پرِنٹ کیجئے
بھیجئے
Bookmark and Share
مشاركة
بدھ 23 ذو القعدة 1430هـ - 11 نومبر 2009م

جنوبی وزیرستان ۔ خدشات اور مواقع

 

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن کا پشاور میں سامنے آنے والا ردّ عمل ان افسوس ناک اور اہم ترین چیلنجز کی یاد دلاتا ہے، جن کا سامنا مستقبل میں ملک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران کرنا پڑے گا۔ 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے اس وحشیانہ حملے نے دہشت گردی کی پرتشدد کارروائیوں میں ہونے والے جانی نقصان کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، صرف اکتوبر انتہائی تباہ کن مہینہ ثابت ہوا ہے جس میں 300 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں زمینی کارروائی سے قبل ہی اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تشدد میں اضافہ اور جوابی بم حملوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔ لیکن تشدد کی اس لہر کی سطح، پھیلاؤ اور شدت اپریل میں سوات میں کئے گئے آپریشن کے اس سلسلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

دونوں معاملات میں مقصد صرف حکومت کے عزم کو ہلانا، ملٹری آپریشن کے اخراجات میں اضافہ اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کیلئے عوامی حمایت کو ختم کرنا تھا۔ لیکن، پہلے کی طرح، جوابی رد عمل کا الٹا ہی نتیجہ سامنے آیا ہے۔ عوامی عزم ختم کرنے کی بجائے، انہوں نے سرکاری عزم کو مزید مستحکم کردیا ہے تاکہ وہ اپنے راستے پر چلتے رہیں اور طالبان کے خلاف زبردست اشتعال پھیلا دیا ہے۔ پشاور میں ہونے والے قتل عام نے عسکریت پسندوں کے چیلنج کی ہیبت ناک تصویر پیش کرنے کے علاوہ ان سے فیصلہ کن انداز سے نمٹنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

17/ اکتوبر کو شروع کیا جانے والا آپریشن راہِ نجات اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے اور مہینوں تک جاری رہنے والی مشاورت و مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والی حکمت عملی اور محتاط تیاری کے تحت منصوبے کے مطابق جاری ہے۔ ملک کی تاریخ میں مزاحمت کچلنے کیلئے یہ اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے جس میں 60 ہزار فوجی جوان حصہ لے رہے ہیں جن میں 45 ہزار کو لڑائی کیلئے جبکہ 15 ہزار کو ان کی مدد کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔

اس آپریشن کا مقصد ملک کو درپیش خطرے کے اسٹریٹجک مرکز پر حملہ، تحریک طالبان پاکستان سے علاقے کا قبضہ حاصل کرنا اور اس تنظیم کو اس علاقے میں دوبارہ واپس نہ آنے دینا ہے جو پہلے اس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ یہ آپریشن پاکستانی طالبان، القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے درمیان گٹھ جوڑ ختم کرنے کیلئے ایک منظم کارروائی بھی ہے۔ کئی برسوں سے جنوبی وزیرستان نے مختلف نسل، نظریات اور مقاصد کے حامل عسکریت پسند کھلاڑیوں کیلئے ایک مرکز، اڈہ، محفوظ پناہ گاہ اور تربیتی مراکز فراہم کئے ہیں۔ یہ عسکریت پسند ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرتے اور مل کر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے۔ اپنی جنگ پاکستان کے شہروں تک منتقل کرنے کیلئے قبائلی علاقوں کی یہ ایجنسی دہشت گردوں کے ایک مرکز کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔

مختصراً یہ اس لئے ہے کیونکہ آپریشن کا بنیادی مقصد ان ٹھکانوں کا خاتمہ اور دہشت کے اس انفرا اسٹرکچر کا قلع قمع ہے جو عسکریت پسندوں نے جوابی حملے کرنے کیلئے پھیلایا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں افراتفری پھیلی لیکن اس سے مختلف شہروں میں موجود نیٹ ورکس اور چھپے ہوئے اڈے ظاہر ہوگئے جن سے حکام کو نئی معلومات پتہ چلی ہیں۔ سوات اور باجوڑ میں کئے گئے کامیاب آپریشنز کی بنیاد پر جنوبی وزیرستان میں شروع کی گئی کارروائی اگر مہینوں نہیں تو ہفتوں کی مشقوں کے بعد شروع کی گئی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان کے مضبوط ٹھکانوں کے داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ کرلیا گیا، عسکریت پسندوں کی سپلائی لائن توڑنے کیلئے تنظیم کے ٹھکانوں کا محاصرہ کرلیا گیا اور طالبان کے وزیری گروپ کو محسود قبائل سے علیحدہ کیا گیا۔

