پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:34 - GMT 21:34

بازار

ہفتہ 27 ربيع الأول 1431هـ - 13 مارچ 2010م
اوریا مقبول جان

ایک ترقی یافتہ مہذب اور جمہوری ملک صرف انیس سو (1900)ایسی خواتین سے خوفزدہ ہے جو چہرے پر نقاب ڈال کر اس کے بازاروں میں نکلتی ہیں- فرانس کا یہ خوف اس قدر ہے کہ پوری پارلیمنٹ اس پرایک طویل عرصے سے بحث کررہی ہے- پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ ایسی خواتین کی اصل تعداد گن کر بتاؤ جو چہرے کو چھپا کر بازار میں آتی ہیں- بڑے بڑے شاپنگ مال کے کیمرے،جگہ جگہ نصب سیکورٹی کیمرے حتی کہ ٹریفک کنٹرول کرنے کے کیمروں سے اعداد و شمار جمع کئے گئے تو یہ کل انیس سو نکلے یہ انیس سو کمزور ،پردے میں لپٹی اور صرف اپنی ضروریات کے لیے گھروں سے نکلنے والی خواتین اس قدر خطرناک کیوں ہیں؟ پورے فرانس کے چھوٹے چھوٹے قصبوں تک جمع کرکے ان خواتین کواگر پیرس کی شانزے لیزے پر جمع بھی کردیا جائے تو یہ قابل ذکر تعداد نہیں بنتی- لیکن پھر بھی پورے فرانس کا میڈیا اور سیاسی رہنما چیخ چیخ کر ان پر پابندی لگانے کو کہہ رہے ہیں- یہ یورپ کا واحد ملک ہے جو اس نقاب، پر دہ یا چہرے کے ستر کا فرانسیسی ترجمہ نہیں کرتا بلکہ لفظ ’’برقعہ ‘‘ استعمال کرتاہے اور ساری بحث اگرچہ فرانسیسی میں ہو، سارا میڈیا کوئی بھی زبان بولے لیکن ان سب کی گفتگو میں لفظ برقعہ بار بار اپنے اصلی لہجے میں اداکیا ہوا مل جائیگا- اور اب تو یہ لفظ عالمی میڈیا کی ہربڑی زبان کاحصہ بن چکاہے- جس طرح آج سے دس سال پہلے حجاب جو مغربی میڈیا میں اجنبی تھا اب وہ یورپی زبان کا جزو لاینفک ہے -

کیا کبھی کسی نے سوچاہے کہ یہ انیس خواتین جو برقعہ اوڑھ کر گھر سے نکلتی ہیں وہ کونسی دہشت گردی کی مہم کا آغاز کررہی ہوتی ہیں، وہ کونسی آزادی نسواں، حقوق انسانی اور سیکولر طرز زندگی کو چیلنج کررہی ہوتی ہیں- وہ کن جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہیں وہ تو بحیثیت انسان اپنا مرضی سے لباس پہننے کا حق استعمال کررہی ہوتی ہیں- پھر ان کے اس طرح باہر نکلنے سے کس کی دم پر پاؤں آتاہے اور کون ہے جو اس آغاز سے خوفزدہ ہے نہ حجاب کل تک کوئی اخلاقی ، جمہوری اور مذہبی مسئلہ تھا اور نہ برقعہ کسی ایسی جمہوری روایت میں رکاوٹ ہے- صرف ایک لمحے کو گذشتہ ایک سو سال سے پھلتی پھولتی اور اربوں ڈالر کماتی فیشن انڈسٹری کو غور سے دیکھیں تو آپ کو اس سارے غصے اور غیض و غضب کی وجہ سمجھ میں آجائے گی - آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کمزور ،نحیف اور ناتواں انیس سو خواتین نے کن بھیڑیوں کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات کی ہے-

