آصف علی زرداری کے لئے چاقو نکل آئے ہیں اور ان کے مخالفین پیشگوئی کررہے ہیں کہ وہ بطور صدر پاکستان اپنے دفتر میں یہ موسم سرما پورا نہیں کرسکیں گے۔ میڈیا کے ایک سیکشن نے پہلے ہی ان کی سیاسی رحلت لکھ دی ہے۔ْ دیگر کا خیال یہ ہے کہ یہ پوری مشق ان کے پر کاٹنے کے لئے ہے کیونکہ ایک طاقتور زرداری ہر طرف موجود فوجی اسٹیبلشمنٹ کو منظور نہیں۔
جو بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے وہ انکے سیاسی مستقبل کا انتہائی غیر یقینی ہونا ہے۔ حکومت نے این آر او پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے عجلت میں پسپائی اختیار کی کیونکہ ان کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے اس کے خلاف ووٹ استعمال کرنے کی دھمکی دی اور اس کے نتیجہ میں آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں کے مستقبل کے بارے میں قیاسات کا پنڈورا بکس کھل گیا جو اس کرپشن لانڈرنگ آرڈیننس سے اصل فائدہ اٹھانے والے تھے۔
صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کی جانب سے عجلت میں طلب کئے گئے چوہدری اعتزاز احسن کی آمد سے بھی کوئی مدد نہ مل سکی۔ اقتدار کی سیاست کی بے ثباتی کا کمال یہ ہے کہ وہ اعتزاز احسن جن کی ممبرشپ پارٹی کے شریک چیرمین نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے معطل کردی تھی اور جن کو اپنی لیڈر بے نظیر کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے جانے سے جبراً روک دیا گیا تھا اب ان ہی کو چاند کی پیشکش کی جارہی تھی۔ یہ واضح ہے کہ اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان بننے کا لالچ اور بعد میں گورنر پنجاب مقرر کئے جانے کی پیشکش بھی ان کے لئے قابل قبول نہیں رہی۔
اعتزاز احسن کے مطابق آصف علی زرداری جب تک صدر ہیں انہیں عدالتوں میں اپنے خلاف تمام مقدمات سے تحفظ حاصل ہے۔ لیکن یہ بات ان کے ساتھیوں کے لئے سچ نہیں جو کابینہ کے ممبر ہیں۔ اس لئے این آر او پی پی پی حکومت کے لئے اب معمول کا بزنس نہیں اور وزیراعظم گیلانی کے لئے بھی مسئلے پیدا کرتا رہے گا۔
ان تمام معاملات میں مزید پیچیدگیاں آصف علی زرداری اور فوج کے درمیان ہمیشہ سے خراب تعلقات کی بنا پر پیدا ہوئی ہیں۔ جنرل کیانی کی جانب سے کیری لوگر بل پر تحفظات کا اظہار سب کو معلوم ہے۔ فوج کا خیال ہے کہ یہ بل پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لئے ہے۔ ان تحفظات کا اظہار نا صرف نجی ملاقاتوں میں کیا گیا بلکہ چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجید کی جانب سے وزیر اعظم کو لکھے گئے ایک خط میں بھی کیا گیا۔ بعد میں جب کسی چیز نے کام نہ کیا تو اس مسئلے پر کور کمانڈروں کے ایک اجلاس کے بعدآئی ایس پی آر کے ایک پریس ریلیز میں کھل کر اظہار خیال کیا گیا۔ تاریخی طور پر اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو ، بے جواز طور پر ہی سہی، لیکن پاکستان کے لئے ایک سکیورٹی رسک تصور کرتا ہے۔ موجودہ فوجی سیٹ اپ میں اس اصول سے ہٹ کر کوئی بات نہیں۔ اس سے آصف علی زرداری اور اس کے شرکائے اقتدار کو زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت تھی۔ خاص طور پر جب مسلح افواج پر سویلین کنٹرول کا اصول پاکستان کی سیاست عامہ یا سماجی حلقوں میں جڑ نہ پکڑ سکا۔
اختلاف کی وجہ یہ عمومی تصور ہے کہ پی پی پی کی حکومت میں شفاف پن کی عدم موجودگی کی وجہ سے کرپشن عام ہوا ہے جس کی ابتدا اوپر سے ہوتی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ چند ماہ پہلے انٹیلیجنس کے ایک اعلٰی افسر نے ذاتی طور پر صدرآصف علی زرداری کو بدعنوان وزیروں کی ایک فہرست پیش کی تھی۔ صدر نے ان لوگوں کو برطرف کرنے کا وعدہ کیا لیکن اس پر عمل نہیں کیا۔ ایجنسی سے کہا گیا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے۔ خراب یا اچھے انداز حکمرانی کی عدم موجودگی کی ذمہ داری صدر آصف علی زرداری پر پوری طرح عائد نہیں ہوتی لیکن یہ ان کے لئے ایک پریشان کن عامل ہے جس کے سبب معیشت تباہ ہورہی ہے اور کاروباری کمیونٹی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہورہا ہے۔ زیادہ تر وزیروں کی کارکردگی انتہائی خراب ہے اور انہیں اپنے کام سے نہ تو دلچسپی ہے اور نہ وہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔ خزانہ اور خارجہ کے وزیر ان میں شامل نہیں لیکن چند اچھی کارگردگی والے وزیر نظام کو تباہ ہونے سے نہیں روک سکتے اور ان کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جمہوریت کے عروج و زوال کی پیشگوئیوں سے قطع نظر بہت سے عناصر نے جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اتارنے کے لئے اپنی کوششیں دگنی کردی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ایک اضافی آئینی تبدیلی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ شروع ہی سے میاں نواز شریف کو آصف علی زرداری پر اعتماد نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ اس کشتی کو ڈبونے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اس کی وجہ آصف علی زرداری سے میاں صاحب اور ان کی پارٹی محبت نہیں تھی جو اس وقت مقبولیت کے اعتبار سے بلند ترین ریٹنگ پر ہے۔ لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے اقتدار کی باری صرف اس صورت میں آئے گی جب یہ نظام زندہ رہے گا۔ اس اعتبار سے ان کی سیاست عمران خان اور منور حسن کی سیاست اور خواہشوں کے برعکس ہے جن کی کوئی چیز موجودہ نظام میں داوٴ پر نہیں لگی ہوئی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ پی پی پی کی اتحادی حکومت کے شرکاء ایم کیو ایم، اے این پی، یا جے یو آئی کسی اضافی آئینی ترمیم کی حمایت کریں۔
دوسری جانب فوج حکومت سے اختلاف کے باوجود اقتدار پر قبضے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی۔ وہ دہشت گردی کی جنگ میں الجھی ہوئی ہے اور جنرل کیانی کوئی بونا پارٹ نہیں۔ ان کی شہرت ایک دانشور جنرل کی ہے جو فوجی اقتدار کے اجتماعی نقصان سے بخوبی واقف ہیں اور جس سے پاکستان سالوں متاثر ہوا ہے۔ دریں اثنا یہ بات باقیماندہ ادارے کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی جو روایتی طور پر خود کو قومی مفادات کا محافظ اور ضامن تصور کرتا ہے۔ لیکن سیاستدانوں کو اپنی قسمت آزمانے کے لئے زیادہ دور نہیں جانا چاہیئے اور اور خود انہیں اپنے معاملات درست کرنے چاہیئں۔ آصف علی زرداری سترھویں ترمیم کی واپسی سے ابھی تک مطمئن نہیں لیکن انہوں نے اسے اٹھارویں ترمیم سے تبدیل کرنے کی ڈیڈلائن دے دی ہے۔ رضا ربانی کمیٹی گھونگھے کی رفتار سے کام کررہی ہے جبکہ پی ایم ایل (این) جتنا جلد ممکن ہو میثاق جمہوریت پر عمل چاہتی ہے اور وہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی جیسے مسائل میں غیر ضروری طور پر الجھنا نہیں چاہتی۔
اقتدار چھوڑنا کبھی آسان نہیں رہا لیکن آصف علی زرداری کو یہ زیادہ بہتر طور پر جاننا چاہیئے کہ قوم موجودہ رہنماوٴں کو اقتدار میں لائی اور حقیقی پارلیمانی نظام چلانے کے لئے مشرف کے حامیوں کو گزشتہ فروری میں مسترد کردیا۔ ایسا نظام جس میں پارلیمنٹ کو بالادستی ہو اور عدالتیں آزاد ہوں۔ پی پی پی نے یہ دونوں وعدے پورے نہیں کئے۔ پاکستان کے چیف جسٹس جنرل کیانی کی پس پردہ مداخلت سے بحال ہوئے۔ جبکہ ساتویں ترمیم مشرف کی باقیات کا ورثہ ہے اور زرداری صاحب غیر متوقع طور پر صدارت ملنے کے بعد اپنے وعدوں سے منحرف ہوگئے۔
آصف علی زرداری کو دباوٴ کے تحت کوئی کارروائی کرنے کے بجائے وقت ضائع کئے بغیر پیشرفت کرنی چاہیئے اور آرٹیکل 58(2-B) کی تنسیخ سمیت پارلیمنٹ کی بالادستی کے امور پر اتفاق رائے حاصل کرنا چاہیئے۔ انہیں ایک پارلیمانی نظام کے اندر رہتے ہوئے صدر رہنے کو ترجیح دینا چاہیئے، بجائے اس کے وہ پارلیمانی نظام کے پردے میں صدارتی نظام چلانے کی کوشش کریں۔ پارٹی کے صدر کی حیثیت نے انہیں ایک ایسے سیاسی قائد کا درجہ عطا کیا ہے جس کو وقار کے ساتھ سرحد پار کی لیڈر سونیا گاندھی کی طرح معاملات کو درست رکھنے کا کام کرنا چاہیئے۔
دوسرا مسئلہ جس پر آصف علی زرداری بلکہ وزیر اعظم گیلانی کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اچھی حکمرانی اور ٹرانسپیرنسی ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق 90 کے قریب افراد بطور وفاقی وزیر مراعات سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ بدعنوان اور نااہل وزیروں پر کنٹرول سے قطع نظر وزیروں کی تعداد کو بہت زیادہ کم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ان میں سے چند ہی کابینہ کے رکن ہیں لیکن زیادہ تر ذاتی وفاداری اور اقربا پروری کی بنیاد پر مراعات سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔
چند اہم نکات اس کے علاوہ بھی ہیں جو فوج کے ساتھ طے کئے جانے ضروری ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات جیسے امور میں موجودہ حکومت واشنگٹن کے بہت زیادہ قریب چلی گئی ہے اور ان امور پر فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سویلین قیادت کو حکمت عملی اور اسٹریٹیجی کے شعور میں پاکستان کے کردار کے متعلق یکساں سوچ کا حامل ہونا چاہیئے۔ نیشنل سکورٹی کونسل کا احیاء یا کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی ایسے تصورات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیئے۔
موجودہ کنفیوژن پھیلانے میں میڈیا کے کردار کا بھی احتساب ہونا چاہیئے۔ مائینس ون اور مائینس ٹو کے فارمولے کسی قابل اعتبار ذریعہ کے بغیر ہی پیش کئے گئے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کے میڈیا منیجرز میڈیا کو گھرنے میں قطعی ناکام رہے۔ دریں اثنا ایسے اسپن ڈاکٹروں کے استعمال کا وقت آگیا ہے جو میڈیا کو مشغول رکھ سکیں ( بجائے اس کے کہ یہ کام میڈیا منیجروں پر چھوڑ دیا جائے)۔
موجودہ نظام کی بقا کا انحصار اس پر ہوگا کہ کلیدی علاقوں میں وہ کیا کردار ادا کرتا ہے؟ اگر یہ اسی طرح ناکام ہوتا رہا تو نازک جمہوری اداروں کی ناکارکردگی پر صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا اور اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
[بشکریہ روزنامہ جنگ]