حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ بھارت کے نائب وزیر خارجہ بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعوری عرب کے ساتھ نئی دہلی کی قربت بڑھنے سے پاک بھارت تعلقات بھی بہتر ہوں گے۔ ان کا استدلال ہے کہ پاکستان سے تعلقات میں سعودی عرب ایک گراں قدر معاون ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ جب ہم اسے اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہیں تو سعودی عرب ہماری بات اس طرح نہیں سنتا جیسے وہ کسی بھی طرح پاکستان کا دشمن ہو بلکہ اس طرح سنتا ہے کہ وہ پاکستان کا دوست ملک ہے لہٰذا مجھے یقین ہے کہ اس نوعیت کے معاملے میں ہمیں ایک ہمدردانہ پذیرائی ملے گی۔
سعودی عرب روانگی سے قبل سعودی اخبار سے بات چیت میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سے کشمیر سمیت تمام تنازعات پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انتہا پسند بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے خطرہ ہیں، مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتا ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بات پاکستان اور بھارت کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ دہشت گردی کی وبا کا مقابلہ کیا جائے۔ ایسے وقت میں جب افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحد میں انتہا پسندی اور دہشت گردی بڑھ رہی ہو ایک ہمسایہ ہونے کی وجہ سے بھارت خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا۔ یہ ہمارے مشترکہ مفاد میں ہوگا کہ ہم دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کریں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لیے کیسے حل کیا جاسکتا ہے تو وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی سے آزاد ماحول موجود ہو۔ من موہن سنگھ نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور بھارت انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مضبوط اتحادی ہیں اور سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جاری ''عالمی جنگ کا حصہ ہے۔''
دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پیشگی شرائط عائد نہ کرے تو پاکستان جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس وقت گیند بھارت کی کورٹ میں ہے۔ پاکستان جامع مذاکرات کے حوالے سے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے۔ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کا روڈ میپ دے دیا ہے۔ اب اس کا انحصار بھارت پر ہے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے جبکہ بھارتی اپوزیشن نے اپنے ہی نائب وزیر خارجہ کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ بھارتی نائب وزیر خارجہ نے اپنے اوپر ہونے والی اس تنقید کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی ثالثی کے بارے میں ان کے ریمارکس کو میڈیا نے غلط رنگ دیا ہے۔ ''میں نے جو کہا وہ یہ تھا کہ سعودی عرب بھارت کے لیے بہترین مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور کسی دوسری وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔''
اس دورے میں سعودی عرب اور بھارت کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کے لیے سٹریٹجک پارٹنر شپ قائم کرنے پر زور دیا گیا جس کو اعلان ریاض کا نام دیا گیا جس کے تحت تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ سعودی عرب کی طرف سے شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز اور بھارت کی طرف سے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے دستخط کیے دونوں ملکوں نے 2006ء میں ہونے والے اعلان دہلی پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ عالمی امن کی خاطر دہشت گردوں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے معلومات کا تبادلہ کریں گے اعلان ریاض میں شاہ عبد اللہ پر زور دیا گیا کہ وہ افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سعودی عرب کی مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ''تعلقات کا نیا باب'' رقم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہم پاکستان کے ساتھ مستقل اور پائیدار امن کے لیے خواہاں ہیں کیونکہ ہمارا ''مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔'' اس سے دونوں ملکوں اور جنوبی ایشیا میں استحکام کے علاوہ پورے ایشیا کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