یہ بھیڑئیے پوری دنیا میں بہت معزز اور محترم ہیں- پورا پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا ان کا باج گزار ہے- یہ وہ لوگ ہیں جو اقوام متحدہ کے خواتین کے حقوق کے چارٹر کی خلا ف ورزی کرتے ہوئے عورت کے پاؤں کے ناخن سے لے کر سرکے بالوں تک ہر مقام کوبازار میں لے آئے ہیں لیکن حقوق نسواں کی کوئی تنظیم ان کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی- یہ کئی سو ارب ڈالر کی فیشن اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری کے مالک ہیں- یہ پوری دنیا کی خواتین کو اپنی انگلیوں کے اشارے پر نچاتے ہیں اوران کے جسموں کے تناسب کوبرسرعام نمائش پر رکھ کراپنی دنیا بھر میں پھیلی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا پہیہ گھماتے ہیں- 1910ء میں جب انہوں نے فیشن شوز اور ماڈلنگ کے کاوربار کاآغاز کیا تو انہوں نے خواتین کو نعرہ دیا کہ انہیں نرم و گداز ہوناچاہیے- لیکن صرف دس سال بعد جب 1920ء میں اکثر ملکوں میں عورت کووو ٹ کا حق ملا تو اسے ایک اور دوڑدھوپ میں لگادیا گیاکہ اسے پر گوشت اور گداز نہیں بلکہ پتلی، نرم و نازک اور دھان پان کی طرح ہونا چاہیے اور پھر اس پوری انڈسٹری نے عوتوں کو فاقے کرنے اور رات دن ورزش کرنے جیسے عذابوں میں پھنسا دیا- ٹھیک تیس سال بعد جب ان کی مرضی کے مطابق عورتوں نے خود ان کے بنائے گئے فیشن کے معیارات کے مطابق ڈھال لیا تو بیچاری عورت جسے انہوں نے نمائش کی بھوکی بنادیاتھاایک بار پھر ان کے جال میں آگئی- یہ عرصہ صرف پندرہ سال کاتھا- ادھر خواتین کے حقوق کی جدوجہد شروع ہوئی اور ادھر 1965ء میں پوری فیشن انڈسٹری اور ایڈورٹائزنگ نے خواتین کو کمزور، نازک ، کانچ کی بنی ہوئی اوردبلی پتلی ماڈلز کا تحفہ دیا اورپوری دنیا کی خواتین آج تک اسی خوف کے سائے میں پل رہی ہیں کہ کب ان کے جسم پر ایک پونڈ وزن زیادہ آجائے اور وہ خود کو فاقوں اورورزشوں کی اذیت میں ڈال دیں- ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جسے جوہان ہیری نے ریفرنس کے طورپر پیش کیا، یہ بتایاکہ 80فیصد خواتین اپنے جسمانی تناسب کی وجہ سے ناخوش ہیں اور یورپ اور امریکا کی پانچ کروڑ خواتین ایسی ہیں جو ایک نفسیاتی مرض Anaroxiaکاشکار ہوگئی ہیں جس میں خود بخود بھوک مٹ جاتی ہے اور وزن خطرناک حد تک کم ہوجاتاہے- امریکن سائیکلوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ستر فیصد خواتین ایسی ہیں جو صرف تین منٹ کسی فیشن میگزین کو دیکھ لیں تو ان پر ڈپریشن طاری ہوجاتی ہے- یہ سب میڈیا کے زور دار ہتھیار سے کیا جاتاہے اور وہاں اس بیچاری عورت کو سجا سنوار کر یوں کاورباری منڈی میں کھڑا کیا جاتاہے کہ ہر کوئی اسے تہذیب اور آزادی کے نام پر داد دیتاہے- اس انڈسٹری کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کااندازہ اس سے لگائیے کہ امریکا میں 1971ء تک ٹیلی ویژن پر ہر ہفتے 714کمرشل آتے تھے یعنی ایک سال میں عام آدمی 300کمرشل دیکھتاتھا- جب کہ اب روزانہ ٹیلی ویژن پر تقریباً دو ہزار کمرشل آتے ہیں یعنی ہر سال سات لاکھ تیس ہزار کمرشل اوران میں نوے فیصد سے زیادہ عورتوں کی نمائش سے بھرے ہوتے ہیں- ان کمرشل میں عورتوں کے جسمانی اعضاء کو نمایاں کرکے پیش کیا جاتاہے - جبکہ مردوں میں ان کے چہروں کو نمایاں کیا جاتاہے- اس جسمانی دہشت گردی کا صرف ایک نتیجہ جون النکو ین کی تحقیق سے لگائیں کہ جو مرد اس طرح کے جسمانی خطوط کے اشتہار دیکھتے ہیں ان میں جنسی جرائم، خواتین پر تشدد اور جنسی زیادتی کے رجحانات زیادہ پائے جاتے ہیں- خود اس ساری فیشن انڈسٹری کا اندرونی حال یہ ہے کہ اگست 2009ء میں آنند جون کو 59سال قید کی سزا سنائی گئی جس پر 16ماڈلز اور ایک بچی کے ساتھ زیادتی ثابت ہوئی- وہ اپنے تمام کیرئیر میں کئی سال مسلسل کم سن بچیوں کو ہوس کا نشانہ بناتارہا- یہ وہ فیش ڈیزائنر ہے جس کے کپڑے پیرس ،ہلٹن جیسی مشہور ماڈل بھی پہننے پر فخر کرتی ہے -

میں یہاں ایسے ہزاروں کیس پیش کرسکتاہوں لیکن یہ سب فیشن زدہ ماحول اور طرز زندگی ان جرائم سے خوفزدہ نہیں ہوتا- یہ لوگ انہیں کاروباری اثرات کا نام دیتے ہیں- ایسی وارداوتوں اور اس طرح کے جنسی تلذذ سے تو انہیں اور تحریک ملتی ہے- عورت بازار کی زینت بنتی ہے تو پھراس سے وابستہ اربوں ڈالر کی انڈسٹری کا جائزہ لیجئے جودن رات ترقی کرتی ہے- بالوں کو رنگنے، شیمپوں ، چہرے کے خدوخال ، جسم کے تناسب کے ملبوسات، ہزاروں قسم کے میک اپ ، لاکھوں کی تعداد کے پرفیوم ، بیوٹی پارلر اور جسمانی خوبصورتی کے مراکز، لاکھوں کی تعدا د میں پلاسٹک سرجن ، جوتوں سے لے کر سر اور بالوں تک قابل توجہ پہناوے،آنکھوں ، ہونٹوں اور گالوں کو پرکشش بنانے کے سامان- یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ ان کی تعداد پر جو فہرستیں مرتب ہوئی ہیں وہ بھی کئی سو جلدوں میں ہیں- یہ کئی سو ارب ڈالر کی انڈسٹری ہی نہیں اس کے پیچھے چھپی وہ ہوس بھی ہے جو عورت کو ہر پہلو سے بازار میں لا کراپنے جذبوں کی تسکین چاہتی ہے- جہاں دولت اور جنس کی ہوس اکٹھی ہوجائے وہاں اسے للکارنے والا ایک شخص بھی زہرلگتاہے اور یہاں 1900عورتیں ہیں جو یہ اعلان کررہی ہیں کہ ہم نے تماشہ نہیں بننا، ہم نے بازار میں نہیں کھڑا ہونا، ہم تمہارے اس لائف سٹائل پر لعنت بھیجتی ہیں- یہ کیسا منافق لائف سٹائل اورحقوق نسواں کاایجنڈا ہے جو کچن میں کام کرکے تھکنے والی عورت کو مظلوم کہتاہے اور فیشن کے خبط میں فاقوں مرنے، گھنٹوں ورزش کرنے اور مہینوں صرف جوس اور پانی پر زندگی گزار کر مردوں کے لیے تماشہ بننے والی عورت کو روشن خیال ،آزاد، جمہوریت پسند اور مہذب قرار دیتاہے- فرانس جس میں روزانہ مسلمان ہونے کی تعداد تین سے چار ہے اور جس کے بارے میں یہ اندازہ ہے کہ 2025ء تک یہ مسلم اکثریت کا ملک ہوگا وہاں یہ 1900خواتین اس حرص و ہوس کی منڈی میں ایک ایسا آغاز ہیں کہ اگر اسے کچلا نہ گیا تو کل یہ سوال عام ہوسکتاہے کہ اس سارے دھندے میں عورت ہی تماشہ کیوں بنتی ہے، اسی کی عریانی کیوں بیچی جاتی ہے، اسے ہی بازار میں لا کر کیوں کھڑا کیا جاتاہے آرٹ ، ادب، فیشن اور آزادی کے نام پر-

(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)