت گرد مایوس ہوکر دوبارہ وہاں کا رخ نہیں کریں گے، اِسی لیے اِنہیں مقفل ہی رکھا جائے اور کیا اِس بات پر بھی یقین ہے کہ اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے دوبارہ کھلنے کے بعد "جذبہ انتقام" کی آگ سرد پڑ چکی ہوگی، یا ارادے بدل جائیں گے یا نفرت کے مادے پر رحم کا جذبہ غالب آجائے گا یا وہ خود ہی اِن اِداروں میں حصولِ تعلیم کے لیے داخلہ لے لیں گے؟…کون کہتا ہے کہ یہ حکمت عملی ہے؟ دراصل حکمرانوں سے صورت حال ہی نہیں سنبھلی ہے…!
امدادی نوٹوں کی گڈیوں سے محافظوں کی پڈیوں پہ سوار ہو کر امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دائیں بائیں دیکھ کرنکلنے والے یہ جاہ و حشم کے پیکر کیا جانیں کہ "باب العلم" پر تالے ڈالنے کے کیا نتائج نکلتے ہیں؟… علم کو "نہروان" میں اُلجھا کر "مشیروں" نے نہ کل فلاح پائی تھی اور نہ آج فلاح پا سکیں گے…حقیقتاً یہ در بند کرنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ ہم علم سے بے زار ہوگئے، علم کے دشمنوں نے ہمیں لرزا کے رکھ دیا اور ہم اِس قدر دہشت زدہ اور خوف زدہ ہیں کہ بھٹکے ہوؤں کی دھمکیوں سے گھبرا کراور مایوسی سے رہنمائی کے اُسی دروازے کی جانب اپنی پیٹھ کرلی جہاں سے داخل ہوئے بغیر ”شہر“ کا پتہ ہی نہیں چلتا…
آج اِس ملک کے اسکول، کالجز اور جامعات بند ہیں کیونکہ سرپھروں نے خود کش حملوں کی دھمکی دی ہے، کل یہی دھمکی اسپتالوں کو ملے گی تو اسپتال بند ہوجائیں گے، پھر دفاتر کو ملے گی تو دفاتر بند ہوجائیں گے، دکان داروں کو ملے گی دکانیں بند ہوجائیں گی، ٹرانسپورٹرز کو ملے گی پہیہ جام ہوجائے گا، ملوں اور کارخانوں کو ملے گی صنعتیں بند ہوجائیں گی بس صرف قبرستان والوں پر اِس دھمکی کا کوئی اثر نہیں ہوگا اِس لیے پاکستان کے کسی بھی گورستان کواورپاکستان میں موجود (قیام پذیر) کسی بھی گورے کو اِن دہشت گردوں سے کوئی خطرہ نہیں…اب ایک ہی حل ہے کہ یا تو ہم سب "گورے" بن جائیں یا پھر قبروں میں "بس" جائیں، خود سے نہیں بسیں گے تو وہاں بھیجنے کے لیے گوروں کے یہ "کالے"عرصے سے تُلے تو بیٹھے ہی ہیں اور ہم نہتوں کے لیے ایک آدھ خود کش حملہ کافی ہے …ورنہ تو "گورے" بن کر جینے کا تہیہ کر لیں۔
دعویٰ کرتا ہوں کہ کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا…"یارلوگ" اور سطح سے سمندر کو جانچنے والے میری اِن باتوں پر ہمیشہ ہی حیران ہوتے ہیں کہ اِس کم عقل کو بلا وجہ ہی دور کی کوڑی لانے کا شوق ہے، بھلا وزیرستان کے جنگجوؤں کا گوروں سے کیا تعلق؟ وہ تو خود اِس چمڑی کے خلاف ہیں، بس اِس کو فلسفہ بگھارنے اور قابلیت جھاڑنے کا شوق ہے، دماغ چونکہ امریکا کے خلاف نفرت سے بھرا ہوا ہے اِسی لیے موصوف کوہ قاف کے فسانے گھڑتے رہتے ہیں…لیکن…میں کیا کروں؟ تاریخ کے طالب علم کی سب سے بڑی مجبوری یہی ہے کہ وہ ماضی میں جھانکے بغیر ایسے حال اور مستقبل کی طرف نگاہ کرتا ہی نہیں جس کا مقدر بہرحال ماضی ہی بننا ہے …
میں نے تاریخ کے صفحات میں کئی راسخ العقیدہ مسلمانوں کو اپنی قیمت لگاتے دیکھا ہے، میں نے ابتدائی ابواب ہی میں عابد و زاہد کو "شیطان" بنتے دیکھا ہے، میں نے اُن "مسلمانوں" کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے توہین آمیز لہجے میں کہا (معاذ اللہ) اے محمد! اللہ سے ڈرو اورعدل کرو…اور جب سرکار کے جاں نثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اُس گستاخ کو قتل کرنا چاہا توعالی مرتبت خاتم النبیین نے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ فرد اُس قوم کا ہے جو خوب عبادت کرے گی، دین میں نہایت پختہ نظر آئیں گے یہاں تک کہ تم اپنی نمازوں اور روزوں کو (غور کیجیے گا، سرکار صحابہ کرام سے مخاطب ہیں) اِن کی نمازوں اور روزوں کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے اور وہ بت پرستوں (مشرکوں) کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے…
پھر میں نے عبداللہ ابن سبا میں یہ عکس دیکھا، عبدالرحمن ابن ملجم میں غرور و برتری کا نقش دیکھا، میں نے منکرین زکاة اور فتنہ ارتداد کے مخالفین کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے الجھتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور یارِ غار کی ثابت قدمی کو بھی آنکھوں سے چوما ہے… میں نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں اُس گستاخ "امام مسجد" کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے جو سورہ عبس کی تلاوت صرف اِس لیے کرتا تھا کیونکہ اُس میں (اُس کے فہم کے مطابق) اللہ نے رسول کی سرزنش کی ہے اور اُسے سرزنش کی تلاوت کرنے میں مزا آتا تھا (معاذ اللہ) …میں نے مدینے کے یہودیوں اور منافقین کی مشترکہ سازش سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی مظلومانہ شہادت بھی دیکھی ہے اور سیدنا علی کو دھوکا دینے والے خوارج کے ٹھٹھے بھی سنے ہیں، تاریخ کے اِن ہی صفحوں میں مجھے زبیر بن عوام کی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں دردناک شہادت نظر آتی ہے۔ سیدنا طلحہ اور عمار بن یاسر کے لہو میں لت پت لاشے دکھائی دیتے ہیں۔
حفاظ کی شہادتوں کو شمار کرتا ہوں یہاں تک کہ کربلا میں چھ ماہ کے ننھے علی اصغرکے پاک جسدِ اطہر نے کئی بار رلایا اورامام عالی مقام سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے کٹے ہوئے سر نے سرکارالعالمین کے آگے امت کے سر کو شرم سے جھکایا…میں نے یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں "کمزور مسلمانوں" کو بِکتے اور بَکتے(دونوں حالتوں میں) دیکھا ہے اور اگر تیزی سے صفحات پلٹتے ہوئے بنی امیہ، عباسی اور عثمانی دور سے کہیں آگے نکل کر سرزمین ہند آ جاؤں تو مسلمان ازبکوں اور تاجکوں کو چنگیز خان کے لیے دروازے کھولتے ہوئے بھی اِن ہی آنکھوں سے پڑھا ہے۔ خوارزم شاہ سے غداری کرنے والے بھی مسلمان ہی تھے،"سر" کا اعزاز پا کر انگریز کے حکم پر "تفسیر قرآن" لکھنے والے بھی "معزز مسلمان" ہی تھے اور آج بھی کہلائے جاتے ہیں…ایسی سیکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں موجود ہیں جب طاقت و مفاد کے لیے "چند بڑوں" نے پوری قوم کو بقا اور نظریئے کے نام پر خریداروں کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ جذباتیوں کو ایندھن بنا کر اپنے لیے دھن بنایا اوراب تک بنا رہے ہیں۔ وزیرستان میں بھی اور اِسی استان کی طرح کئی "استھان" ہیں، وہاں بھی!
سوال یہ نہیں ہے کہ یہ کون ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اِن کے پیچھے کون ہے؟ اور جواب بہت آسان ہے ، وہی جو بڑے آرام سے "سیکیورٹی رسک" پاکستان میں جب جی چاہے آ جاتے ہیں، چاہیں شرطیں منوانے آئیں یاغلاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے، اِنہیں کچھ نہیں ہوتا! یہ سوات بھی چلے جاتے ہیں، اسلام آباد میں بھی مٹر گشت کرتے رہتے ہیں، کوئی ڈر ہے نا خوف!…سہمے ہوئے تو میں اور آپ ہیں، اپنے ہی ملک میں دبک کر جینے پر مجبور اور مزے اُن کے ہیں جو دبانے کے بعد دبا کر جی رہے ہیں…اِسی لیے توعرض کیا تھا کہ "گورے" بن جائیں۔ دنیا میں"بچ" جائیں گے، یہ میں نہیں کہتا "عبرت" کے لیے میرا رب کہتا ہے اور قرآن پاک کی سورہ البقرہ کی آیت۰۲۱کے ایک جزو سے آواز آتی ہے کہ "آپ سے یہود ونصاریٰ ہر گز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ اُن کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں، آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے"…سوجنہوں نے پیروی کر لی ہے۔ یہ اُن سے راضی ہیں اور گوروں کے بَل اور بِل پر جی رہے ہیں۔
بل پر اِس طرح کہ این آر او کی رسی جلنے کے باوجود اب تک "بل" نہیں نکلے اور بِل پر ایسے کہ کیری کے خود چل کر آنے کا لحاظ کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے اِس پیار سے بِل منظورکر لیا کہ اب کیری کو ہماری عزت اور حمیت carryکرتے ہوئے ذرا بھی"وزن" محسوس نہیں ہو گا… وزیرستان کے غلام بھی خوش، پاکستان کے عوام بھی مطمئن…اسکول و کالجز بند ہونے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ پاکستان کے حالات خراب ہیں، پاکستان کے حالات جانچنے کے لیے "مارننگ شو" ہی کافی ہے جہاں خود کش حملوں میں جاں بحق ہونے والے عوام اور فوجیوں کو تھرکتی کمر اور ٹھمکوں کے ساتھ ہر روز خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے… کیونکہ اِس ملک میں اسکول تو بند ہو سکتے ہیں مگر ناچ نہیں…واقعی "ہم سب ناچ رہے ہیں“…!!
