غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ حملوں کا جواز اسرائیل اور امریکا نے اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی راکٹ بازی کو قرار دیا ہے- اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ جنرل یاکو وامیڈرور نے کہا ہے کہ ’’دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہو گا جو اپنے عوام پر راکٹ حملوں کے باوجود خاموش رہے-‘‘ یقینا ہر ریاست کی طرح اسرائیل کو بھی حفاظت اور سلامتی کی ضرورت ہے لیکن سلامتی تشدد کے ذریعے نہیں خریدی جا سکتی- اگر تل ابیب یہ سمجھتا ہے کہ سنگین تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے سے وہ اپنے لیے سلامتی حاصل کررہا ہے تو یہ اس کی بھول ہے-
دنیا جانتی ہے کہ غزہ پر جارحیت کا مقصد محض راکٹ حملوں کا جواب نہیں ہے بلکہ اسرائیلی حکومت کے دیر مذموم مقاصد بھی ہیں جنہیں وہ ریاستی دہشت گردی کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتی ہے- 27 دسمبر 2008ء کو غزہ میں اسرائیلی جہازوں کی بمباری تین منٹ اور چالیس سیکنڈ تک جاری رہی- اس میں 60 فائٹر جیٹ طیاروں نے حصہ لیا اور غزہ میں بیک وقت 50 مقامات کو نشانہ بنایا جس میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، تب سے یہ غیر انسانی جارحیت جاری ہے-
اس پہلی خوفناک یلغار کے ایک گھنٹہ بعد اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں وزیر خارجہ زیپی لیونی ان کے دائیں جانب جبکہ وزیر دفاع ایہود باراک بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے- اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’حماس سے منسلک اہداف پر بمباری کا سلسلہ متعدد مراحل میں سے پہلا ہے- اس مشن کی تکمیل میں وقت لگ سکتا ہے- لہذا ہم میں سے ہر ایک کو صبر و سکون کے ساتھ مشن کے پورا ہونے کا انتظار کرنا چاہیے-‘‘ اس پریس کانفرنس اور اس کے بعد کسی نے اسرائیلی وزیر اعظم سے یہ سوال نہیں کیا کہ اسرائیل کا مشن کیا ہے؟ وہ کیا اور کیوں چاہتا ہے؟ نہ ہی اسرائیلی ارباب اختیار نے اس کی کوئی تفصیلی وضاحت کرنا گوارا کی- لہذا ضروری ہے کہ اس مشن اور مقصد کی کھوج لگانے کے لیے تحقیق و تجزیے کا سہارا لیا جائے-
غزہ پر حالیہ جارحیت اتنی غیر منطقی ہے کہ دنیا بھر کے باضمیر افراد و اقوام کی طرح اسرائیلی دانشور بھی اس کی مذمت کررہے ہیں- 29 دسمبر کو برطانیہ کے اخبار ’’دی گارڈین‘‘ میں اسرائیل کی Ben-Gurion University کے شعبہ سیاسیات و حکومت کے سربراہ نیوگورڈن کا ایک مضمون "What is Israel’s Goal" کے عنوان سے چھپا جس میں موصوف نے حالیہ اسرائیلی جارحیت کا تجزیہ کرتے ہوئے اسرائیلی مقاصد کی وضاحت کی ہے، نیو گورڈون نے سوالوں پر غور کیا اور لکھا کہ اولمرٹ جس مشن کی بات کررہے ہیں اس کے چار مقاصد ہیں-
پہلا مقصد حماس کو تباہ کر کے رکھ دینا ہے- دوسرا مقصد جلد ہی ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں مخالف پارٹی کو شکست سے دوچار کرنا ہے- تیسرا مقصد اسرائیلی ملٹری کے 2006ء میں حزب اللہ سے شکست میں کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنا اور چوتھا مقصد محمود عباس کی صدارت بچانے کے لیے حماس کو مجبور کرنا-
اسرائیلی پروفیسر نیو گورڈون نے درست تجزیہ کیا ہے- بلاشبہ اسرائیلی جارحیت کا اولین مقصد حماس کو تباہ کرنا ہے- اسرائیلی سیاسی تجزیہ نگار کا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت اس مذموم مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی- حماس کے چند رہنماؤں اور سینکڑوں کارکنوں کے نقصان سے اس تنظیم کی مجموعی قوت و طاقت ضرور متاثر ہوسکتی ہے لیکن جسے حماس کہتے ہیں وہ ایک طاقتور عوامی تحریک ہے جسے بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے- اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ حماس کے رہنما ہتھیار ڈال دیں گے تو یہ غلط ہے- ماضی میں بھی جب کبھی اسرائیل نے حماس کو ٹارگٹ بنایا اس کی طاقت اور بڑھی ہے-
