عارف قریشی
پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 25 جنوری 1919ء کو 42 ممالک نے مل کر دنیا کو جنگ کی تباہیوں سے بچا کر ایک پرامن ماحول فراہم کرنے کیلئے لیگ آف نیشنز (League of Nations) کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے مقاصد میں سب سے بڑا دنیا کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچانا اور ایسے ممالک جو جارحیت کے مرتکب ہوں ان کے خلاف اقتصادی اور فوجی پابندیاں عائد کرنا تھا اس کے علاوہ جنگ عظیم اول میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تلافی کیلئے آپس میں سماجی اور معاشی تعاون کیلئے مدد فراہم کرنا تھا۔ 1931ء میں جاپان کے مانچوریا پر حملے، 1935ء میں اٹلی کے ایتھوپیا پر کنٹرول، 1939ء میں البانیہ پر قبضہ اور جرمنی کے 1938ء میں آسٹریا پر حملے نے دوسری جنگ عظیم کی بنیاد رکھی۔
لیگ آف نیشنز مکمل طور پر اپنے منشور پر عمل درآمد کروانے میں ناکام ہو گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 24/اکتوبر 1945ء کو موجودہ اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی جس کے مقاصد لیگ آف نیشنز سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔ ابتداء میں اس کے قیام کو جرمنی کے خلاف ایک اتحاد کی نظر سے دیکھا گیا لیکن آہستہ آہستہ دیگر اقوام نے اس کی افادیت اور اہمیت کے پیش نظر اس میں شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی۔ 24/اکتوبر 2009ء کو جب اقوام متحدہ کی 64 سال مکمل ہونے پر سالگرہ منائی گئی تو اس کے ممبر مالک کی تعداد 192 ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے چالیس ہزار افسر اور اہلکار دنیا بھر میں 16/امن مشنز کے ساتھ تعلیم، صحت اور امن و امان کے سیکڑوں منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
مختلف امراض خصوصاً ٹی بی، پولیو اور ڈائریا کے انسداد میں اقوام متحدہ کا کردار بھی قابل تعریف ہے۔ اپنے قیام 1945ء سے لے کر اب تک 2588 اہلکار امن کی کوششوں کے قیام کیلئے اپنی قربانیاں دے چکے ہیں۔ جنرل اسمبلی نے 64 برسوں میں 762 اور جبکہ سلامتی کونسل نے انسانی حقوق کے حوالے سے 282 اور معاشی و معاشرتی مسائل پر 100 قراردادیں پاس کیں۔
پاکستان قیام امن کی کوششوں میں آج بھی سرفہرست ہے۔ اس کے 10626 اہلکار امن مشن کے لئے دنیا بھر میں مصروف ہیں۔ اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی ناکامیوں کی بھی ایک طویل سرفہرست ہے جس میں خاص طور پر کشمیر اور فلسطین میں 60 سال گزر جانے کے بعد بھی اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کروا سکا جس کے نتیجے میں وہاں بنیادی حقوق کی پامالی اور امن کا قیام خواب بن کر رہ گیا ہے۔ خاص طور پر امریکہ میں 11 ستمبر 2001ء کی دہشت گردی کے واقعے کے بعد اقوام متحدہ کی افادیت ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔
افغانستان پر 7/اکتوبر 2001ء کے حملے کے لئے بغیر ثبوت کے اقوام متحدہ کی قرارداد ضرور موجود ہے لیکن القاعدہ اور طالبان کی آڑ میں لاکھوں افغانیوں کے قتل عام نے اس ادارے کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ عراق پر امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے انتہائی تباہی کے ہتھیاروں کے پروپیگنڈہ کے بعد حملے کو اقوام متحدہ کی تائید حاصل نہیں تھی لیکن لاکھوں عراقیوں کے قتل عام نے عربوں کا اعتماد کافی حد تک اس ادارے سے کم کر دیا ہے حالانکہ 1990ء میں عراق سے کویت پر حملہ کیا تھا نہ صرف مغربی ممالک بلکہ اسلامی ممالک بھی اس جنگ میں امریکہ سمیت تمام افواج کے ساتھ کھڑے تھے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے جن میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی پر بھی جانبداری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی جانب سے دارفر کے مسئلے پر سوڈان کے صدر عمرالبشیر کے خلاف نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات تو لگائے جاتے ہیں لیکن عراق کے صدر صدام حسین جو کہ جنگی قیدی تھے اور ان کو جنیوا کنونشن کے برخلاف پھانسی دی گئی تو اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا اور نہ آج تک عراق سے کوئی (Mass Destruction Weapons) برآمد ہوئے ہیں جس کو بنیاد پر بنا کر عراق پر حملہ کیا گیا تھا۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کیلئے امریکہ سمیت پورا مغرب اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن اسرائیل اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ان کا رویہ مفاہمانہ ہے۔ گوانتانامو بے، بو غریب جیل اور بگرام ائیربیس پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت دیگر قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے شرمناک سلسلے کو بھی اقوام متحدہ روکنے میں ناکام رہا ہے۔ سلامتی کونسل نے اسلامی فلاحی تنظیموں جن میں حماس، جماعة الدعوة اور الرشید ٹرسٹ وغیرہ شامل ہیں ان کو دہشت گرد قرار دیا ہے لیکن بھارت اور اسرائیل کی جانب سے ریاستی دہشت گردوں کو لگام دینے کیلئے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
