پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:32 - GMT 21:32

عراق جنگ کے 7 سال اور انتخابات!!

اتوار 28 ربيع الأول 1431هـ - 14 مارچ 2010م
انور غازی

مارچ 2003ء میں عالمی ٹھیکیدار اور انصاف کے نام نہاد علمبردار امریکہ نے عراقی عوام کو ”نجات“ دلوانے کا فیصلہ کیا۔ صدام حسین، جو چند سال پہلے تک اس کا جگری دوست ہوا کرتا تھا، اسے ظالم ثابت کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانے تراشے گئے۔ عراق کے پاس انسانیت کے لیے مہلک ترین ہتھیاروں کا پہلے پروپیگنڈا اور پھر ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ بالآخر 20 مارچ 2003ء کو عالمی رائے عامہ کو مسترد کرکے سلامتی کونسل کے پُرامن حل کے لیے کی گئی تمام کوششوں کو پس پشت ڈال دیا۔ طاقت کے غرور میں عراق کو غیر مسلح کرنے کا بہانہ تراش کر حملہ کردیا گیا۔ اس کے بعد سے عراق میں قتل وغارت، جبروتشدد، ظلم وستم بھوک وافلاس، تباہی وبربادی، بدامنی وطوائف الملوکی، دھماکوں اور خودکش حملوں، فرقہ ورانہ فسادات، آہوں اور سسکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس روز سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب لاشیں نہ گرتی ہوں۔ جب امریکی فوجی نہتے عراقیوں کو گولیوں کا نشانہ نہ بناتے ہوں۔ جنگ کے پہلے سال عراق میں 3 سو سائنس دانوں اور اڑھائی سو دیگر ماہرین کو چن چن کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ عراقی یونیورسٹیوں سے صدام نواز افراد کو بے دخل اور اغوا کیا گیا۔ جنگ کے پہلے سال 70 ہزار عراقی شہید ہوئے۔ لاکھوں زخمی، معذور اور اپاہج ہوئے۔ 2004ء میں عراق میں امریکہ کی قید میں عراقی شہریوں کی تعداد 8 ہزار 3 سو تھی۔ اسی سال ایک امریکی جنرل نے ان مظلوم وبے بس عراقی قیدیوں پر ظلم وستم کے 24 نئے طریقے آزمائے۔ 24 اپریل 2004ء میں ابوغریب جیل میں عراقی قیدیوں پر ہونے والے تشدد کی تصاویر عالمی میڈیا پر آئیں۔ امریکی فوجیوں نے تمام اُصول وضوابط اور مسلّمہ عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے شرمناک طریقے سے عراقی خواتین کے ساتھ بھی غیرانسانی سلوک روا رکھا۔ جس کے بارے میں عراقی ماؤں بہنوں کے کئی دلخراش خطوط میڈیا پر آچکے ہیں۔ نومبر 2004ء ہی میں امریکیوں نے فلوجہ پر تسلط حاصل کرنے کے لیے شہری آبادی پر اندھا دھند بمباری کرکے سیکڑوں شہریوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کیا۔ یہ سال عراقیوں کے لیے دکھوں کا سال رہا۔ امریکہ پوری طاقت استعمال کرنے کے بعد بھی عراقیوں کی کمر نہ توڑسکا۔ مارچ 2005ء کو امریکی حملے کے تیسرے سال کی ابتدا میں دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف ریکارڈ احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