غزہ و فلسطین پر یلغار سے اسرائیل جو دوسرا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ عنقریب اسرائیل میں ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں لیکوڈ پارٹی کو شکست دی جاسکے- لیکوڈ کے رہنما بنیامین نیتن یاہو کی مقبولیت کچھ عرصہ میں بڑھی ہے- ان کے مخالفین میں زیپی لیونی اور ایہود باراک دونوں شامل ہیں- وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے حملہ کے فوری بعد جو پریس کانفرنس کی اس میں ان دونوں کو ساتھ بٹھانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ نیتن یاہو کو زک پہنچائی جاسکے- یاہو جیسے جنگ پسند سے مقابلے کے لیے زیپی لیونی اور باراک کا جنگجو امیج دکھانا ضروری تھا- اسی لیے غزہ پر جارحیت شروع کردی گئی-
غزہ پر حالیہ وحشت و بربریت کا ایک اور مقصد اسرائیلی فوج کے تشخص سے متعلق ہے- 2006ء میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیلی فوج ہزیمت اٹھانے اور شکست کھانے کے بعد کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھی کہ ایک بار پھر اپنی فوجی بالادستی قائم کرے- تین منٹ چالیس سیکنڈ میں پچاس مقامات کو نشانہ بنانے کا مقصد یہی تھا کہ اسرائیلی فوج یہ ثابت کرسکے کہ وہ کوئی معمولی فوجی طاقت نہیں ہے- اس سے وہ لبنان میں کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال کرسکتی ہے-
غزہ کو ٹارگٹ بنانے کا چوتھا مقصد حماس کو بہت کچھ ماننے پر مجبور کرنا بھی ہے- اسے اس تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جلد ہی محمود عباس کی میعاد صدارت ختم ہو رہی ہے- فتح اور حماس کے درمیان اب تک کوئی مفاہمت نہیں ہوئی کہ فلسطین نیشنل اتھارٹی کی صدارت 9 جنوری کے بعد کسے سونپی جاسکے- اسرائیل چاہتا ہے کہ محمود عباس صدارت پر برقرار رہیں- اولمرٹ کا خیال ہے کہ غزہ پر حملے کی وجہ سے حماس کے لیڈر اس پوزیشن میں نہیں رہیں گے کہ محمود عباس کی برطرفی کے لیے دباؤ ڈال سکیں-
اتفاق دیکھئے کہ اسرائیلی دانشور کی جانب سے بیان کردہ چاروں مقاصد میں فلسطین کی جانب سے آنے والے قائم کردہ راکٹوں کو روکنے کا مقصد شامل ہی نہیں جس کا پرزور پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے- حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ فلسطینی راکٹوں کے آنے کا سلسلہ بند ہو کیوں کہ ان ہی کی وجہ سے اسرائیل فلسطین کے خلاف کارروائیوں کا جواز حاصل کرتا ہے- ورنہ القسام راکٹوں کو روکنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سمیت اسرائیل کے پاس متعدد اور طریقے ہیں جنہیں استعمال میں لایا جاسکتا ہے- ویسے بھی گزشتہ چھ ماہ سے راکٹ بازی بند تھی اور جنگ بندی تھی- جب کبھی راکٹ پھینکا گیا وہ اسرائیل کے اشتعال دلانے پر پھینکا گیا-
ان چھے ماہ میں اسرائیل نے کئی طریقوں سے حماس کو اشتعال دلایا کبھی غیر قانونی طور پر محصورین کو سزا دے کر اور کبھی سرحد کو سیل کر کے، کبھی لازمی اشیاء کی رسد روک کر اور کبھی ناکہ بندی کے ذریعے- پروفیسر نیو گورڈن کا خیال ہے کہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدہ کو جاری رکھتا کیونکہ اس دوران کافی سکون تھا لیکن جنگ پسند طبقوں کو خاموشی بار معلوم ہوتی ہے، اگر حکومت اسرائیل واقعی چاہتی ہے کہ عوام کو امن و سکون کی زندگی گزارنے کا موقع دے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ بحیثیت ایک ملک کے خطہ میں اپنا وجود برقرار رکھے تو اسے تشدد سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کے طریق کار کا پابند ہونا پڑے گا-