سعودی عرب استحکام کا مرکز ہے۔ شاہ عبد اللہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی نئی پارٹنر شپ اور قریبی تعلقات میں دلچسپی ظاہر ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک قدم آگے بڑھائے تو ہم دو قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دورہ سعودی عرب کے موقع ہی پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، وہاں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ ریاض میں بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان ہمارا دوست ملک ہے ایک کو ''خطرہ ہو تو دوسرا پریشان ہو جاتا ہے۔'' اس لیے پاکستان کی پریشانی پر ہمیں تشویش ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں متحد ہو سکیں اور یہ صرف ''متحد سیاسی قیادت'' کے باعث ہی ہو سکتا ہے امید ہے کہ پاکستان یہ مقصد حاصل کرے گا۔ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اور طالبان میں کوئی راسطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا طالبان نے جب سے القاعدہ رہنماؤں کو پناہ دی ہے ان سے کوئی رابطہ نہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے یہ بیان اس وقت دیا جب وہ شاہ سعود محل میں مقیم بھارتی صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔
سعودی وزیر خارجہ کا بیان ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ انہوں نے واضح طور پر دہشت گردی کے حوالے سے وہی بات کی ہے جو امریکا بھارت اور چین کرتے رہتے ہیں۔ یہ بیان یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ مستقبل میں سعودی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہوسکتا ہے اگر پاکستانی سٹیبلشمنٹ نے سٹریٹجک گہرائی کی سوچ سے نجات نہ حاصل کی۔ یہ سوچ ہی تھی جس نے نہ صرف افغانستان کا بلکہ پاکستان کا بھی بیڑہ غرق کیا۔ افغان جنگ میں لاکھوں افغانوں کی میزبانی کا نتیجہ فرقہ واریت، منشیات اور دہشت گردی کی شکل میں نکلا اور افغان رائے عامہ پاکستان کے خلاف ہوگئی۔ بھارت نے افغانستان کی تعمیر میں حصہ لے کر وہاں کی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرلیا ہے جس پر پاکستان سخت پریشان ہے۔ بنیاد پرستی کی جو فصل ہم نے امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے بوئی آج وہ ہمیں کاٹنی پڑ رہی ہے اور یہ اپنے ہاتھوں لگائی گئی وہ گرہیں ہیں جو ہمیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں پتہ نہیں ہم اس میں کامیاب بھی ہوتے ہیں یا نہیں۔ امریکا روس چین بھارت ایران سعودی عرب سب کے مفادات افغانستان میں ہیں لیکن اس وقت اگر کسی کے مفادات کو افغانستان میں سب سے زیادہ خطرہ ہے تو وہ پاکستان ہے جس کے ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ کے بقراط ہیں۔ جب سعودی وزیر خارجہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاسی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے تو وہ صحیح کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی مؤثر مذہبی اور سیاسی قیادت اس جنگ میں دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو گرانے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے جس کا فائدہ دہشت گرد اٹھارہے ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے صورتحال کا اہم پہلو یہ ہے کہ بھارت افغانستان میں سعودی عرب کے ذریعے اپنے مفادات کو طویل مدت کے لیے استحکام دے سکتا ہے کیونکہ اگر بھارت اس خطے میں امریکی سٹریٹجک پارٹنر بن چکا ہے تو سعودی عرب کو بھی افغان مسئلے کے حل کے لیے امریکا کا اعتماد حاصل ہے۔ جب کہ مفادات کی اس جنگ میں امریکا اور بھارت دونوں پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ کا بیان دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے پاکستان کو شدید دباؤ کا شکار کرسکتا ہے جبکہ ایران پہلے ہی سے پاکستان کے بارے میں تحفظات کا شکار ہے۔ اس تمام صورتحال کے پس منظر میں یہ تازہ ترین دباؤ جو امریکا سعودی عرب کے ذریعے پیدا کررہا ہے کیا پاکستان اسے برداشت کرسکے گا؟ کسی بھارتی سربراہ کا 28 سال بعد سعودی عرب کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کررہا ہے جو خطے کے موجودہ بدلتے ہوئے حالات کے پس منظر میں انتہائی معنی خیز نتائج لے کر دنیا کے سامنے آئے گا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا مستقبل کیا ہے اس کا پتہ اپریل مئی میں چلے گا۔ ''16 کا پہاڑہ ابھی چل رہا ہے''… اور اس کے اثرات کم از کم مئی تک تو رہیں گے۔ ہم اس وقت عدلیہ این آر او اور سیاسی معاملات کے حوالے سے 16 کے پہاڑے کے زیر اثر ہیں۔ اس حوالے سے ہم مارچ کے تیسرے ہفتے سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو جائیں گے۔