اسی سال امریکہ نے الیکشن کے نام پر سلیکشن کرواکر جلال طالبانی کو عراق کا صدر اور نوری المالکی کو وزیراعظم بنادیا۔ ان انتخابات میں عراق کی سنی اکثریت نے بائیکاٹ کیا جس کے باعث شیعہ پارٹیوں کو اکثریت ملی۔ اس اکثریت کی مدد سے نوری المالکی وزیراعظم بنے۔ سنی تنظیموں کے انتخابی عمل سے علیحدگی کے باعث سامراجی عزائم تو پورے ہوگئے لیکن سنی اکثریت میں احساس محرومی میں اضافہ ہوا جس کے اثرات عراق میں تشدد کے غیر معمولی اضافے کی صورت میں دیکھنے کو ملے۔ 2005ء سے 2007ء تک دو سالوں میں شیعہ سنی سول اختلافات عروج پر رہے۔ اس عرصے کے دوران صرف بغداد میں ہر ماہ اوسطاً 3 ہزار افراد قتل کیے جاتے رہے۔ شیعہ سنی فسادات میں امریکہ کا مرکزی کردار تھا۔ امریکہ ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال افغانستان میں طالبان اور حزب اسلامی کے مابین لڑائی ہے جس میں 95/ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ یہ خانہ جنگی اس وقت کروائی جارہی ہے جب افغان جنگ میں امریکہ کو شکست ہوچکی ہے اور امریکہ بھاگنے کے راستے تلاش کررہا ہے۔ جب کوئی حل نہ نکلا تو سامراج افغانستان میں برسرپیکار مختلف جماعتوں کو لڑوانے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکہ نے عراق کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے بھاری بھر کم رقوم خرچ کرکے کئی دیواریں بھی بنوائی۔ 23 فروری 2006ء کو عراق میں بڑے پیمانے پر خون ریزی ہوئی۔ بغداد کے مردہ خانے میں گولیوں سے چھلنی 85 لاشیں لائی گئیں۔ نہروان کے علاقے میں امریکی فوجیوں کی ایک کارروائی سے 47 شہری شہید ہوگئے۔ بصرہ میں 11 قیدیوں کو اذیت ناک طریقے سے شہید کیا گیا۔ بغداد کے ایک علاقے میں ایک مسجد نذرِ آتش کی گئی۔ انہی دنوں بغداد کے جنوبی علاقے محمدیہ میں امریکی فوجیوں نے ایک 14 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی اور بعدازاں اسے بے دردی سے قتل کردیا۔ اسی ہفتے ایک اور علاقے میں امریکی فوجی تلاشی لینے کے بہانے ایک گھر میں زبردستی گھس گئے اور گھر میں موجود بچیوں کی عزت اور گھر سے مال لوٹ کر فرار ہوگئے۔ جنوری 2007ء سے 20 مارچ 2007ء تک تین ماہ کے دوران عراق شدید فرقہ واریت کے ناسور میں مبتلا رہا۔

2003ء سے 2008ء تک مجموعی طورپر 12 لاکھ 25 ہزار بے گناہ عراقی شہریوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس دوران 20 لاکھ افراد اپنا وطن چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ مصر میں پناہ حاصل کرنے والے عراقیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار ہوچکی ہے جبکہ شام میں مہاجرین کی تعداد 13 لاکھ اور اردن میں 8 لاکھ ہے۔ امریکی فوج نے درجنوں صحافیوں کے خلاف بھی کارروائی کی۔ صرف مفکرة الاسلام کے 9 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ کل 87 صحافیوں، 22 میڈیا ورکرز، 125 مختلف این جی اوز کے اہلکار ہلاک ہوئے۔ عراق جنگ میں چونکہ امریکہ کا بھی ریکارڈ مالی وجانی نقصان ہورہا تھا۔ عرب اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق 45000 امریکی اس جنگ میں مارے گئے۔ ہزاروں نفسیاتی مریض بن گئے۔ سیکڑوں زخمی ہوئے۔