اسرائیل نے گزشتہ برس دسمبر 2008ء میں 1200 سے زائد فلسطینی عورتوں اور بچوں کے علاوہ خود اقوام متحدہ کے اسکولوں اور طبی اداروں پر وحشیانہ بمباری کرکے ان کے اہلکار ہلاک کئے لیکن امریکہ نے اسرائیل کیخلاف قرارداد تک منظور نہ ہونے دی بلکہ اس کو ویٹو کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں یہ تاثر بھی عام ہوتا جا رہا ہے کہ ایسے مسائل جو مغرب سے متعلق ہوں ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ماضی قریب میں مشرقی تیمور اور آئرلینڈ کے معاملات تھے لیکن افغانستان، عراق، کشمیر، فلسطین اور چیچنیا میں اقوام متحدہ کی ناکامی ایک سوالیہ نشان ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے سلامتی کونسل کی نشستوں کو بڑھانے کی بات ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت، برازیل اور بعض دیگر افریقی ممالک لابنگ بھی کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا کیونکہ ان ممالک میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خود ابھی تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا اور وہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کر کے اپنے زیر کنٹرول علاقوں پر اپنا تسلط مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقل نشستوں کی تقسیم میں ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس میں تمام اقوام کو اپنا تحفظ محسوس ہو۔
اس سلسلے میں رواں ماہ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر افریقن یونین کونسل اور لیبیا کے سربراہ نے سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کے حوالے سے انتہائی مدلل اور قابل عمل تجاویز پیش کی ہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ کی تنظیم نو کے سلسلے میں جنرل اسمبلی سے اس پر غور کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین جس میں 27 ممالک شامل ہیں اسے سلامتی کونسل میں ایک مستقل نشست دی جائے۔ افریقن یونین جس کے ممبر ممالک کی تعداد 53 ہے اسے بھی ایک نشست حاصل ہو۔ لاطینی امریکہ کے ممالک کے اتحاد یا گروپ بھی ایک نشست کے مستحق ہیں۔ اسی طرح آسیان تنظیم کے ممالک کو بھی ایک نشست دی جائے۔ روسی فیڈریشن کو بھی ایک نشست حاصل ہونی چاہئے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ جس میں باون ریاستیں شامل ہیں ان کے پاس پہلے سے ایک نشست موجود ہے۔ سارک تنظیم کے ممالک اگر متفق ہوں تو ایک نشست وہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ عرب لیگ جس میں 22 عرب ممالک شامل ہیں کو سلامتی کونسل میں ایک نشست دی جائے۔ اسلامی کانفرنس جس کے ممبر ممالک 57 ہیں ان کو بھی ایک نشست ملنی چاہئے ۔غیر جانبدار تنظیم کے ممبر مالک 120 ان کو بھی ایک نشست کا حق ہے۔ Form of the Small G-100 states) کیلئے بھی ایک نشست مخصوص کی جائے۔
کرنل قذافی کے مطابق مذکورہ اتحادوں یا گروپوں کے بعد بھی کچھ ممالک باقی رہ جاتے ہیں تو ممکن ہے کہ ان کیلئے بھی ایک نشست مخصوص کی جا سکتی ہے یا ان کو کسی نہ کسی اتحاد کے ساتھ ان کی خواہش کے مطابق اکاموڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کو 64 برس ہو گئے ہیں کہ وہ نیویارک میں قائم ہے اب اسے دنیا کے کسی دوسرے حصے میں منتقل کیا جانا چاہئے۔ بہرحال یہ وہ تجاویز ہیں جن کو جنرل اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے ان تجاویز کے مطابق سلامتی کونسل کے مستقل ممبر ممالک کی تعداد پانچ سے بڑھ کر 20 سے 25 ہوجائے گی اور دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں ہو گا جس کی نمائندگی اس میں موجود نہ ہو۔
تمام اقوام کو خواہ ان کا تعلق کسی بھی خطے سے ہو تحفظ کا احساس اقوام متحدہ کے منشور پر عمل درآمد کروانے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی تنظیم نو نہ کی گئی تو یہ تاثر دن بہ دن زور پکڑے گا کہ اس ادارے کی تیسری دنیا کے ترقی پذیر اور غریب ممالک کیلئے قوانین ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک سے مختلف ہیں۔ خدانخواستہ اگر سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں میں دوبارہ ترقی اور مغربی ممالک کا ہی اضافہ کیا گیا تو پھر یہ ادارہ آہستہ آہستہ اپنی قدر و اہمیت کھو دے گا جو شاید پھر کسی تیسری بڑی جنگ کو نہ روک سکے۔
