پیر 25 ربيع الأول 1432هـ - 28 فروری 2011م
آخری وقت اشاعت: اتوار 09 ذی القعدہ 1431هـ - 17 اکتوبر 2010م KSA 00:31 - GMT 21:31

امریکہ جا رہا ہے…!

بدھ 01 ربيع الثاني 1431هـ - 17 مارچ 2010م
عظیم سرور

سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ ایک ٹاک شو میں بتا رہے تھے کہ جب افغانستان میں سوویت یونین کی شکست واضح ہو گئی اور اس کی فوجیں جانا شروع ہو گئیں تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ بس اب سوویت یونین دیر تک اپنی شکست کے داغ دھوتا رہے گا اور اپنی چوٹوں کو سہلاتا رہے گا ۔ ایک ماہ پہلے تک نہ ہمارے وہم و گمان میں یہ بات تھی اور نہ ہی امریکہ کو یہ بات معلوم تھی کہ سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ جب گوربا چوف کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مالی اور معاشی وسائل ایسے نہیں ہیں کہ وہ اتنے بڑے ملک کو چلا سکیں تو اس خبر نے ہمیں اور امریکہ کو حیرت کے سمندر میں غرق کر دیا ۔سوویت صدر برزنیف نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی تو اس کا اعتماد بعد کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جیسا تھا خیال تھا کہ معرکہ چند ہفتوں یا مہینوں میں سرخرو ہو جائے گا لیکن 9سال گزر گئے معرکہ سر ہونے نہ دیا پھر تاریخ نے سوویت یونین کا صدر گوربا چوف کو بنایا اور اس کے ہاتھوں سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے کروا دیئے۔اس کے بعد تاریخ نے افغانستان پر امریکہ کو حملہ آور بنا کر لانے کے لئے جارج بش کو صدر بنوایا اور اس کے بعد بارک اوبامہ کو صدر بنانے کا اہتمام کیا ۔ جس طرح سوویت صدر گوربا چوف نے افغانستان سے روس کی فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا تھا اسی طرح بارک اوبامہ نے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کی تاریخ طے کر دی ہے۔

اس آخری مرحلے پر جب واپسی کی تاریخ بھی طے پا گئی ہے امریکی فوجوں کی کارروائیاں مختلف حلقوں میں مختلف معانی تخلیق کر رہی ہیں اس پر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چراخ بجھنے سے پہلے اس طرح بھڑکا کرتا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس طرح اب وہ افغانوں کو توڑ دے گا اور ڈالر سے ان کو خرید لے گا ۔ بالکل اسی طرح سوویت یونین کے آخری دور میں یہاں اس کے حامی بھی ”سرخ سویرا دستک دے رہا ہے “ اور ”سرخ پرچم لہرانے والا ہے “کے نعرے اخباری مضامین کی زینت بنایا کرتے تھے۔ مرحوم اجمل خٹک کابل سے صدا دیتے تھے کہ میں ”سرخ ڈولی میں آؤں گا! “ ۔ آج بھی امریکہ کو واحد سپر طاقت سمجھنے والے کہتے ہیں کہ امریکہ عراق والی حکمت عملی افغانستان میں چلا کر کامیابی حاصل کر لے گا ۔ ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ عراق کی تاریخ اور ہے اور افغانستان کی تاریخ اور ہے۔ عراق میں کوفہ ہے جس نے تاریخ میں کئی المناک داستانیں رقم کی ہیں۔ افغانستان میں غزنی ہے جہاں سے ایک بت شکن اٹھا تھا افغانستان کی تاریخ بت شکنی سے بھری ہوئی ہے۔ بت شکنی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے اور وہ اس کا انعام بھی دیتا ہے۔ یہ سنت ابراہیمی اور سنت نبوی ہے۔ افغانستان نے انگریزی سامراج کے بت کو پاش پاش کیا ۔ کمیونزم کے بت کو ایسا توڑا کہ اس کو اس کے اپنے ملک میں پناہ ملی۔اب سرمایہ داری کا بت ہے اور دنیا اس بت کا مقدر دیکھنے کی منتظر ہے۔

جارج بش نے افغانستان کو چنے بھوننے کی بھٹی سمجھا تھا۔ جہاں سے وہ چنے بھنوا کر مزے سے پھانکتا ہوا چلا جائے گا ۔ سینٹرل ایشیا سے پٹرول اور معدنیات کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔ پاکستان اور ایران اس کے زیر نگین ہوں گے۔ چین کے گرد گھیرا تنگ ہو گا اور ایشیاء کی سونی گلیوں میںYANKEEیار پھرے گا۔ امریکہ نے افغانستان کو طالبان پر گمان کیا تھا۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ افغانستان طالبان کا نام اس کے اور کوئی ملا عبدالغنی یا ملا ضعیف بھی افغانستان کا نام نہیں ہے۔ افغانستان روح کا نام ہے۔ رضی اختر شوق نے کیا خوبصورت شعر کہا تھا۔
ہم روح سفر میں ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ
افغانستان کبھی محمود غزنوی ہے، کبھی شہاب الدین غوری اور کبھی احمد شاہ ابدالی، اور روح کبھی مرا نہیں کرتی ۔

امریکہ نے افغانستان کی جنگ میں کھربوں ڈالر جھونک دیئے ہیں ۔ اس موہوم سی امید پر کہ شاید وہ یہ خسارہ وسط ایشیا کے پٹرول کی ترسیل سے پورا کر لے گا ، وہ آخری معرکے لڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس کی معیشت کی جو ہوا اکھڑ رہی ہے وہ آنے والے طوفان سے بچ جائے اور شاید اس مدت میں کوئی معجزہ رونما ہو جائے گا ۔امریکہ کا یہ پول بھی اب کھل گیا ہے کہ وہ امریکی ڈالر بغیر سونے کی ضمانت کے چھاپ رہا ہے۔ امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر تو روپے کی قدر کم کرانے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ڈالر ( خاص کر یورو کے مقابلے میں) مسلسل گر رہا ہے۔ حال ہی میں چین نے اپنی کرنسی یوان کی قیمت کم کرنے کے مطالبے پر امریکہ کو ٹکا سا جواب دے دیا ہے۔ چین کو معلوم ہوا کہ امریکہ کے ڈالر کے برابر اس کے خزانے میں سونا موجود نہیں ہے تو اس نے عالمی مارکیٹ سے سونا خریدنا شروع کر دیا اور اسی باعث سونے کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
آگے کے منظر نامے میں جب امریکہ کی فوجیں افغاستان سے رخصت ہو جائیں گی تو جس طرح1970ء میں فرانس نے ڈالرز کے عوض امریکہ سے سونا طلب کیا تھا۔ اسی طرح دنیا کے اور ممالک خاص طور پر چین، سعودی عرب اور یورپی ملک ڈالرز کے عوض سونا طلب کریں گے اور جب امریکہ مطلوبہ سونا نہ دے سکے گا تو امریکہ کی معیشت پر بوجھ پڑے گا ۔دنیا کے معیشت دان کہتے ہیں کہ اس صورت میں امریکہ کے سرمایہ دار نظام کو ایسا جھٹکا لگے گا کہ کئی بڑے بڑے ادارے بیٹھ جائیں گے اور بیروزگاری اب سے4گنا زیادہ ہو جائے گی۔ ایسے میں امریکہ میں لوٹ مار انارکی اور خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو گی اور کئی امیر امریکی ریاستیں جو غریب امریکی ریاستوں کو پالتی ہیں الگ ہونے کی آواز بلند کریں گی۔ سوویت دانشور اور امریکی سی آئی اے کے سابق ماہرین یہ پیشگوئی کر چکے ہیں کہ امریکہ میں حالات سنبھالنے کے لئے مارشل لاء لگانا پڑے گا اور اتنے بڑے ملک کے انتظام کے لئے دنیا بھر سے امریکی فوج کو واپس بلانا پڑے گا ۔
دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے توازن پر رکھا ہے۔ امریکہ نے اس توازن کو بگاڑنے کی جو کوشش کی ہے لگتا ہے اس کو قدرت ناکام بنا رہی ہے۔ براعظم شمالی امریکہ صرف 2ملکوں ، امریکہ اور کینیڈا پر مشتمل بنا ہوا ہے۔ اس کے برعکس براعظم جنوبی امریکہ میں20سے زائد ملک ہیں۔

براعظم افریقہ کے ملکوں کی تعداد 50سے زائد ہے۔ اسی طرح براعظم ایشیاء اور یورپ بھی کثیر الملکی براعظم ہیں۔ امریکہ اتنے بڑے ملک کا مالک بنائے جانے کے بعد
جس طرح دنیا کام توازن بگاڑنے کی کوششوں میں لگ گیا اس کوشش نے اس سے بھیانک مظالم اور جرائم کروائے۔ دنیا شاید جلد دیکھے گی کہ اب شمالی براعظم امریکہ میں بھی توازن کا نظام قائم ہو گا اور اس کی ریاستیں بھی علیحدہ اوطان کے روپ میں ابھریں گی ۔ حالیہ الیکشن میں نائب صدر کے عہدے کی امیدوار سارہ پالین الاسکا کی علیحدگی کی تحریک کی رکن رہ چکی ہیں۔ ایسی تحریکیں ایک دم زندہ ہو جائیں گی اور شمالی اور جنوبی امریکہ میں توازن قائم ہو جائے گا ۔

ہو سکتا ہے کہ دو تین سال بعد کسی ٹی وی ٹاک شو میں کوئی سابق سیکرٹری خارجہ یہ بتا رہا ہو کہ امریکہ کے افغانستان سے جانے سے ایک ماہ پہلے تک ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ بس امریکہ افغانستان سے چلا جائے گا لیکن ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ امریکہ چلا ہی جائے گا ۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ)