چین کے وزیر خارجہ ینگ زچی نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ چین کی کشمیر پر پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے نازک حالات میں پاکستان کا ساتھ دینے کا عزم کیا اور انہوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اب اگر پاکستان اُس کی زد میں ہے تو کل بھارت اِس کی زد میں آسکتا ہے، اس لئے بھارت کو چاہئے کہ وہ پاکستان کا ساتھ دے۔ چینی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت سرے سرحدی تنازعہ پر سمجھوتہ ہونا ناممکن ہے چین اروناچل کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اِس موقف پر مستقل مزاجی کے ساتھ قائم ہے۔ انہوں نے اِس بات کی وضاحت کی کہ اگر ہندوستان کا کوئی نمائندہ بیجنگ آتا ہے اور وہ چینی رہنماؤں سے ملتا ہے تو اِس سے قطعاً یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ چین اپنے موقف سے ہٹ رہا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کشمیر اور اروناچل کے معاملہ پر چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ چین ان مسائل کا فوری حل چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ پاک چین دوستی کو صرف اسلحہ کی خریدوفروخت سے نتھی نہیں کرنا چاہئے۔ چین وہ واحد ملک ہے جو مفادات کی بجائے دوستی کو ترجیح دیتا ہے اور پاکستان کے ساتھ دوستی دیرینہ ہے اور اس سلسلے میں کسی کو رتی برابر گمان بھی نہیں ہونا چاہئے کہ یہ دوستی محض مفادات کی پیداوار ہے۔
چینی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب امریکہ، نیٹو اور بھارت مل کر پاکستان کا بازو مروڑ رہے ہیں اور اُسے ہر طرح سے دبا رہے ہیں اور اُس کو دبوچنے کے لئے اپنے پنجے پھیلا رہے ہیں۔ خود آگ لگاتے ہیں خود شور مچاتے ہیں کہ آگ لگ رہی ہے۔ بجھانے کی بجائے اس پر تیل کا چھڑکاؤ کرتے ہیں، ایسے میں چین کے وزیر خارجہ کا بیان انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔ یہی نہیں چینی اس طرح کھل کر بیان ذرا کم ہی دیتے ہیں۔ اس لئے یہ بیان اُن کی پالیسی میں تبدیلی کا مظہر ہے کہ وہ کھل کر پاکستان کی حمایت میں آگئے ہیں جو پاکستان کو بند گلی سے نکلنے کے لئے ایک پتلا ساراستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ راستہ زیادہ چوڑا ہوسکتا ہے اگر سعودی عرب، ترکی اور ایران واشگاف الفاظ میں پاکستان کا ساتھ دیں جو وہ دے دیں گے اگر ہم اُن تک پہنچیں۔
ہم چین کے وزیر خارجہ سے متفق ہیں کہ چین پاک دوستی کسی حالات کی پیداوار نہیں اور نہ ہی اِس بات کی کہ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ملکوں کے مفادات دوستی اور دشمنی کا سبب بنتے ہیں۔ یہ درست تو ہے مگر پاکستان اور چین کی دوستی اس سے ماوراء اس لئے ہے کہ دونوں ملکوں نے ہر ایک کے مشکل وقت میں ساتھ دے کر ایک مثال قائم کی ہے۔ اسی لئے نواز شریف کے دور حکومت میں جو ضرب المثل بن کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ ہمارے اور اُن کے درمیان اسٹراٹیجک تعاون موجود ہے۔ اس لئے جیسے ہی انڈیا کے چیف آف دی آرمی اسٹاف نے یہ بیان دیا کہ وہ پاکستان اور چین کا بیک وقت مقابلہ کرسکتے ہیں ویسے ہی چینی فوجی وفد نے پاکستان آکر یکجہتی کا اظہار کیا اور انڈیا کو واضح پیغام دیا کہ ایں خیال است و محال است و جنوں