ماہِ اگست میں میزائل حملے میں بیت اللہ محسود کی ہلاکت سے تحریک طالبان پاکستان غیر منظم ہوگئی۔ جاں نشینی کے بحران کے دوران چھڑنے والی ہلاکت خیز لڑائی کی وجہ سے یہ تنظیم کمزور پڑ گئی اور کسی بھی کارروائی کیلئے حکام کو موقع مل گیا۔ عسکری دباؤ، سلسلہ وار فضائی حملوں اور سیاسی کوششوں کے ذریعے تنظیم کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا گیا تاکہ بیت اللہ کے جنگجوؤں کو تنہا اور محدود کیا جا سکے، جہاں جنوبی و شمالی وزیرستان میں مخالف وزیری گروپس نے انہیں جکڑ رکھا تھا۔

جنوبی وزیرستان میں ماضی میں کی جانے والی کارروائیوں میں ناکامی سے سبق حاصل کرنے کے بعد سیکیورٹی فورسز محسود قبائل کے اہم علاقے میں تین حصوں سے داخل ہوئیں؛ جنوب میں رزمک سے، شمال مشرق میں شکئی وادی اور وانا سے اور شمال مغرب سے کوٹ کئی کی جانب جندولا سے۔

اگرچہ انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود عسکری یونٹس نسبتاً تیزی سے آگے بڑھتے رہے اور مختلف حصوں پر کنٹرول حاصل کرتے گئے۔ ابتدائی طور پر جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان میں کوٹکئی پر کنٹرول (جو تحریک طالبان پاکستان کے نئے لیڈر حکیم اللہ محسود کا گڑھ ہے)، عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر قبضہ، 25 تربیتی کیمپوں کا خاتمہ اور اسلحہ و گولہ بارود کے بڑے ذخائر کا برآمد ہونا شامل ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آگے کی پیش قدمی میں کسی بھی طرح کے خدشات و خطرات کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ تاہم، آپریشن کے حوالے سے اعلان کیا گیا تھا کہ یہ 8 ہفتوں میں مکمل کرلیا جائے لیکن کارروائی میں ممکنہ طور پر زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ زمینی اور فضائی طاقت کے مشترکہ استعمال سے مقاصد کے حصول میں تیزی آسکتی ہے۔ لیکن یہ بیان ایک اور چیلنج بن کر سامنے آئے گا کہ ”صفایا“ کرنے کی غرض سے شروع کی جانے والی کارروائی موسم سرما سے پہلے ہی ختم کرلی جائے گی۔ یہ علاقہ وسیع طور پر پہاڑی علاقہ ہے اور یہ ان رکاوٹوں میں سے ایک ہے جنہیں عبور کیا جانا ہے۔ ماضی میں گوریلا جنگجوؤں نے علاقے کی سخت جغرافیائی پوزیشن سے فائدہ اٹھایا ہے۔ سوات کے ماحول اور جغرافیائی صورتحال کے برعکس، اس علاقے کے ناخوشگوار اور زیادہ طور پر غیر آباد ہونے کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو دشمن سے اپنی طرز کی غیر موزوں عسکری چال بازیوں سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ایسی صورتحال میں فوجیوں کیلئے حوصلہ و عزم برقرار رکھنا انتہائی اہم ہوگا، خصوصاً اس وقت جب نقصانات کا سامنا ہو گا۔

