منو بھائی
”ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جعل سازی“ کے عنوان سے چودہ ستمبر کے ”گریبان“ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے اعلیٰ قسم کے خوشبو دار باسمتی چاول عالمی منڈیوں میں ہندوستانی سوغات کے طور پر مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں۔ عالمی منڈیوں کی اس جعلی سازی میں سرفہرست پاکستان کے طبی آلات اور جراحی میں استعمال ہونے والے اوزار بیان کئے جاتے ہیں جو پاکستان میں تیار ہوتے ہیں مگر ان پر یورپ کی معروف کمپنیوں کی مہریں ثبت کی جاتی ہیں اور عالمی منڈیوں میں مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ ان کے اصل صنعت کاروں اور کاریگروں کو وہی اور اتنا ہی معاوضہ ملتا ہے جتنا پاکستان میں گنا اور کپاس اگانے والوں اور افغانستان میں گل لالہ اگانے والوں کو ملتا ہے۔
سیالکوٹ کی ”سرجیکل انسٹرومنٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان“ کے چیئرمین سرفراز احمد چودھری نے ا س کالم میں بیان کئے گئے حقائق کی تصدیق اور تائید کرتے ہوئے اس کی اشاعت کا شکریہ ادا کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان کے تجارتی اور صنعتی حلقوں میں ہی نہیں سرکاری اداروں میں بھی اس سلسلے میں ذمہ داریوں کا احساس جاگ سکتا ہے۔ اس تحریر میں تجویز کئے گئے اقدامات پر عمل کیا جائے تو پاکستان کی زرمبادلہ کی کمائی میں گونا گوں اضافہ ہوسکتا ہے۔ چودھری صاحب نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس نوعیت کے موضوعات پر مسلسل اور متواتر توجہ دی جائے گی۔
پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل کے ڈائریکٹر ماس میڈیا جناب انجم خلیق لکھتے ہیں کہ منو بھائی! آپ کا 24اکتوبرکا کالم ”پینے کے پانی میں سنکھیا کی ملاوٹ کا ذمہ دار کون ہے“ ایک بے حد اہم قومی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ آپ نے کئی اضلاع کے زیر زمین پانی میں سنکھیا جیسے زہر کی موجودگی کے انکشاف کے حوالے سے ہمارے ادارے (PCRWR)کی رپورٹ کا بجا طور پر حوالہ دیا ہے۔
گزارش ہے کہ کونسل کے ایک ملک گیر منصوبے ”نیشنل واٹر کوالٹی مانیٹرنگ پروگرام 2001-2002ء پر عملدرآمد کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ جنرل پنجاب اور وسطی سندھ کے اکثر اضلاع کے زیر زمین پانی میں سنکھیا کی حد سے متجاوز مقدار کی آمیزش دیکھی گئی ہے۔ جس کے تدارک پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے دو سال کے تجربات کے بعد PCRWRایک ایسا فلٹر تیار کرنے میں کامیاب ہوا جو کہ ایک ہی وقت میں پانی سے سنکھیا کے ساتھ ساتھ دیگر مضر صحت کثافتوں اور گدلے پن کے خاتمے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایشیا میں بنگلہ دیش اس مسئلے کا اس حد تک شکار ہے کہ صرف سنکھیا کے تدارک کے اقدامات پر خرچ ہونے والی رقم سے ہی وہ غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے بہت زیادہ دب گیا ہے جبکہ بحمد للہ پاکستان نے یہ ٹیکنالوجی کسی قسم کی غیر ملکی امداد کے بغیر خالصتاً اپنے مالی اور فنی ذرائع سے تیار کی ہے جس پر PCRWRکے کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ ادارہ ہذا نے ایسی سہل الاستعمال اور کم قیمت ICITSبھی بنائی ہیں جن کے استعمال سے مطلوبہ پانی میں سنکھیا کی موجودگی یا عدم موجودگی کا فوری پتہ چل جاتا ہے۔
انجم خلیق بتاتے ہیں کہ ان کے ادارے نے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متعلقہ حکومتی اداروں، صنعتکاروں، کسانوں اور ملک بھر کی واٹر سپلائی ایجنسیوں کو آبی ذخائر کے تحفظ اور ان کے موزوں اور باکفایت استعمال اور معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے معلومات اور مشاورت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کوپینے کے صاف اور محفوظ پانی کے استعمال کے فروغ کے بارے میں موثر کوششیں بروئے کار لانے کے مشورے بھی فراہم کئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ذرائع ابلاغ کی طرف سے بھی بجا طورپر معاونت کی آرزو رکھتے ہیں اور ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
انجم صاحب اس حقیقت کی تردید نہیں کریں گے کہ قیام پاکستان کے تریسٹھ سال بعد بھی پاکستان کے عوام کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اور وطن عزیز میں گندے پانی سے استعمال سے لاحق ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر مرنے والوں کی تعداد دہشت گردی کی وارداتوں میں کام آنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں کی بات نہیں کر رہا۔ بڑے بڑے شہروں کے مشہور شفا خانوں میں مریضوں کے استعمال میں آنے والے پانی کی بات کررہا ہوں۔
نو سال پہلے کی بات ہے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جب قومی زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں ”تھنک ٹینکس بنائے گئے تو ایک ایسا ہی ”ٹینک“ صحت اور حفظان صحت کے معاملات سے بھی تعلق رکھتا تھا۔ صحت کے اس ’ٹینک“کی ”تھنکنگ“ کو ٹیسٹ کرنے کے لئے میں نے ان کالموں میں لکھا کہ لاہور کے سب سے بڑے ہسپتال کے مریضوں کے استعمال میں آنے والے پانی میں سے ایک تہائی پانی زہریلا ہونے کی حد تک مضر صحت ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اس پانی کو ٹیسٹ کروانے والے ڈاکٹر سید محمد اویس کو بھی فون کر دیا کہ وہ میری بیان کردہ اس حقیقت کے ثبوت اپنے دفتر میں موجود رکھیں کیونکہ ملک کے نئے چیف ایگزیکٹو کا بنایا ہوا صحت کا تھنک ٹینک ثبوت مانگ سکتا ہے مگر میرے مذکورہ بالا کالم کی وجہ سے کسی بھی کان پر کوئی جوں رینگنے نہیں پائی اور رہ رہ کر وحشت کلکتوی مرحوم کا یہ شعر یاد آتا رہا۔
شرمندہ کیا جو............. ہر بالغ نظری نے
اس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نے
بشکریہ روزنامہ جنگ