جب امریکی تابوت بکثرت امریکہ پہنچنے لگے تو امریکی عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف ہوگئے۔ عراق جنگ ختم کرنے کے لیے آئے دن مظاہرے اور احتجاج ہونا شروع ہوگئے۔ اسی دوران 2008ء میں امریکہ کے صدارتی انتخابات ہوئے تو جنگوں کا شوقین امریکی صدر بش بری طرح شکست کھاگئے۔ اوباما نے چونکہ اپنی الیکشن کمپین کے دوران نعرہ لگایا تھا وہ یہ جنگیں ختم کردیں گے۔ دنیا کو بدل دیں گے۔ امریکہ اور امریکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے غم وغصے اور نفرت کو کم کرنے کی کوششیں کریں گے۔ مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جائیں گے۔ چنانچہ اوباما نے آتے ہی کوششیں شروع کیں۔ عرب ممالک کا دورہ کیا۔ جامعہ ازہر میں مسلمانوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا تہیہ کیا۔ پہلی فرصت میں عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کیا۔ چنانچہ اسی سال عراق کے کئی شہروں سے امریکی افواج نکل کر چھاؤنیوں تک محدود ہوگئی۔ مسٹر اوباما کا کہنا ہے اس سال اگست تک لڑاکا امریکی افواج سے نکل جائے گی جبکہ امریکی واتحادی افواج کی مکمل واپسی اگلے سال ہونی ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے عراق سے مکمل واپسی سے قبل وہ عراق میں ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں عراق کا اقتدار تھمادیں جو اس خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرے۔ ایسی حکومت قائم کرنے کے لیے 7 مارچ 2010ء کو انتخابات کروائے گئے۔ 19 ملین ووٹرز نے ان انتخابات میں 325 ممبران پارلیمنٹ کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ کا استعمال کیا۔ دنیا کے 16 ممالک میں مقیم 14 لاکھ عراقی شہریوں نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ عراقی پارلیمنٹ کی 325 نشستوں کے لیے 6 ہزار 208 اُمیدوار مدمقابل تھے۔ اُمیدواروں میں ایک ہزار 801 خواتین بھی شامل تھیں۔ پولنگ کے لیے 46 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔ عراق پر 2003ء میں امریکی حملے کے بعد سے یہ دوسرے انتخابات تھے۔

2005ء کے انتخابات کے برعکس اس مرتبہ سنی عراقیوں نے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کیا۔ ان انتخابات میں نوری المالکی کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں 30 فیصد نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے، لیکن صرف 30 فیصد نشستوں پر کامیابی حکومت بنانے کے لیے کافی نہیں۔ اس مقصد کے لیے مالکی کی پارٹی کو فیاض علاوی کی ”قومی تحریک“ کا تعاون حاصل کرنا پڑے گا یا پھر ”عراقی نیشنل الائنس“ سے معاہدہ کرنا ہوگا۔ قومی تحریک کو 22 فیصد اور نیشنل الائنس کو 17 فیصد نشستیں ملنے کا امکان ہے لیکن ان دونوں پارٹیوں کے زعما نے اعلان کیا ہے وہ مالکی کو بطور وزیراعظم تسلیم نہیں کریں گے۔ البتہ وہ مالکی کے الائنس سے مل کر حکومت بناسکتے ہیں۔ عراق کی انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نیا گروپ ”کوران پارٹی“ کے نام سے منصہ شہود پر آیا ہے۔

کوران پارٹی ملک میں تبدیلی لانے کی دعویدار ہے، اسی وجہ سے اس کو عراقی عوام میں پذیرائی مل رہی ہے۔ تا دم تحریر حکمران جماعت کو برتری حاصل ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی نظریں عراق پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ اگلے سال مکمل امریکی انخلا کے بعد عراق کی آیندہ حکومت اس خطے بلکہ پوری دنیا میں اثرات مرتب کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی بنا پر عراق کے یہ انتخابات امریکہ وبرطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہم رہے، لیکن سوال یہ ہے کیا ان انتخابات سے کوئی ایسی حکومت جنم لے سکتی ہے جو عرب ممالک کے ساتھ آزادانہ طورپر اپنے تعلقات استوار کرسکے۔ جو شام اور ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے والی ہو۔ جو اسرائیلی جارحیت کے خلاف توانا آواز اُٹھاسکے۔ یقینا امریکہ کسی بھی ایسی حکومت کو مستحکم نہیں ہونے دے گا۔ وہ عراق پر اربوں ڈالر کی ”سرمایہ کاری“ کرچکا ہے۔ وہ کبھی یہ نہیں چاہے گا اس کے مفاد کے خلاف کام کرنے والا کوئی اور ”صدام حسین“ ایوانِ اقتدار تک پہنچ جائے!

(بشکریہ روزنامہ جنگ)