سیکورٹی فورسز کو مصروف عمل رکھنے کی بجائے عسکریت پسند ممکنہ طور پر ”مار کر فرار ہوجاؤ“ کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے گوریلا مہم کو ترجیح دیں گے۔ یہ کام اس وقت ہوگا جب فوج ”انتظار“ کے مرحلے میں ہوگی۔ فوجی منصوبہ سازوں نے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تباہ اور سپلائی لائنیں بلاک کرنے کے علاوہ طالبان جنگجوؤں کو بھاگتے رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ بے یقینی کا وہ سب سے بڑا عنصر جو آپریشن کے مجموعی نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ ”انتظار“ کے اہم ترین مرحلے اور اس کے بعد بھی کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رکھنا ہے۔ یہ سوات میں پیش آنے والی صورتحال سے زیادہ پریشان کن سوال ہے۔ ابھی تک یہ طے نہیں کیا گیا کہ تنازع کے بعد کے مرحلے مین ”انتظار“ اور ”برقرار رکھنے“ کے عمل میں سیاسی / سویلین عنصر کس قدر شامل ہو گا۔

جنوبی وزیرستان میں جاری لڑائی سے جان بچا کر بھاگنے والے پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے میں حکومت کی عدم مستعدی سے اگر کوئی رہنمائی مل سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ اس سے آپریشن کے بعد کے مرحلے میں سویلین انتظامیہ کو فائدہ نہیں ہوگا۔ جب تک اس مسئلے کو قابل قبول حد تک سلجھا نہیں دیا جاتا اس وقت تک یہ کہنا مشکل ہے کہ دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کیلئے مشکل صورتحال کس طرح پیدا کی جاسکتی ہے۔ کم سے کم جانی نقصان کا انحصار استحکام کے مرحلے میں کئے جانے والے موثر اور جائز انتظامی اور سیاسی انصرام پر ہوگا۔ اس سے آپریشن اور آپریشن کے بعد مرکزی حکام کیلئے مقامی حمایت کا اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا محسود قبائل کو عسکریت پسندوں سے مکمل طور پر علیحدہ کرلیا جائے گا جنہوں نے خود کو ان کے ساتھ مکمل طور پر ملا لیا ہے؟

مقامی قبائل کیلئے گرائے جانے والے پمفلٹس میں انہیں یہ یقین دہانی کرانا کہ آپریشن ان کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے، اس سرکاری حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آپریشن مقامی قبائل کو بغاوت پر مجبور نہ کردے۔ محسود قبائل کی حمایت حاصل کرنے کیلئے سویلین جانی نقصان سے گریز انتہائی اہمیت کا حامل ثابت ہوگا۔ بھاری سویلین جانی نقصان مقامی حمایت کو فوج کی بجائے طالبان کے پلڑے میں ڈال سکتا ہے۔ آپریشن کے انسانی پہلو، خصوصاً مقامی اور بے گھر افراد کے ریلیف اور بحالی کے اقدامات، سے نمٹنے میں بدانتظامی بھی یہی کام کر سکتی ہے۔ یہی وہ سوالات ہیں جن پر آپریشن کی حتمی کامیابی کا انحصار ہے۔ آپریشن کے نتائج نہ صرف تحریک طالبان پاکستان بلکہ ان دیگر جنگجو گروپس کی قسمت کا فیصلہ بھی کریں گے جنہوں نے پاکستانی ریاست کو چیلنج کرنے اور مرضی کے مطابق اس کے اداروں اور علامتوں پر حملوں کیلئے محسود قبائل کے علاقوں کو استعمال کیا ہے۔ خطرات زیادہ نہیں ہوں گے۔ یہ مہم اپنے طور پر عسکریت پسندوں سے لاحق خطرات کو ختم نہیں کرے گی لیکن اس کے نتیجے میں شدت پسندوں کی علاقے پر قبضہ اور پاکستانی ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت کو زبردست نقصان پہنچا سکتی ہے۔

(کالم نگار امریکہ اور برطانیہ میں سفیر اور روزنامہ دی نیوز میں مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔۔۔۔بشکریہ روزنامہ جنگ)

واپس اوپر
مضمون پر نقطہء نظر
 تبصرہ کیجئے

نام: 

موضوع: 

مندرجات: