جمعرات 12 ربيع الثاني 1432هـ - 17 مارچ 2011م
آخری وقت اشاعت: بدھ 26 ذی القعدہ 1431هـ - 03 نومبر 2010م KSA 13:04 - GMT 10:04

بھارت میں خونی انقلاب کا خوف

اتوار 27 ذی القعدہ 1430هـ - 15 نومبر 2009م
رحیم اللہ یوسف زئی

ایک ریٹائر بھارتی فوجی افسر نے راقم اور دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” مجھے بھارت میں خونی انقلاب آنے کا خوف ہے“ایک فوجی اور وہ بھی ایک ایسے ملک کا فوجی جس کا سرمایہ افتخار ہی اسکی جمہوریت ہو، ایسی جمہوریت جس کے بارے میں فرض کیا جاتا ہے کہ وہ بڑی آبادی کی آواز ہے اور یہ کہ وہ سب کو ساتھ ملا کر چلتی ہے۔

یہ واضح ہے کہ بھارت کی وہ جمہوریت جس کی بہت تعریف و توصیف کی جا چکی ہے، اور جو 1947 کے برطانوی نو آبادیاتی نظام کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی، صحتمند اور فعال جمہوریت قرار دی جاتی رہی ہے وہ دراصل کروڑوں بھاریتوں کی زندگی میں تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے،بھارت کے مختلف حصوں میں کچھ بہت ہی غریب مردوں اور عورتوں کی جانب سے ہتھیار اٹھا لینا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کو دیہی علاقوں کے غریب لوگوں کو حقوق اور انصاف فراہم کرنے کیلئے مزید اقدامات کرنا اور ملک کے مختلف حصوں میں یکساں ترقی کو یقینی بنانا ہوگا۔سوچ بچار کرنے والے بہت سے بھارتی شہری نکسل باڑی تشدد سے پیدا ہونے والے درد کو محسوس کرتے ہیں۔ان کیلئے یہ امر غصے کا باعث بنتا ہے کہ ایسے بھارتیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو اپنے ملک کی قابل قدر جمہوریت کے سحر سے آزاد ہیں اور ملک کی مسلسل اقتصادی ترقی میں اپنے لئے امید کی کوئی کرن نہیں دیکھتے۔ان لوگوں نے اپنے حقوق کیلئے بندوق اٹھالی ہے اور وہ ایک ایسے مقصد کی خاطر مرنے کیلئے تیار ہیں جس کا حصول بھارت کی موجودہ فوجی طاقت اور بین الاقوامی حیثیت کے پیش نظر ممکن نہیں۔

ماؤازم سے متعلق تشدد کے واقعات پھیل رہے ہیں اور بھارت کے اندر نئے مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے،شورش پسندی سے متاثرہ وسیع علاقے میں چتیش گڑھ، جھاڑ کھنڈ، بہار اور مغربی بنگال شامل ہیں جبکہ جنوب میں یہ اڑیسہ، آندھرا پردیشن، مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش تک چلی گئی ہے، عمومی طور پر اسے ” سرخ راہداری “ کہاجاتا ہے کیونکہ اس علاقے میں قیادت ماؤاسٹ ہونے کا ٹھپہ ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اگرچہ دو حصوں (ماؤ اسٹ اور لیننسٹ) میں بٹ گئی ہے لیکن اس کے باوجود وہی باغیوں کیلئے معیار ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق 20 ریاستوں کے 220اضلاع ماؤ اسٹوں سے متعلقہ تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ اس تحریک کے پاس 20 ہزارمسلح کارک موجود ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد باقاعدہ ارکان ہیں، غریب دیہاتیوں کے علاوہ اس میں آندھرا پردیش کے گریجنوں اور مغربی بنگال کے سنتھال جیسے مقامی قبایل بھی بڑی تعداد میں نکسل تحریک میں شامل ہو رہے ہیں، اس تحریک میں مایوس اور پسماندہ لوگوں کیلئے بڑی کشش ہے،اس کے موجودہ رہنما ”موپالا لکشمن راؤ “جو زیادہ تر ” گناپتی “ کے نام سے معروف ہیں اورجن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مشرقی بھارت میں کہیں چھپے ہوئے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا اثرمضبوط ہوا ہے اور اب صرف ان کی جماعت ہی بھارتی عوام کے سامنے ایک حقیقی متبادل کے طور پر موجود ہے۔

نکسل تحریک جسے بعض اوقات نکسل ازم بھی کہا جاتا ہے اس وقت شروع ہوئی جب مئی 1969 میں شمال مشرقی بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ایک گاؤں ” نکسل باڑی“ کے کسا نوں نے بغاوت کر دی۔ابتدائی طورپر اسکی قیادت 49 سالہ چرو مزمودار نے کی اورا ن کا مقصدایک زرعی انقلاب کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکنا تھا۔مزمودار 1972 میں اپنی گرفتاری کے12 دن بعد پولیس حراست میں ہلاک کردیئے گئے اور ا طرح وہ ماؤاسٹوں کے ہیرو بن گئے اور باوجود اس کے کہ یہ تحریک دوحصوں میں بٹ گئی یہ اس وقت سے اب تک اپنے ارکان اور اپنی طاقت کے لحاظ سے بڑھتی چلی جارہی ہے، ابتدائی نکسل بغاوت تو پولیس نے محض دوماہ میں ہی پولیس اورانٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے کچل دی۔لیکن یہ ہر شکست کے بعد یہ اور پھولتی پھلتی چلی گئی اور اب تو یہ ہمیشہ سے بڑھ کر کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

ماؤ اسٹوں کی شورش اٹھ کھڑی ہونے کی کچھ ٹھوس وجوہ ہیں،دنیا کے غریب لوگوں میں بھارت کا حصہ بڑھ کر39 فیصد ہو چکا ہے جبکہ 1985 میں بھارت کے اندر دنیا کے کل غریبوں کے صرف 25 فیصد موجود تھے۔عالمی سطح پر خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد اس دوران ایک ارب 47 کروڑ نفوس سے کم ہوکر97 کروڑ رہ گئی ہے۔ان میں سے30 کروڑ 10 لاکھ بھارت ہیں اور یہ1983 کے(غربت کے) عالمی اعدادوشمار سے محض ایک کروڑ 90 لاکھ کم ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے مرتب کی جانیوالی انسانی ترقی کی رپورٹ میں بھارت کو 193 ممالک کی فہرست میں نچلی جانب کے60یا65 ممالک میں شامل ہوتا ہے۔ بھارت کی یہ خراب کارکردگی اس امر کے باوجود ہے کہ بھارت مجموعی قومی پیداوار کے حوالے سے 9 فیصد کے لگ بھگ شرح نمو برقرار رکھے ہوئے ہے۔بھارت کی یہ غربت سیر وسیاحت کیلئے بھارت آنے والے لوگوں پر بھی عیاں ہوتی ہے جو کہ مایوس اور بے حال کنبوں کوفٹ پاتھوں اور جھونپڑ پٹیوں میں گزارہ کرتے دیکھ سکتے ہیں، جو بھارتی میڈیا پر کسانوں کی خودکشیوں اور اپنے قرض اتارنے کیلئے اپنی بیویاں بیچنے والوں کی خبریں پڑھتے ہیں۔اگرچہ ریکارڈ پر آئے ہوئے ایسے کیسز کی تعداد بھارت جیسی بڑی آبادی کے ملک میں بہت زیادہ نہیں ہیں لیکن اس سے مخصوص کمیونٹیز کی مصائب زدہ زندگیوں کاپتہ چلتا ہے۔بھارت کے غریب اور بے حیثیت لوگوں پر مشتمل گروہو ں نے مختلف مواقع پر ووٹ کی طاقت سے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔ یہ سن2004 میں ہوا پھر یہ2009 کے قومی انتخابات میں ہوا۔

ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی نے 2004 میں لوک سبھا کے انتخاب کے موقع پرووٹوں کے حصول کیلئے ” دمکتا بھارت“ کا نعرہ گھڑا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس کی اتحادی حکومت اپنے5 سالہ دور اقتدار میں خوشحالی لائی ہے، لیکن ووٹ دہندگان کی سوچ الٹ تھی کیونکہ اکثریت بالخصوص غریب اور دیہاتی وٹرز، نچلی ذاتوں اور اقلیتوں کو اس ترقی سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ پایا تھا، اس ترقی نے زیادہ تر امیروں کو امیر تر کیا۔چنانچہ ان کا فیصلہ بی جے پی کی سرکردگی میں کام کرنیوالے اتحاد کے خلاف اور کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے حق میں ہوا۔ اقتدار میں اس کی موجودگی کے عنصر کے باوجود 2009 میں انتخابات کانگریس نے جیتے کیونکہ اسے زیادہ تر ایک ایسی جماعت کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا جو غریبوں کے حقوق، دیہاتی رائے دہندگان اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا قدرے بہتر خیال رکھتی ہے۔

تاہم اب بھارت کی حکمران کانگریس کو بھی اب بے چین دیہی آبادی اور قبائلی برادریوں کی ضروریات پورا کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ویر اعظم منموہن سنگھ نے حال ہی میں نکسل شورش کو بھارت کی داخلی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کا بیٹا اور بھارتی سیاست کا ابھرتا ہوا ستارہ راہول گاندھی اب بھارت کے وسیع پسماند ہ علاقوں پر توجہ دے رہا ہے اور وہ پسماندہ اور غریب ترین دیہاتوں میں جاتا ہے اور ملک کے سب سے غریب اور محکوم طبقے دلتوں کے گھروں میں راتیں بسر کرتا ہے۔لیکن یہ چیز اس قدر ناکافی ہے کہ وہ نہ تو ان نکسل باغیوں کے غصے کو سرد کر سکتی ہے جنہیں یہ دعویٰ ہے کہ سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں میں غربت بڑھی اور نہ ہی انہیں اس امر پر قائل کر سکتی ہے کہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے انہیں محض طاقت استعمال نہیں کرنا چاہئے۔

بھارتی حکومت اور نکسل باغیوں میں ایک تصادم اب بہت جلد ہونے والا ہے۔ کانگریس کی سر کردگی میں چلنے والی بھارتی حکومت نے لاکھوں سیکورٹی اہلکارجو زیادہ تر پولیس اور نیم فوجی دستوں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں ماؤ باغیوں کے خلاف کارروائی کیلئے متحرک کیا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ یہ کاروائی نومبر میں ہوگی۔ فوج کے استعمال کو خارج از امکان قرار دے دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود آپریشن کو نئی دہلی سے مربوط کیاجائیگااور یہ مرکزی حکومت کا اقدام ہوگا۔ بھارتی تجزیہ کاراور اہل علم غیر ملکیوں کا کہنا یہ ہے کہ بھارت کے پاس شورش سے نمٹنے کیلئے باہم مربوط پالیسی کی کمی ہے۔ حکمرا ن اشرافیہ پر اس حوالے سے بھی تنقید کی جاتی ہے کہ وہ غریب کمیونٹیز کی ضرورتوں کوپورا کرنے میں سستی برتتی رہی ہے۔اور پھر یہی غریب لوگ آسانی کے ساتھ ماؤاسٹوں میں بھرتی ہو جاتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ ملکر اپنی طبقاتی جنگ لڑ سکیں۔

حکمران اشرافیہ سے نکسلیوں کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ ا ن کے رہنما ” گناپتی“ نے حال ہی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ چدمبرم کو ” دہشتگرد “ قرار دیاہے۔ اوپن (open ) نامی ایک ہفتہ وار میگزین کو اپنے نامعلوم ٹھکانے سے انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے وہ رنگین زبان استعمال کی جو مارکسسٹوں، ماؤ اسٹوں اور لیننسٹوں سے مخصوص ہے، انہوں نے کہا کہ”ہمارے ملک پر حکمران خون چوسنے والی بلاؤں کانام و نشان مٹانے کیلئے لوگ ہماری جماعت کی قیادت میں طوفان کی طرح اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ایک اور موقع پر 59سالہ گناپتی نے کہا تھا ” یہ شارک(حکومت) دولت لوٹ کر قبائلی عوام کو ان کے علاقوں سے نکال کر مزید غربت میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

بھارتی حکومت کی بڑے پیمانے پر کارروائی کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھاتی ہے تو اس حوالے سے گناپتی کے تشدد کے طوفان کے اس دھمکی آمیز بیان نے ماؤ اسٹوں کے ارادوں کو بالکل واضح کردیا ہے۔انکی تنظیم کے مردوزن پہلے ہی وہ سب اقدامات اٹھاچکے ہیں جنہیں عام طور پر طالبان سے منسوب کیاجاتاہے۔انہوں نے سرکاری اہلکاروں کو اغواء کیا اور ان کے سرقلم کئے، بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبے اڑائے۔سڑکیں اور ریلوے کی پٹڑیاں تباہ کیں،سیاسی مخالفین کو قتل کیا، تھانوں اور دیگر سرکاری تنصیبات پر حملے کئے، نکسلیوں کے خلاف کارروائی سے یقینا وہ کمزور ہوں گے اور ان سے اپنے کچھ ٹھکانے اور کمین گاہیں بھی چھن جائیں گی، لیکن بات اتنی سی ہے کہ یہ معاملہ محض طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہوگا، بھارتی دانشور طبقے کے بہت سے ارکان ماؤاسٹوں کے مقصد کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں،معروضی نقطہ نگاہ رکھنے والے تجزیہ نگاراسے ایک معاشی معاملے کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں انصاف کی کمی ہے۔بھارتی حکمران اشرافیہ کو چاہئے کہ وہ باغیوں کو کچلنے کیلئے ریاستی مشینری کو استعمال کرنے کے بجائے اسکی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کی کوشش کرے۔