تین برس قبل سوئیڈن کے ایک چوپایوں سے بھی بدتر انسان نے جو شاید اپنی ماں کے بطن ہی میں بدبخت قرار دے دیا گیا تھاکیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے…اَلشَّقِیُّ مَنْ شَقٰی فِیْ بَطَنِ اُمِّہ…﴿اصل بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ ہی میں بد بخت ہو﴾اور یقینا جس کا انجام کعب بن اشرف سے بھی زیادہ عبرت ناک ہوگا ہوگا، اُس نے میرے اور آپ کے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ ارفع و اعلیٰ میں غلیظ ترین گستاخی کرتے ہوئے، بغض و عداوت کی خبیث سیاہی سے ایک خاکہ تخلیق کیا، وہ خاکہ کیا تھا اور اُس کے پس پردہ کون سے عوامل کارفرما تھے؟ کم از کم مجھ گناہ گار میں اِتنی سکت اور طاقت نہیں کہ میں اُسے ضبطِ تحریر میں لاسکوں البتہ10مارچ کو آئرلینڈ میں اُن 7مسلمانوں کی گرفتاری کے بعد جو اِس سوئیڈش کارٹونسٹ لارس ولکس کو جہنم روانہ کر نے کا منصوبہ بنارہے تھے11مارچ کی صبح سوئیڈن کے تمام ہی کثیر الاشاعت اخبارات نے ایک بار پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کیے ہیں اور اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ ”بدبخت ولکس اکیلا نہیں،پوری سوئیڈش قوم اِس کے ساتھ ہے “…دوسری جانب واشنگٹن کی ایک گرانڈ جیوری نے ایک امریکی خاتون ، کولین رینی لا روزکو آئرلینڈ میں گرفتار کیے جانے والے 7مسلمانوں کی ”اہم ساتھی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے آپ کو ”جہاد جین“ اور ”فاطمہ لا روز“ کہنے والی یہ ”خطرناک عورت“ اگست2009میں صرف اِس لیے آئرلینڈ گئی تھی تاکہ گرفتار کیے گئے 7افراد سے لارس ولکس کے قتل کے منصوبے پر گفتگو کر سکے …عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ30 ستمبر2009میں اِس خاتون نے لارس ولکس کے مبینہ قتل کے منصوبے کی سازش میں شریک ایک شخص کو ای میل میں لکھا تھا کہ ”میرے لیے یہ ایک اعزاز اور اطمینان کا باعث ہوگا کہ میں اُس شخص کو قتل کرتے ہوئے ماری جاؤں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گستاخانہ خاکہ بنایا ہے “
تہذیب و اخلاق سے عاری کسی ننگ دھڑنگ یا یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ ننگوں کے ملک میں اپنی ننگ و ناموس کو خیرباد کہنے والے کسی ننگِ ملت، ننگِ دیں یا ننگ وطن کا پیدا ہونا اِتنا حیران کن امر بھی نہیں…لواطت پرست لارس ولکس کے کردار سے اِس قدر بدبو اُٹھتی ہے کہ تحقیق کی خاطر فائل کھولتے ہوئے بھی اُلٹی آجائے…مذہب سے یہودی بلکہ ”مرحب سے یہ یہودی“ لارس ولکس سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں اپنی ”مرد بیوی“ کے ساتھ رہتا ہے (یہ اِس کا ماننا ہے کہ ”وہ “بیوی ہے ، اب خدا جانے اِن دو مَردوں میں سے کون کس کا شوہر اور بیوی ہے)…اِس ”فطرتی عنسی“ اور ”خلقتی مسیلمی“یعنی مستند لُچّے کے بارے میں ایک معروف لکھاری پیٹرک جانسن نے 10مارچ کو اپنی تحریر میں واضح کیا ہے کہ تحمل اور برداشت کا دم بھرنے والا یورپی معاشرہ کب تک ولکس جیسے ”گستاخوں“ کی وکالت کرتا رہے گا جن کے بے معنی وجود کے سبب ایک کے بعد ایک دہشت گردی کے منصوبے بن رہے ہیں“…وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ اپنے آپ کو ”آرٹسٹ“ کہلوانے والا رات کو اپنے بستر کے نیچے کلہاڑی رکھ کے کیوں سوتا ہے اور مکان کی بالائی منزل پرواقع اپنے کمرے کو کسی خوف زدہ شخص کے غار میں کیوں تبدیل کردیا ہے ؟پیٹرک جانسن نے یورپی ممالک کے دہرے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک طرف تو یہ ممالک آزادیٴ اظہار کی بات کرتے ہیں جو غیر مسیحوں سے شروع ہوکر اُن ہی پر ختم ہوجاتا ہے مگر جہاں مسیحوں کی بات آتی ہے وہاں ہولوکوسٹ پر تنقید کرنے والے اُس مسیحی کو بھی برداشت نہیں کرتے جس نے اِس متنازعہ داستان پر چند علمی سوالات اُٹھائے تھے اور اُسے گستاخی کا مرتکب قرار دے دیا گیا …
ویسے تو سوئیڈن میں ولکس جیسے بچوں کی پیدائش معمول کی بات ہے ، یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مادر پدر آزاد جنسی تعلق پر تنقید کرنے والے کو حیرت سے نہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، اُسے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا جو مرد کے مرد سے اور عورت کے عورت سے تعلق کو غیر فطری قرار دے ، یہاں وسعت قلب(معاف کیجیے گا) خباثتِ عقل سے ایسے تمام رشتوں کو قبول کیا جاتا ہے جو ایک ہی جنس سے دور تک جُڑے بلکہ مُڑے تُڑے ہوتے ہیں…یہاں شادیوں کی تقریبات بڑی منفرد ہوتی ہے ، ذرا تصور کیجیے کہ دولہا کے برابر میں ایک اور دولہا کیسا لگے گا؟ ویسے تو اچھا لگے گا بس یہ نہ پوچھ لیجیے گا کہ ”دلہن کہاں ہے“؟ کم بخت ایسی کھاجانے والی نظروں سے آپ کو دیکھیں گے کہ جیسے کہہ رہے ہوں”اے دقیانوسی! یہاں سے فوراً چلا جا، ورنہ تجھے بھی دولہا بنانے میں دیر نہیں لگائیں گے “…اِنہیں کتوں کی ہر ادا سے پیار ہے اِسی لیے یہ بھی اپنے شہر کی گندی گلیوں اور تاریک کونوں میں کتوں کی طرح ایک دوسرے سے بوس و کنارکرتے ہوئے آپ کو بآسانی دکھائی دیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ جانوروں کے برعکس یہ محبت میں اِس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ اِس خواہش کے لیے مرد ہو یا عورت اب یہ اہتمام بھی ضروری نہیں سمجھتے…بس پیاس پوری ہو،فوری ہو، یقینی ہو اور کہیں بھی ہو… چاہے کوئی دیکھ رہا ہویا نہ دیکھ رہا ہو…اگر دیکھ رہا ہے تو اچھا ہے سوئیڈن میں ”تہذیب “ سے رہنا سیکھ جائے گا اور اگر نہیں دیکھ رہاتوظالم حسد کی آگ میں جل رہا ہے کہ اُسے ایسا ساتھی کیوں نہ ملا؟…میرا ذاتی خیال ہے (کیونکہ لارس ولکس کے ماں باپ کا کوئی اتا پتا نہیں)کہ لارس ولکس بھی اسٹاک ہوم کی ایسی ہی کسی گندی اور بدبودار گلی کے کونے میں بڑے کوڑے دان کے ڈھیر میں ناجائز تعلق کے بعد پھینکا جانے والاگوشت کا وہ لوتھڑا ہے جسے اپنے گمنام ماں باپ کی شکلیں اپنے ہی بنائے ہوئے خاکوں میں دکھائی دیتی ہیں…اب یہ لگ بات ہے کہ اپنے اوپر ”ناجائز اور نطفہٴ حرام“کا لیبل چسپاں ہونے کے سبب وہ کارٹون کو کوئی بھی نام دیتا پھرے، دراصل ہے تو وہ اُسی کا عکس…
15اکتوبر2009کو تہذیب و تمدن اور اخلاقیات کے علمبردار اِس ملک کے ایک ”ٹیچر“ کو رنگے ہاتھوں اُس وقت گرفتار کیاگیا جب وہ اپنے شاگردوں کو (اُن کی مرضی و منشا کے مطابق) مناسب رقم کے عوض جنسی تعلق قائم کرانے کے لیے ”اعلیٰ شخصیات“ کے پاس بھجوانے کا ”دھندہ“ مدتوں سے بلاخوف و خطر کررہا تھا…موصوف پکڑے اِس وجہ سے گئے کہ ایک 17سالہ لڑکی کو بھی اُنہوں نے اُس کی خواہش کے مطابق کسی ممتاز کاروباری شخصیت کے پاس بھجوادیا اور وہ سوئیڈن کے آزاد جنسی قانون کے مطابق متعین حد سے ایک برس کم کی نکلی…بس ٹیچر صاحب اِسی جرم میں پکڑے گئے، عدالت میں جرمانہ بھرا اور واپس اسکول آکر ”پڑھانے “ لگے اور اسکول نے بھی اِس دلیل کے ساتھ عظیم معلم کو دوبارہ قبول کرلیا کہ ”قصور لڑکی کا تھا ، اُسے بتانا چاہیے تھا کہ وہ17سال کی ہے 18کی نہیں، لہٰذا ٹیچر صاحب، آپ کی کوئی غلطی نہیں، تشریف لائیے اور یونہی بچیاں بیچتے رہیے“…واہ سوئیڈن واہ! جہاں ایسے اُستاد ہوں گے وہاں لارس ولکس جیسے بچے جنم نہیں لیں گے تو اور کون پیدا ہوگا؟
ویسے تو اِس خبیث کو دیکھ کر جنگل کے جانور بھی اِسی طرز پر دعا مانگتے ہوں گے کہ شیر بارگاہ میں عرض کرتا ہوگا کہ حمد اُس رب کی جس نے مجھے شیر بنایا چیتا نہیں بنایا…چیتا کہتا ہوگا، حمد اُس رب کی جس نے مجھے چیتا بنایا گیدڑ نہیں بنایا…گیدڑ کی بھی کچھ ایسی ہی التجا ہوگی کہ حمد اُس رب کی جس نے مجھے گیدڑ بنایا،کتا نہیں بنایا…اور کتا تو یقینا یوں شکر ادا کرتا ہوگا کہ حمد اُس پروردگار کی جس نے مجھے کتا بنایا سؤر نہیں بنایا…اب رہ گیا سؤر تو بلاشبہ وہ اِس سے بہتر کوئی اور دعا مانگ ہی نہیں سکتا کہ …حمد اُس مالک و مختار کی جس نے مجھے سؤر بنایا سلمان رُشدی، لارس ولکس، گیرٹ ولڈر یا کرٹ ویسٹر گارڈ نہیں بنایا…!!
گو کہ سؤر سے بھی بدتر گستاخوں کی فہرست کافی طویل ہے،پھر کوئی گستاخی کر کے دیکھے، عاشق بھی نام لکھنے سے باز نہیں آئے گا (انشا اللہ )…!!!
(بشکریہ روزنامہ جنگ)