پاکستان کی کئی مشکلات اس وجہ سے پیدا ہوئی ہیں کہ چین یا ایران کے بارے میں امریکہ کی ہدایت ماننے کو تیار نہیں ہوا جس کی وجہ سے امریکہ ناراض ہوا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ پاکستان، پاک، ایران، انڈیا گیس پائپ لائن جن کو ایرانیوں نے امن پائپ کا درجہ دیا تھا۔ سے علیحدگی اختیار کرلے،مگر پاکستان اسپر تیار نہیں ہوا، اس وجہ سے امریکہ برہم ہے، اس نے انڈیا کو اس پائپ لائن سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم دیا سو انڈیا نے اس پائپ لائن سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ایرانی غلط طور پر یہ سمجھتے رہے ہیں کہ انڈیا ایک آزاد ملک ہے اور وہ ایران کے ساتھ تعلق داری رکھے گا مگر اب امریکہ نے انڈیا کو پابند کردیا ہے کہ وہ ایران کی گیس پائپ لائن سے دستبردار ہوجائے سو وہ ہوگیا۔ امریکہ نے انڈیا کو اس بات پر بھی راضی کرلیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ کا ہر عالمی فورم پر ساتھ دے گا۔
دوسری طرف پاکستان نے یہ اعلان کیا کہ پاکستان چین کے تجارتی مال کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہ کے ذریعہ مشرق وسطیٰ اور یورپ و افریقہ پہنچانے کے لئے سب سے کم فاصلہ، سب سے زیادہ محفوظ اور کم لاگت کا راستہ فراہم کردے گا
جس سے امریکہ چراغ پا ہے اور اس کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت کے مضبوط ارادے کو دیکھ کر اب امریکہ نے دو نئی جگہوں پر پھندے لگائے ہیں ایک یمن میں جہاں اب القائدہ کو پہنچادیا گیا ہے، یاد رہے کہ یمن کے موڑ سے ہی گزر کر ہر بحری جہاز جو پاکستان یا بحر ہند سے جائے افریقہ یا یورپ جاسکتا ہے، اس لئے اس ملک کو بدامنی کا شکار کیا جارہا ہے۔ دوسرا پھندہ صومالیہ کے قذاقوں کے ذریعہ لگا دیا ہے۔ ان قذاقوں کی مکمل سرپرستی امریکہ کررہا ہے اور وہاں بلیک واٹر طرز کی تنظیم ڈیلٹا مسلمانوں کو بھی قتل کرنے میں سرگرم عمل ہے تو چینی جہازوں کو اغواء کرنے اور تاوان وصول کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ تیسری طرف امریکہ تائیوان اور انڈیا کو جدید اسلحہ فروخت کررہا ہے اور اسرائیل و دیگر یورپی ملکوں کو ایسا کرنے کے لئے کہہ رہا ہے، چوتھے تبت کے معاملہ میں دلائی لامہ سے امریکی صدر کی ملاقات نے چین کے خلاف کھلا محاذ کھولنے کا اعلان کردیا ہے، پھر چین میں یوغور مسلمانوں کی تنظیم کی سربراہ ربیعہ خاتون امریکہ کی سرپرستی میں چین کو غیرمستحکم کرنے کے لئے تحریک چلا رہی ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خون سے امریکہ کے عزائم کیوں پورے کئے جائیں، اس لئے چین کے مسلمانوں کو ذرا غور و فکر کرنا چاہئے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے بعد اب امریکہ نے سعودی عرب کو نشانہ پر رکھ دیا ہے۔
یمن کے ایک قبیلہ کو سعودی عرب پر حملہ کرنے کے لئے تیار کردیا ہے۔ اس نے سعودی عرب کے کچھ علاقے پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔ اسی طرح ایران کے ایٹمی پروگرام کا ہوا کھڑا کرکے پورے عرب ممالک کو بلیک میل کررہا ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان، چین، ایران، سعودی عرب، افغانستان، روس اور عرب ممالک مل کر ایک کانفرنس منعقد کریں اور سارے حالات کا جائزہ لیں۔ نہ صرف یہ بلکہ امریکہ افریقہ میں تیل کے حصول کے لئے جو بساط بچھا رہا ہے اس کا جائزہ بھی لیں۔پاکستان اور چین تو دوست ہیں اور مل کر حالات کا مقابلہ کریں گے۔ اس میں ایران کی فوری شمولیت اور سعودیوں کی بھی شمولیت ازحد ضروری ہے کہ یہ چاروں ملک امریکہ کے ہدف ہیں۔ امریکہ کو یہاں اپنا گندا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے جتنی جلدی یہ صف بندی ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)